Breaking News
Home / اہم ترین / ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں 74فیصد پولنگ۔ ووٹنگ کے اختتام پر ویربھدر نے تسلیم کی شکست، کہا ہائی کمان نے کی بڑی غلطی

ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں 74فیصد پولنگ۔ ووٹنگ کے اختتام پر ویربھدر نے تسلیم کی شکست، کہا ہائی کمان نے کی بڑی غلطی

شملہ، (ہرپل نیوز، ایجنسی)9نومبر۔ ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات میں آج شام پانچ بجے تک ریکارڈ 74فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ڈپٹی ریٹرننگ کمشنر سندیپ سکسینہ نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولنگ مکمل طورپر پرامن طریقہ سے ہوئی اور مجموعی طورپر50لاکھ 25ہزار 941رائے دہندگان میں سے شام پانچ بجے تک 74فیصد نے ووٹ ڈالے۔اس کے بعد بھی 500پولنگ مراکز پر رائے دہندگان کی قطار لگی ہوئی تھی۔واضح رہے کہ اس چناؤ میں مرد رائے دہندگان کی کل تعداد 25 لاکھ 68 ہزار 761 ہے ،جس میں 25لاکھ 31 ہزار 321 عام رائے دہندگان ، اور 37 ہزار 440 ووٹر خدمات کے شعبے میں کام کرتے ہیں ۔ جبکہ 24 لاکھ 57 ہزار 166 خواتین رائے دہندگان تھیں۔

ہماچل ووٹنگ کے اختتام پر ویربھدر نے تسلیم کی شکست، ہائی کمان نے کی بڑی غلطی: ہماچل اسمبلی انتخابات کو لے کر ویر بھدر سنگھ نے ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی پر نشانہ لگایا. ووٹنگ کے بعد شملہ میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچے ویر بھدر سنگھ نے اپنی پارٹی پر بھڑاس نکالی۔وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ نے کہا کہ ٹھيوگ میں ہائی کمان نے جسے ٹکٹ دیا ہے وہ جیت جائے گا نہیں۔ کانگریس نے ٹھيوگ میں کمزور امیدوار میدان میں اتارا ہے۔ انہوں نے کہا کی ودیا سٹوکس نے الیکشن لڑنے سے انکار کیا تھا اور انہوں نے اپنے امیدوار کو ٹکٹ دینے کی وکالت کی تھی لیکن انہیں نہ دے کر کسی اور کو دے دی ہے جس سے یہ سیٹ کانگریس ہارے گی۔یہی نہیں سی ایم ویر بھدر سنگھ نے شملہ شہری میں کانگریس کے امیدوار کو لے کر بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کی شملہ شہر میں کانگریس کا امیدوار کافی کمزور ہے اور آزاد امیدوار کو یہاں سے انتخاب لڑ رہے ہیں وہ الیکشن جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کی ہریش جنارتھا پانچ سالوں سے لوگوں کے درمیان رہ رہے اور کافی کام کیا ہے۔

سلامتی کے سخت انتظامات کے درمیان ہماچل پردیش اسمبلی کی تمام 68 سیٹوں کے لئے آج صبح 8 بجے سے ووٹنگ شروع ہو ئی ۔ ووٹنگ کے لئے 7525 پولنگ مراکز بنائے گئے ہیں جہاں 50 لاکھ سے زائد ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکتے تھے۔آزاد اور منصفانہ انتخاب کرانے کےلئے 983 پولنگ بوتھوں کو انتہائی حساس اور 399 پولنگ بوتھوں کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ اس الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ 11 ہزار 50 و ی وی پیٹ کا بھی استعمال کیا گیا۔شام 4 بجے تک 64.80 فیصد پولنگ ، ہرولی میں سب سے زیادہ ووٹنگ۔کانگڑہ ضلع میں سب سے زیادہ 297 اور کنور ضلع میں سب سے کم دو پولنگ بوتھ انتہائی حساس ہیں۔ چمبا ضلع میں 601، کانگڑہ ضلع میں 1559، لاہول اسپیتی ضلع میں 93، کلو ضلع میں 520 ، منڈی ضلع میں 1092، ہمیر پور ضلع میں 525، انا ضلع میں 509، بلاسپور ضلع میں 394، سولن ضلع میں 538، سرمور ضلع میں 540م، شملہ ضلع میں 1029، اور کنور ضلع میں 125 پولنگ مراکز بنائے گئے ہیں ۔بی جے پی اور کانگریس نے سبھی 68 سیٹوں پر اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے۔ بہوجن سماج پارٹی نے 42، مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نے 14، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی نے تین اور راشٹروادی کانگریس پارٹی اور سماج وادی پارٹی نے دو دو سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو کھڑا کیا تھا۔اس کے علاوہ 112 آزاد امیدوار نے بھی اپنی قسمت آزاما ئی ۔ خیال رہے کہ کانگریس ، وزیراعلی ویربھدر سنگھ کی قیادت میں انتخاب میں حصہ لیا ۔ دوسر ی طرف بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی کو اکثریت حاصل ہونے پر سابق وزیراعلی پریم کمار دھومل ریاست کے اگلے وزیراعلی ہوں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/oK16E

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے