Breaking News
Home / اہم ترین / یوپی کے وزیر اعلی کا متنازعہ بیان کہا ہندو راشٹر کا تصور کوئی غلط بات نہیں

یوپی کے وزیر اعلی کا متنازعہ بیان کہا ہندو راشٹر کا تصور کوئی غلط بات نہیں

لکھنؤ(ہرپل نیوز،ایجنسی)6اپریل:اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ ہندو راشٹر کا تصور غلط نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذبح پر ان کی حکومت صرف سپریم کورٹ اور نیشنل گرین ٹربیونل کے احکام پر عمل کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یوگی نے اینٹی روميوا سكواڈ بنانے کے فیصلہ کو بھی جائز قرار دیا۔ وزیر اعلی کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد ڈی ڈی نیوز کو اپنے پہلے انٹرویو میں یوگی نے کہا کہ ریاست کا اقتدار تو کوئی یوگی ہی چلا سکتا ہے۔اپنے اس انٹرویو میں یوگی نے ہندتو کو لے کر بھی اپنی سرکار کے موقف کو پیش کیا ور کہا کہ ہندو راشٹر کا تصور کوئی غلط بات نہیں ہے۔ اینٹی رومیو مہم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں یوگی نے کہا کہ رومیو کی کوئی ذات یا اس کا کوئی فرقہ نہیں تھا، نام جو ہٹ کرتا ہے اسی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یوگی نے کہا کہ ہماری بیٹیاں محفوظ رہ سکیں، یوپی میں ایسا ماحول بنانا چاہتے ہیں۔

ہندو راشٹر کا تصور کوئی غلط بات نہیں : یوگی آدتیہ ناتھ

مذبح کے خلاف کارروائی سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یوگی نے کہا کہ این جی ٹی نے 2015 میں غیر قانونی مذبح کو بند کرنے کے لئے کہا تھا۔ یہ فرمان چیف سکریٹری کی سطح پر جاری تو کیا گیا ، لیکن نافذ نہیں ہو سکا۔ یوگی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کہنا ہے اور آپ اس کا نفاذ نہیں کریں گے، ہم نے کہا ایسا نہیں ہوگا، ہم نے کورٹ کے حکم پر عمل آوری کی ۔ جو بھی ہدایات ملیں، اس کو نافذ کیا۔ واضح ہدایات جاری کیں ، اگر کوئی معیارات پر کھڑا اترتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن اگر کوئی معیار کو پورا نہیں کرتا ہے ، تو سختی سے روکنا چاہئے۔ کوئی بھی کسی بھی پارٹی کا ہو، قانون سب پر نافذ کیجیے۔

فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق سوال پر وزیر اعلی نے کہا کہ میں نے تمام ڈی ایم سے کہا ہے کہ وہ براہ راست بات چیت کریں ، جمہوریت بات چیت کا نام ہے، جسے عوام نے منتخب کیا ہے ، اس سے براہ راست بات کیجئے ، اگر بات چیت ہوگی ، تو ٹکراو اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ کچھ لوگ ایسے لوگوں کو اقتدار کا تحفظ دیتے تھے، لیکن اگر عوام سے بات چیت کریں گے تو ریاست فسادات سے آزاد ہوجائے گی ۔ ہم ریاست میں کسی کو بھی نسل یاچہرہ دیکھ کر کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/C5QOh

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے