Breaking News
Home / اہم ترین / یوگی ادتیاناتھ نے کیاتاج محل کادیدار۔ نقش و نگار کی جم کر کی تعریف۔تاج محل کے باہرجھاڑو لگائی۔ فرش کی صفائی کرنے پراویسی نے کسا طنز۔ کہا فرش کی بجائےاپنے وزراء کا دماغ صاف کریں

یوگی ادتیاناتھ نے کیاتاج محل کادیدار۔ نقش و نگار کی جم کر کی تعریف۔تاج محل کے باہرجھاڑو لگائی۔ فرش کی صفائی کرنے پراویسی نے کسا طنز۔ کہا فرش کی بجائےاپنے وزراء کا دماغ صاف کریں

آگرہ(ہرپل نیوز،ایجنسی) اترپردیش کے وزیر اعلی يوگي آدتیہ ناتھ نے تاج محل کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا، ’’یہ یادگار ہندوستانی مزدوروں کے خون پسینے سے بنا ہے، اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ مسٹر یوگی نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ تاج محل قومی ورثہ ہے، اس پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آگرہ ملک کا اہم سیاحتی مقام ہے۔ تاج محل ہندوستانی پیسہ سے بنا ہے۔ اس یادگار کو بنانے کے لئے ہندوستانی مزدوروں نے اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ یہ ریاست کاورثہ ہے۔ اس کا تحفظ اور بہتری کا کام حکومت کا ہے۔غور طلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ممبر اسمبلی سنگیت سوم نے گزشتہ دنوں ایک بیان میں تاج محل کو ہندوستانی ثقافت پر ’دھبہ‘ بتا کر تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ وہیں کچھ دوسرے سیاستدانوں نے کہا تھا کہ یونیسکو کا یہ عالمی ثقافتی ورثہ کے دیدار کے لیے لاکھوں مقامی و بیرون ملک سیاحوں پہنچتے ہیں اور اس پر تنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔

 نقش و نگار کی تعریف:مسٹر یوگی تاج محل کے پاس تقریباً 30 منٹ ٹھہرے۔ انہوں نے اس کی کشش نقاشیوں انتہائی توجہ سے دیکھا۔ وہاں موجود حکام سے اس کے بارے میں کچھ پوچھا۔ انہوں نے تاج محل کو دیکھنے کے بعد کوئی فوری ردعمل کا توا اظہارتو نہیں کیا، لیکن وہاں تعینات ایک پولیس افسر نے بتایا کہ وزیر اعلی کو تاج محل کافی پسند آیا۔ شاید یہ پہلا موقع ہے جب مسٹر یوگی تاج محل دیکھنے گئے۔

میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی: مسٹر یوگی کے تاج محل میں جانے کے وقت میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ میڈیا کے نمائندوںکو مغربی گیٹ پر ہی روک دیا گیا۔ تاج محل کے احاطے میں جانے کے لیے مغربی، مشرقی اور جنوبی دروازے ہیں۔ مسٹر یوگی مغربی دروازے سے اندر گئے اور اسی دروازہ سے تقریباً آدھے گھنٹے بعد باہر نکلے۔

ز مین نہیں اپنے وزراء کا ذہن صاف کریں ۔حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹراسدالدین اویسی نے اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ فرش پر صفائی کے بجائے اپنے وزراء کے ذہن صاف کریں۔ انہوں نے پارٹی ہیڈکوارٹرس دارالسلام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ دنیا کی ایک سب سے قیمتی جھاڑو یوگی خریدیں اور سب کا دماغ صاف کریں۔ ہوسکے تو اپنا دماغ بھی صاف کریں ان کا یہ بیان یوگی آدتیہ ناتھ کے تاریخی تاج محل کے دورہ سے پہلے آگرہ کی سڑکوں کی صفائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسداویسی نے دعوی کیا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ لوگ کس طرح کے ہیں۔ یہ افراد ملک کی تاریخ کو مٹانا چاہتے ہیں۔

بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کی جانب سے تاج محل کے بارے میں کئی زہریلے بیانات دئیے گئے یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ کے رکن نے مغلوں کو غنڈہ قرار دیا۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی نے تاج محل کو ہندوستان پر ایک داغ قرار دیا اور خود یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ تاج محل ہندوستانی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ اس کے بعد یوگی تاج محل کی صفائی کرنے کے لئے جارہے ہیں لیکن بی جے پی اور سنگھ پریوار کے ذہنوں کی کون صفائی کرے گا جو اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے ضروری ہے کہ وہ دنیا کی سب سے قیمتی جھاڑو خریدیں اور اس سے سب کا دماغ صاف کریں اور ہوسکا تو اپنا دماغ بھی صاف کرلیں۔انہوں نے کہا کہ تاج محل ہندوستان کی عظمت اور تہذیب کا ایک حصہ ہے۔ یونیسکو میں درج ایک تہذیبی ورثہ کی حامل تاریخی عمارت ہے۔ اس کے بارے میں یوگی کی جانب سے اس کی صفائی کی باتیں اور حرکتیں صرف دکھاوا ہیں جو خود تاج محل کے بارے میں صاف ذہن نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دنیا کی سب سے بہترین جھاڑو بھی لالیں تب بھی ان کے دماغ کے جالے صاف ہونے والے نہیں ہیں‘ اس لئے کہ یہ جالے نہیں ہیں بلکہ لوگوں کو جالوں میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ اس سے کچھ ہونے والا نہیں سارا ملک یہ جان چکا ہے کہ ان لوگوں کو ہندوستان کی تاریخ سے نفرت ہے ۔

انگریزوں سے ان کو نفرت نہیں ہیں۔ 200 سال تو انگریزوں کی غلامی کی لیکن جہاں کہیں بھی ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب میں مسلمانوں کا ذکر آجاتا ہے تو فوراً ان کے ذہن میں آتا ہے کہ اسے مٹادیا جائے اور اسے ختم کردیا جائے۔ اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر نشین نے اپنے مکتوب میں واہیات قسم کی باتیں لکھیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمایوں کا مقبرہ جو کہ ایک محفوظ تاریخی عمارت ہے اسے توڑ کر قبرستان بنادیا جائے۔ ان کے اس طرح کے بیان سے طالبان اور داعش کی سوچ جھلکتی ہے کیونکہ یہ کام داعش اور طالبان نے بھی کیا۔ جہاں کہیں محفوظ تاریخی عمارتیں افغانستان اور سیریا میں تھیں انہوں نے اسے اڑادیا اور ملک دیکھ رہا ہے کہ کس طرح کی داعش کی سوچ لے کر یہ لوگ آگے بڑھ رہے ہیں جن کو بی جے پی کی مکمل تائید حاصل ہے۔

صدر مجلس نے کہا کہ انہیں خود حیرت ہے اور ان کے ذہن کو شاک لگا کہ صدر نشین شیعہ وقف بورڈ نے مکتوب روانہ کیا کہ تاریخی آثار قدیمہ کی محفوظ یادگار عمارت ہمایوں کے مقبرہ کو منہدم کردیا جائے۔ یہ شخص داعش اور طالبان کی طرح گفتو کررہا ہے کیونکہ اس کی بی جے پی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ بی جے پی اس کی تائید کررہی ہے اس لئے اس کے لیڈروں اس طرح کے دعوے اور بیانات دے رہے ہیں۔ سنگھ پریوار کا ایک حصہ تاج محل کو داغ سمجھتا ہے اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمایوں کے مقبرہ کو منہدم کردیا جائے اس سے اس کی ذہنیت ظاہر ہورہی ہے کہ وہ ہندوستان کی تاریخ کو تباہ اور ختم کردینا چاہتے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/PimiQ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے