Breaking News
Home / اہم ترین / یمن کے حکمراں عبداللہ صالح کی کچھ لوگوں کی موجودگی میں ہوئی تدفین

یمن کے حکمراں عبداللہ صالح کی کچھ لوگوں کی موجودگی میں ہوئی تدفین

صنعا(ایجنسی)11ڈسمبر۔حوثی باغیوں نے  یمن پر تین دہائیوں تک حکومت کرنے والے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو دارالحکومت صنعاء میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ اس موقع پر صالح کے خاندان کے محض چند افراد کو جنازے میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ رائٹر نے یہ بات صالح کی سیاسی پارٹی جنرل پیپلز کانگریس (جی پی سی ) کے ذرائع کے حوالہ سے بتائی ہے۔ 75 سالہ علی عبداللہ صالح پیر چار دسمبر کو ایران نواز حوثی باغیوں کے ایک حملہ میں مارے گئے تھے۔ حوثی باغیوں کے ساتھ مل کر سعودی سربراہی میں قائم اتحاد کے خلاف لڑنے والے صالح کی یہ ہلاکت ان کے اس اعلان کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے حوثیوں کو چھوڑ کر سعودی اتحاد میں شامل ہونے کا عندیہ دیا تھا۔صالح کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹر کو بتایا کہ حوثی باغیوں نے علی عبداللہ صالح کے رشتہ داروں میں سے 10 سے بھی کم افراد کو ان کی آخری رسومات میں شامل ہونے کی اجازت دی۔ انہیں ہفتہ اور اتوار 10 دسمبر کی درمیانی شب صنعا میں دفن کیا گیا۔ اس ذریعہ نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ صالح کو کس مقام پر دفن کیا گیا۔ جی پی سی کے سیکرٹری جنرل عارف الذوکہ کو جو صالح کے ساتھ ہی مارے گئے تھے، ہفتے کے روز یمن کے صوبہ شبوا میں ان کے آبائی علاقے السعید میں دفن کیا گیا تھا۔ حوثی باغیوں نے ان کی لاش قبائلی سرداروں کے حوالے کر دی تھی۔

علی عبداللہ صالح کے رشتہ داروں کی طرف سے 9 دسمبر کو بتایا گیا تھا کہ انہوں نے حوثی باغیوں کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے سبب صالح کے جسد خاکی کو وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق صالح کے رشتہ دار ان کی تدفین اس مسجد کے صحن میں کرنا چاہتے تھے جو انہوں نے صنعاء میں واقع صدارتی محل کے علاقے میں تعمیر کرائی تھی۔ علی عبداللہ صالح نے 33 برس تک یمن پر حکمرانی کی۔ تاہم انہیں 2012 میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد اپنے عہدہ سے الگ ہونا پڑا تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ یمن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے سربراہ کے طور پر سیاست میں رہے۔ 2015 میں انہوں نے صدر منصور ہادی کے خلاف ایران نواز حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ یمنی دارالحکومت پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سعودی سربراہی میں قائم عرب ممالک کے اتحاد نے وہاں فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/pD8zz

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے