Breaking News
Home / اہم ترین / ہوا میں پھیلی زہریلی دھند سے دہلی سے لکھنو تک لاکھوں زندگیاں خطرے میں۔ نقصانات سے کیسے بچیں ؟

ہوا میں پھیلی زہریلی دھند سے دہلی سے لکھنو تک لاکھوں زندگیاں خطرے میں۔ نقصانات سے کیسے بچیں ؟

نئی دہلی ۔ ( ایجنسی ، ہر پل نیوز ) 7نومبر ۔ : دہلی این سی آر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ہوا زہریلی ہو گئی ہے ۔ دیوالی کے بعد سے ہی دہلی پر چھایا دھند بڑھتا جا رہا ہے ۔ صرف دہلی ہی نہیں اب اس زہریلی دھند نے نوئیڈا، غازی آباد، گروگرام، آگرہ اور لکھنؤ کو بھی اپنی زد میں لے لیا ہے ۔ ہوا میں گھلے اس زہر سے لوگوں میں بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔اس زہریلی دھند سے سب سے زیادہ بے حال دارالحکومت دلی ہے ۔ دیوالی کے بعد سے ہی دہلی پر سیاہ بادلوں کی شکل میں یہ دھند 24 گھنٹے پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ دھند کتنی خطرناک ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ دن کے 12 بجے بھی سورج کی روشنی اس کو پار کر کے لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہے ۔ جان لیوا دھوئیں سے بچنے کے لئے دکانوں پر ماسك خرید نے والوں کی بھیڑ لگ گئی ہے۔ نوئیڈا اور غازی آباد میں بھی ہوا میں یہ دھند زہر گھول رہی ہے ۔ نوئیڈا میں دھن کی وجہ سے آلودگی کی سطح 250 سے بڑھ کر 550 ایم جی سی ایم تک پہنچ چکی ہے ، جو لوگوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔ خطرناک دھند کی وجہ سے نوئیڈا اور غازی آباد کے اسکولوں میں نرسری سے کلاس 2 تک  دو دن کی چھٹی کر دی گئی ہے ۔ دہلی میں بھی تمام اسکولوں میں تین دن کہ چھٹی کر دی گئی ہے ۔ بڑے لوگوں کو بھی جب تک ضروری نہ ہو ، گھروں سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کمرے کے اندر بھی سانس محفوظ ہے کیونکہ اس دھند نے گھروں کے اندر بھی آلودگی کی سطح کو خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے ۔دہلی جیسا ہی حال آگرہ اور لکھنؤ میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ آگرہ کا مشہور تاج محل دھند کی چادر سے اس طرح ڈھک گیا ہے کہ گویا غائب سا ہو گیا ہو ۔ لکھنؤ میں رات سے دوپہر تک سڑکوں پر دھند کی چادر چھائی رہی ۔ شہر کے کئی علاقوں میں حد بصارت کافی کم رہی ۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ دہلی کے دھند کا ہی اثر ہے ، جو ہواؤں کی سمت کی وجہ سے اس طرف بڑھ رہا ہے ۔

دھند کے خطرات :۔ڈاکٹروں کے مطابق زہریلی ہوا صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے اور یہ آپ کے اعضا پر برا اثر ڈال رہی ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس زہریلی ہوا سے سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ پھیپھڑوں میں انفیکشن ، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے ۔ قوت مدافعت بھی کمزور ہوسکتی ہے ۔ زہریلی ہوا سے بلڈ کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ، بالوں کے جھڑنے کا مسئلہ لاحق ہوسکتا ہے ۔علاوہ ازیں الرجی ، جلد میں جلن اور انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

دھند سے کیسے بچیں :۔ڈاکٹروں کے مطابق زہریلی ہوا سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ دھنویں کے وقت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں ۔ منہ پر رومال، کپڑا یا ماسک کا استعمال کریں ۔ دھنویں میں صبح کے وقت پارک جانے سے بھی بچیں ۔  سورج کی کرنوں کے ساتھ دھنواں مزید خطرناک ہوجاتا ہے ۔ سانس لینے میں تکلیف ہو تو فورا ڈاکٹر سے صلاح و مشورہ کریں ۔ صاف ہوا میں گھلا زہر جب تک ختم نہیں ہو جاتا ، احتیاط ہی سب سے بہترین طریقہ ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ایسے کاموں سے بھی گریز کریں ، جس سے آب و ہوا زہریلی ہوجا تی ہو ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/24tTq

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے