Breaking News
Home / تازہ ترین / یوٹی قادر نے ڈرگ ویر ہاؤز پر مارا چھاپہ

یوٹی قادر نے ڈرگ ویر ہاؤز پر مارا چھاپہ

بیکارادویات کی کثرت اور گودا م کی بدحالی پر برہم ہوئے وزیر صحت 

بنگلورو۔(ہرپل نیوز)24؍مئی۔ وزیر صحت یوٹی قادر نے محکمۂ صحت میں دواؤں کی خرUT Qیدوفروخت اور سپلائی میں خرد وبرد کے الزامات کے پیش نظر کل آدھی رات دواؤں کا ذخیرہ کرنے والے ویر ہاؤز پر چھاپہ مارا اور وہاں افسران کو آڑے ہاتھوں لیا۔ میسور روڈ پر واقع کرناٹکا اسٹیٹ ڈرگ ویر ہاؤزنگ سوسائٹی میں رات ساڑھے بارہ بجے یوٹی قادر نے اچانک دھاوا بولا اور وہاں کی بدنظمی دیکھ کر افسران کو آڑے ہاتھوں لیا۔ حال ہی میں بی بی ایم پی کے سابق حکمران پارٹی لیڈر این آر رمیش نے دواؤں کی خرید وفروخت اور سپلائی میں مبینہ دھاندلیوں اور کروڑوں روپیوں کی ہیرا پھیری کا الزام لگایا۔حالانکہ محکمۂ صحت کے افسران نے وزیر موصوف کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ الزامات بعید از حقیقت ہیں ، لیکن ان کی اس یقین دہانی پر یقین کرے بغیر وزیر موصوف نے خود دواؤں کے گودام کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور بغیر پیشگی اطلاع کے وہ ڈرگ ویر ہاؤزنگ سوسائٹی پہنچ گئے۔ جب وزیر موصوف نے یہاں کا معائنہ کیا تو دیکھا کہ چھ سال سے زیادہ پرانی دوائیں جن کو تباہ کردینے کی ہدایت جاری کی جاچکی تھی، وہ ویسی ہی پڑی ہوئی تھیں، احتیاط کے ساتھ ان دواؤں کو رکھنے کیلئے حکومت کی طرف سے انتظامات کئے گئے تھے، لیکن جب یوٹی قادر یہاں پہنچے تو دیکھا کہ دوائیں ادھر ادھر بھکری پڑی ہوئی تھیں۔ وزیر موصوف نے اس صورتحال کو دیکھ کر یہاں کے سپرنٹنڈنٹ کوآڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے افسران کا محکمۂ صحت میں ہونا باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے لاپرواہ افسران کو جتنی جلد معطل کیاجاسکے محکمہ کیلئےاتناہی بہتر رہے گا۔اطلاع ملتے ہی جب میڈیا کے نمائندے یہاں پہنچے تو وزیر موصوف نے بتایاکہ وہ یہاں بدنظمی کی اطلاع کے پیش نظر پہنچے ہیں۔ کئی خامیاں ان کے سامنے آئی ہیں ، بہت جلد اس کیلئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس معائنہ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر یوٹی قادر نے کہاکہ ریاست بھر میں 100کروڑ روپیوں سے زیادہ کی پرانی دواؤں کا ذخیرہ موجود رہنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ پرانی دواؤں کے ذخیرہ سے ریاست کے سرکاری خز انے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دس کروڑ روپیوں کی مالیت کی پرانی دواؤں کے ذخیرہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 2000 سے اب تک دواؤں کو تباہ کئے بغیر رکھا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ان دواؤں کو سائنٹفک طریقے سے تباہ کردیا جاناچاہئے تھا، جلد ہی پلیوشن کنٹرول بورڈ اور محکمۂ صحت آپسی تال میل سے ان دواؤں کو تباہ کرنے کا کام شروع کرنے کے سلسلے میں رہنما خطوط وضع کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ان دواؤں کو تباہ کرتے وقت ماحولیات پر کوئی مضر اثر نہ پڑے۔ یہ یقینی بنانا بھی محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے۔ دواؤں کی ذخیرہ اندوزی کے متعلق نئی پالیسی نافذ ہونے کے بعد پچھلے 16 سال سے بغیر استعمال کئے ہوئے دواؤں کا بھاری ذخیرہ پڑا ہوا ہے۔ ان دواؤں کو تباہ کرنے سے سرکاری خزانے کا کوئی خسارہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جن دواؤں کی مدت ختم ہوچکی ہے ان کے عوض کمپنیوں سے متبادل دوائیں طلب کی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے مختلف دواؤں کے گوداموں میں دواؤں کے ذخیرے اور جن دواؤں کی مدت ختم ہونے کو ہے ان کی تفصیل پیش کرنے کیلئے محکمہ کے تمام عہدیداروں کو ہدایت دی جاچکی ہے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/NvAg9

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے