Breaking News
Home / اہم ترین / ہندتو والوں کو ایک مشورہ خبرونظر ۱۹؍ جون ۲۰۱۶ء

ہندتو والوں کو ایک مشورہ خبرونظر ۱۹؍ جون ۲۰۱۶ء

Slide1

ہندتو والوں کو ایک مشورہ

آکارپٹیل نے ہندتو والوں کو مشورہ دیا ہے کہ مسلم مخالف بیان بازی چھوڑ کر مثبت ہندتو پر عمل کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ ہندتو ہندوؤں کو کوئی فائدہ پہنچائے بغیر صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے اور یہ ہرلحاظ سے غلط ہے۔ آکار نے اس کی کئی مثالیں بھی دی ہیں۔ (۱) اجودھیا آندولن جس کا مقصد مسلمانوں کو ان کی مسجد سے محروم کردینے کے سوا کچھ نہیں (۲) یکساں سول کوڈ یعنی مسلمان اپنے مذہبی احکام پر عمل نہ کرنے پائیں (۳) دفعہ ۳۷۰یعنی مسلمان اپنی آئینی خود مختاری سے محروم ہوجائیں۔ آکار نے اِس ذیل میں پاکستان کی مثالیں  بھی دی ہیں کہ وہاں بھی اسلامی سخت گیر سرگرم ہیں لیکن ان کی سخت گیری صرف مسلمانوں کے لئے ہے۔غیر مسلم اقلیتوں کےلئے  نہیں، الکحل پر پابندی ہے لیکن صرف مسلمانوں کے لئے ،سود حرام ہے  جس کا مطلب ہے پورے پاکستان کی معیشت کا بیٹھ جانا،لیکن اس سے ان کے عقیدے کے مطابق برکت ہوگی۔ اگر اقلیتوں کے ساتھ بھید بھاؤ ہے تو علانیہ اور دستوری ہے۔ کوئی عیسائی پاکستان کا صدر او ر کوئی ہندو وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ (یعنی پاکستانیوں نے شہریوں کو یہ فریب نہیں دیا کہ دستور میں تو آزادی رکھی  لیکن عملاً پابندی ہے۔)

 

مثبت سوچ میں سب کا فائدہ ہے

انگریزی کے اِس مشہور کالم نگار کا کہنا ہے کہ موجودہ ہندتو منفی ہے اور اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں، سب کا نقصان ہے۔ اس کے برعکس مثبت ہندتو میں ہندوؤں کا زبردست فائدہ ہے، دوسروں کا کوئی نقصان نہیں۔ اور مثبت ہندتو آکار پٹیل کے نزدیک یہ ہے کہ سوسائٹی سے عدم مساوات ختم کرکے دلت اور آدی واسی برادریوں کو، جو سماج کا ۲۵؍فیصد ہیں۔ سماج میں عزت اور کارپوریٹ سیکٹر میں حصہ دیا جائے، مختلف  جاتیوں، خصوصاً برہمنوں اور دلتوں کے مابین سماجی رشتوں اور شادی بیاہ کو رواج دیں۔ سماج کے خوشحال طبقات پورا انکم ٹیکس ادا کریں، نبی نوع انسانی سے ہمدردی کی قدیم ہندو روایت کو زندہ کریں۔ مبصر کاکہنا ہے کہ ہندوسماج کے یہ وہ اُمور ہیں جن پر توجہ دے کر یہ وسیع سماج خوشحال اور مطمئن سماج بن سکتا ہے اور اس میں کسی دوسرے فرقے کا کوئی نقصان نہیں بلکہ بالواسطہ فائدہ ہے۔ (سنڈے ٹائمس ۱۲؍جون) پھر مبصر نے عام ہندوسماج سے کہا ہے ’’یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں موجودہ ہندتو کو ایک طویل عرصے تک جھیلنا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس منفی ایجنڈے کو بغیر کسی مزاحمت کے جاری رہنے دیں ۔‘‘

اِس تجویز پر بھی غور کریں

ایک دور اندیش مبصر نے ہندتو والوں کو یہ مشورے تو دے دیئے لیکن وہ خوب جانتے ہیں کہ ان پر عمل آسان  نہیں۔ اگر سماج سے انسانی عدم مساوات، کمزوروں اور نچلی جاتیوں کی موجودہ حالت اور کاسٹ سسٹم ختم ہوجائے تو پھر اس میں کیا بچے گا جس کی بنیاد پر وہ ایک علیحدہ سماجی شناخت کہلانے کا مستحق ہوگا۔ آکار یہ بھی جانتے ہیں کہ آج کے ہندتو کو درپردہ ورن ویوستھا کے بانیوں کی تائید بھی حاصل ہے۔ اس لئے یہ لاحاصل مشورہ دینے سے تو اچھا یہ ہے کہ انہیں دینِ اسلام کو دیانتداری سے سمجھنے کا مشورہ دیا جائے ۔ یہ اس لئے کہ ہندتو والوں کا اصل  مسئلہ (پرابلم) اسلام ہے جس کے بارے میں انہوں نے غلط تصورات اور مفروضات قائم کررکھے ہیں۔ اور اسے خواہ مخواہ دشمن سمجھ رکھا ہے جب کہ اسلام سب کا دوست ہے۔ کاسٹ سسٹم کے بانیوں کا درد سر بھی یہی دین ہے۔ اس لئے اگر وہ اسلام کو اس کی روح کے ساتھ سمجھ لیں تو ان کا یہ درد سر دورہوجائے گا۔ ہاں یہ درست ہے کہ ان کے لئے اس مشورے پر عمل اُس مشورے سے بھی زیادہ مشکل ہے جو آکار پٹیل دے رہے ہیں لیکن یہاں بات اسلام پر عمل کی نہیں بلکہ اسے صرف سمجھ لینے کی ہورہی ہے کہ وہ کیا ہے کیا نہیں ہے۔ آکار اس تجویز پر ذرا سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ ( پ ر)

 

 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/DtWAm

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے