Breaking News
Home / اہم ترین / ہادیہ والدین کی قید سے آزاد ۔سپریم کورٹ میں بولیں ہادیہ، مجھے میری آزادی چاہئے۔تمل ناڈو میں تعلیم مکمل کر نے کی اجازت

ہادیہ والدین کی قید سے آزاد ۔سپریم کورٹ میں بولیں ہادیہ، مجھے میری آزادی چاہئے۔تمل ناڈو میں تعلیم مکمل کر نے کی اجازت

نئی دہلی(ہرپل نیوز، ایجنسی)28نومبر۔ سپریم کورٹ نے آج اپنے عبوری حکم میں کیرالہ کے نام نہاد لوجہاد معاملے میں ہادیہ (اکھیلہ اشوکن) کو پڑھائی مکمل کرنے کے لئے میڈیکل کالج میں داخلہ اور ہاسٹل کی سہولت دستیاب کرانے کا فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر پیش ہو کر ہادیہ نے کہا کہ وہ والدین کے قبضے سے آزادی چاہتی ہے ۔ اس نے چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ کے سامنے کہا کہ "مجھے آزادی چاہئے۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں"۔۔جسٹس مشر ا کے علاوہ جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ پر مشتمل بنچ نے ہادیہ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی طبی تعلیم سرکاری اخراجات پر جاری رکھنا چاہتی ہیں؟ تو اس نے کہا کہ "میں تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہوں، لیکن جب میرے شوہر میرا خرچ برداشت کر سکتے ہیں تو حکومت کے اخراجات پر تعلیم کیوں حاصل کروں ؟ "۔ جسٹس چندر چوڑ کے سوال پر ہادیہ نے کہا کہ وہ اپنے شوہر سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔اس کے بعد عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہادیہ کو اپنی تعلیم کے لئے تمل ناڈو کے سلیم میں واقع میڈیکل کالج میں داخلہ دیا جائے، اور اس کو کالج کے ہاسٹل میں رہائش کی سہولت بھی مہیا کرائی جائے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی آئندہ سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے میں کرے گا، تب تک سلیم میں ہومیوپیتھک کالج کے ڈین ہادیہ کے سرپرست ہوں گے اور هاديہ کو کوئی پریشانی ہونے پر ان سے رابطہ کر ے گی۔عدالت عظمی ٰنے کیرالہ پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ہاد یہ کو سیکورٹی فراہم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ جلد از جلد سلیم پہنچ سکے گی۔ اس دوران قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) نے عدالت میں 100 صفحات کی رپورٹ سونپ دی ہے۔واضح رہے کہ ہادیہ سپریم کورٹ میں ذاتی پیشی کے لئے اپنے والدین کے ہمراہ کوچی سے دہلی پہنچی تھی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/bamGj

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے