Breaking News
Home / اہم ترین / ہندوستان میں کیوں کیا گیا اسرائیلی سربراہ کا استقبال؟ از: نازش ہما قاسمی

ہندوستان میں کیوں کیا گیا اسرائیلی سربراہ کا استقبال؟ از: نازش ہما قاسمی

ہندوستان ایک قدیم اور تاریخی ملک ہے ،مختلف مذاہب، مختلف افکار وخیالات سے متعلق باشندہ،زیب و زینت میں اضافہ کرتی خوبصورت وادیاں،گرتے جھرنے، لہلہاتی کھیتیاں،سر سبز وشاداب باغات، ہندوستان کی پہچان ہیں ،قدیم تاریخی جمہوریت ہر اعتبار سے دنیا کے باوقار ممالک میں شمار ہوتا ہے،تعداد کے اعتبار سے بھی دنیا میں بلند مقام کا حامل ہے،اپنی نمایاں پہچان رکھتا ہے ،دنیا کے اکثر ممالک ہندوستانی حکومت کو غیر متعصب تصور کرتے تھے،اور کردار و عمل سے بھی ہندوستانی حکومتیں اس حقیقت کا مظاہرہ کرتی رہی ،چنانچہ آزادی کے تقریبا 50 سال تک ہندوستان نے اسرائیل کو بحیثیت ملک تسلیم نہیں کیا،حق و انصاف کی آواز بلند کرتا رہا ،اور مظلوم فلسطینیوں کی داد رسی میں مشغول نظر آیا،یہاں تک کہ 1960 مین غیر ملکی کمپنیوں کو جواہر لعل نہرو نے ہندوستان مین کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئ،مگر گذرتے وقت نے مزاج بدلا خیالات تبدیل کئے اور وہ وقت بھی آیا کہ ہندوستان نے اسرائیل کو بحیثیت ملک تسلیم کرلیا ،اور اپنے ہندوستانی مزاج و وقار کو چوٹ پہونچائ،تاریخ کے صفحات گواہی دیتے ہیں، کہ1917 سے قبل کرہ ارضی پر اسرائیل نام کی کوئ چیز نظر نہیں آتی،ظلم و جور،جبر و استبداد کے نتیجہ مین اسرائیل نام کی خبیث مملکت دنیا میں وجود پذیر ہوئی، جسکی بنیادوں مین مظلوم فلسطین کا خون ہے ،لاشوں پر اس ملک کی بنیادیں ٹکی ہیں،ساری دنیا جانتی ہےاسرائیل کس طرح پیدا ہوا ،کیا اسکے کارنامے ہین،وہ ہمیشہ اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں اڑاتا رہا،اور بے دریغ فلسطینیوں کو تہ تیغ کرتا رہا ،ترقی یافتہ ممالک ،سیکولر خیال کے حامل افراد ،خاموش دیکھتے رہے،اور ان بھیڑیوں کو سفاکی اور بربریت کے باوجود تسلیم کیا جاتا رہا،اور کوئ سخت کاروائی بھی ان پر نہیں کی گئی، عالم عرب بھی تین جنگوں کے بعد متحد نہ رہ سکا ،اور اسرائیل کا وجود مضبوط ہوگیا،انور سادات کی خباثت نے عربوں کی کمر توڑ دی ،اور اسرائیل بے لگام گھوڑے کی مانند دندناتا رہا ،دنیا کے وہ ممالک جو اسلام کے دشمن ہیں ،اسرائیل کی حمایت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے،اور اسے جمہوریت پسند،امن پسند باور کرانے کی کوشش کرنے لگے ،مگر ہندوستان ہندو مسلم اتحاد کی بنا پر فلسطین کے ہمراہ تھا،لیکن حالات کی تبدیلی نے بابری مسجد کا قضیہ پیش کیا اور ہند و مسلم اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ،کدورتیں ،نفرتیں ،قلوب میں راسخ ہوگئیں ،کچھ فرقہ پرست طاقتوں کو عروج ملا ،اور ہندوستان کے سینہ پر ایک ایسی خندق کھودی جسے وقت کا دریا بھی پاٹ نہ سکا ،جمہوریت کا یہ زخم ناسور کی شکل اختیار کرتا چلا گیا،اور حالات کی ابتری کا عالم یہ ہوگیا،کہ ہر فرقہ پرست طاقت کو ہمارے ملک کے ایک خاص طبقہ کی ہمایت میسر آتی رہی ،یہاں تک کہ ٹرمپ جیسے لوگوں کی یوم پیدائش پر گنگا جمنی تہذیب کے حامل ملک ہندوستان میں خوشیاں منائی گئی، حالات کی ستم ظریفی دیکھئے،وقت کی رفتار کیا عیاں کررہی ہے ،سمجھنا دشوار نہیں ہے۔ اور یہیں پر بس نہیں اب تو اس ایبڑھ کر معاملہ یہ ہوا اسرائیل نامی مملکت کا شدت پسند بادشاہ کے ناپاک قدم ہندوستان کی مقدس سرزمین پر پڑے اور خواجہ و رام کی یہ سرزمین شرم سے پانی پانی ہوگئیں ،عیش وعشرت پر قلندری کو ترجیح دینے والے افراد کے ملک میں اس شخص کا آنا یقینا باعث تکلیف ہے،اور جمہوریت کی توہین ہے،ہر ہندوستانی اس تکلیف کو محسوس کررہا ہے ،اور اس وقت قلب کا آبگینہ ٹکڑے ٹکرے ہوگیا،جب یہ بات سامنے آئی کہ ہندوستانی وزیرآعظم اسرائیل کے بادشاہ سے مشورہ لے رہے ہیں،اور دونوں ساتھ مل کر دہشت گردی ختم کرنا چاہتے ہیں،اسرائیل جس کا قیام ہی دہشت گردی کی بنیاد پر ہوا ہو ،اس کے منہ سے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں،ایک درندہ انسانیت کی باتیں کررہا ہے،کتنی مضحکہ خیز بات ہے ،اور ہم اس پر یقین بھی کررہے ہیں،کہ یہ سچ ہے ،گویا کہہررات میں سورج نکلےگا،کہنے والے کی تصدیق کررہے ہیں،اور اس سے بھی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہندوستان جیسا عظیم ملک اسرائیل جیسے بے حیثیت اور بے وقعت ملک کی تابعداری کرے گا ،اور اس سے مشورہ لے گا اور ایک ایسی مملکت کا فرمانبردار ہوگا جو خونریز سفاک ہے،اور دنیا کہ نقشہ پر اس کی کوئ حیثیت نہیں ہے،جب کہ ہندوستان کرہ ارض کے باحیثیت ممالک میں سے ہے،اور ہمارے وزیر آعظم کا یہ طرز عمل کیا ہندوستان کی توہین نہیں ہے ،اور ہنس کا کوے کی چال چلنے جیسا عمل نہیں ہے؟
ہم کیوں تقلید کریں اس کی جسے دنیا معزز ملک بھی نہیں سمجھا جاتا،ہمارے بزرگوں نے جان نچھاور کرکے ،اپنے خون کو پانی کی طرح بہاکر ہندوستان کو آزاد کرایا ،اور دنیا بھر میں اسکو محترم کردیا،ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پر پہلے بھی انگریز ہندوستانیوں کو یرغمال بنا چکے ہیں،اذیت اور تکالیف سے دوچار کرچکے ہیں،آزادی کی زنجیروں میں جکڑ چکے ہیں،تو پھر آج اسرائیل کو کیوں ہندوستان میں تجارت کی اجازت دی جارہی ہے؟کیا یہ تدبیر درست ہے؟کیا ہندوستان افراد نہیں ؟صلاحیتیں نہیں ؟افراد کار نہیں،کس چیز کی کمی ہے ،کیا یہی میک ان انڈیا ہے؟کیا یہی ہندوستان کو ترقی سے ہمکنار کا سنہرا خواب ہے،جس سے ہماری آزادی پر حرف آتا ہے ،ہماری سوچ و فکر پر غلامی مسلط ہوتی ہے ،بہت خوب ترقی دے رہے ہیں ،اسرائیل کا کونسا قابل قدر کارنامہ ہے ؟بیان کیجئے،اور ہندوستانیوں کو اپنے اس فیصلہ سے مطمئن کیجئے ورنہ کووں کی تقلید چھوڑئے؛اور ہندوستان کہ عزت و وقار کو مجروح نہ کیجئے
بشکریہ مضامین ڈاٹ کام ۔ مضمون نگار کی رائےسے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

 

The short URL of the present article is: http://harpal.in/oFzyg

Check Also

جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب کی والدہ فاطمہ نفس سمیت 35 افراد حراست میں،تاہم بعد میں رہا

Share this on WhatsApp نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)17۔اکتوبر۔ گزشتہ ایک سال سے لاپتہ جواہر لال نہرو …

2 comments

  1. الحمد للہ بڑا اچھا آن لائن خبروں کا انداز ہے اس سلسلے کو مزید چار چاند لگیں یہی میری دعا ہے والسلام ساجد عمری

  2. متبع علی خان

    سب سے پہلے یہ بتائیں کہ.ضرورت کے کھیت کیا بلا ہیں…
    یہ فیلڈ کا اوندھا ترجمہ لگتا ہے…
    مضمون کے متعلق کہنا چاہوں گا کہ تشنگی بہت رہ گئی… سمجھا تھا کچھ نئی معلومات حاصل.ہوں گی لیکن مضمون نگار صرف کڑھتے رہ گئے… اب ہم نے ان حالات پر رونا دھونا اور کڑھنا بند کردیا ہے….کیا کریں بے بس ہیں…
    بے حسی کو بے بسی کا نام دے دیا ہے میں نے…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے