Breaking News
Home / اہم ترین / یوپی میں بی جے پی کی سونامی: ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس دفتر پر چھایا سناٹا۔ اکھلیش مستعفی، سیاسی بیان بازی تیز

یوپی میں بی جے پی کی سونامی: ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس دفتر پر چھایا سناٹا۔ اکھلیش مستعفی، سیاسی بیان بازی تیز

لکھنؤ(ہرپل نیوز،ایجنسی)11مارچ:۔ یوپی اسمبلی انتخابات 2017 کی 403 نشستوں کے انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی کے حق میں چونکانے والے رجحانات آتے ہی ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے دفاتر پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔اگر ہم بات کریں سماج وادی پارٹی کی تو وہاں کچھ کارکن ہی نظر آ رہے ہیں، باقی میڈیا کا جماوڑہ ہے۔ سی ایم اکھلیش یادو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہی موجود ہیں اور الیکشن کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔ وہیں بی ایس پی سپریمو مایاوتی اپنی رہائش گاہ پر ہی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ بی ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری ستیش چند مشرا موجود ہیں۔کانگریس دفتر کی تصویر تو ایسی ہے کہ وہاں کوئی بھی کارکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ تو مجموعی طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کو یوپی میں مکمل اکثریت ملنے کے بعد خاموشی نظر آنا لازمی ہے۔ یوپی بی جے پی کے دفتر پر مودی- مودی کے نعرے لگا رہے ہیں، بی جے پی کارکن نے بتایا کہ یہ جیت کی ہولی ہے۔

اکھلیش نے گورنر کو سونپا استعفی نامہ:اکھلیش نے گورنر کو سونپا استعفی نامہ ، کہا : کبھی کبھی سمجھانے سے نہیں بہکانے سے ملتے ہیں ووٹ

اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کانگریس اتحاد کی کراری شکست پر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ وہ عوام کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نئی حکومت بہتر کام کرے گی۔ اکھلیش نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد پہلی کابینہ اجلاس کے بعد جو فیصلہ آئیں گے، اس کا ہم سب کو انتظار رہے گا۔ کسانوں کا قرض معاف ہوا ، تو بہت خوشی ہوگی۔بی ایس پی سربراہ مایاوتی طرف ای وی ایم پر اٹھائے گئے سوالات کو لے کر اکھلیش نے کہا کہ حکومت کو اس کی جانچ کرانی چاہئے۔ اکھلیش نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ اتحاد جاری رہے گا، اس اتحاد سے ہمیں فائدہ ہوا۔ اس اتحاد کے ذریعے دو نوجوان لیڈر ساتھ آئے۔ اکھلیش نے کہا کہ ہم نے یوپی کی ترقی کے لئے کام کیا، جب تک کوئی ہم اچھا کام کر کے نہیں دکھاتا تب تک ہمارا کام ضرور بولے گا۔اکھلیش یادو نے کہا کہ پوری انتخابی مہم کے دوران کبھی ایسا نہیں لگا کہ ایسے نتائج سامنے آئیں گے ،کبھی کبھی سمجھانے سے نہیں بلکہ بہکانے سے ووٹ ملتے ہیں۔ انہوں نے امت شاہ پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ہماری پریس کانفرنس میں آپ ہنس تو لیتے ہیں ، مگر دوسرے اپنی پریس کانفرنس میں ہنسنے بھی نہیں دیتے۔

پریس کانفرنس کے بعد تقریبا چھ بجے اکھلیش یادو راج بھون پہنچے اور وہاں انہوں نے اپنا استعفی نامہ گورنر کو سونپ دیا ۔ خیال رہے کہ یوپی اسمبلی انتخابات میں ایس پی اور کانگریس اتحاد کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ بی جےپی کو تاریخی جیت ملی ہے۔ بی جے پی کے کھاتہ میں 325 سیٹیں گئی ہیں تو ایس پی و کانگریس اتحاد کو محض 54 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے ۔ بی ایس پی کا تقریبا صفایا ہوگیا ہے اور اس کو صرف 19 سیٹیں ملی ہیں۔

یوپی اسمبلی الیکشن نتائج : شیوپال سنگھ کا اکھلیش یادو پر نشانہ ، کہا : ایس پی کی نہیں بلکہ گھمنڈ کی شکست ہے:

لکھنو : اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج آتے آتے بی جے پی کرور اکثریت کی جانب بڑھتی ہوئی نظریوپی اسمبلی الیکشن نتائج : شیوپال سنگھ کا اکھلیش یادو پر نشانہ ، کہا : ایس پی کی نہیں بلکہ گھمنڈ کی شکست ہے آرہی ہے ۔ ادھر سماج وادی پارٹی میں شکست کو لے کر الزام تراشی کا دور شروع ہو گیا ہے ۔ انتخابات کے دوران مکمل طور پر حاشیہ پرکھڑا کر دیے گئے ایس پی کے سابق صوبائی صدر شیو پال سنگھ یادو نے وزیر اعلی اکھلیش یادو پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ یہ گھمنڈ کی شکست ہے ۔شیو پال نے اس ہار کو سماج وادی پارٹی کی شکست ماننے سے انکار کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو یہ سماجوادیوں کی شکست ہے اور نہ ہی یہ سماج وادی پارٹی کی شکست ہے ، یہ گھمنڈ کی شکست ہے ۔واضح رہے کہ انتخابات کے نتائج آنے سے پہلے ہی سماج وادی صفوں میں اکھلیش دھڑے پر حملے ہونے شروع ہو گئے ہیں ۔ اس کی شروعات ملائم کی دوسری بیوی سادھنا یادو نے کی ۔  انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو بھروسہ نہیں تھا کہ اکھلیش باغی ہو جائے گا ۔ جس طرح سے ملائم سنگھ یادو اور شیو پال سنگھ یادو کی توہین کی گئی ، وہ نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مجھ پر کئی جھوٹے الزام لگائے گئے ، جو اب میں برداشت نہیں کروں گی ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/CSX5M

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے