Breaking News
Home / اداریہ / یہ تو چمتکار ہوگیا۔ یوپی الیکشن کے پس منظر میں ایک نئے اندااز کی تحریر۔ از: محمد اظہر الدین شیخ

یہ تو چمتکار ہوگیا۔ یوپی الیکشن کے پس منظر میں ایک نئے اندااز کی تحریر۔ از: محمد اظہر الدین شیخ

اترپردیش اسمبلی چناؤ کے نتائج

مانو بلّی کے بھاگو چھیکا ٹوٹا۔۔۔۔۔

ایسی کایا پلٹ ہوئی جس کا گمان بھی نہیں تھا

پورا یوپی زعفران زار ہوگیا

بھگوا بریگیڈ خود بھی حیران ہیں

مانو یہ تو چمتکار ہوگیا۔۔۔۔

فرقہ پرستی کی چھوٹی چھوٹی پھلجھڑیاں ایسا دھماکہ کریگی یہ کس نے سوچا تھا۔۔۔

ملّا ملائم کا فیملی ڈارمہ تو فلاپ ہوا ہی

راج اور ویرو کی جوڑی کے جلوے بھی ہوا ہوگئے

ادھر بہن جی کے میاں پریم نے اپنوں کو ہی دور کردیا

اب اس میں کتنی سچائی ہے یا بہن جی کا الزام سچا ہے

یہ تو بعد میں پتہ چلے گا

لیکن آج یو پی میں کنول کے جلوے شباب پر ہیں اس سے کون انکار کرسکتا ہے

ہے کسی میں انکار کی ہمت

شاہ اینڈ کمپنی کا شہ اور مات کا کھیل کامیاب رہا

ایسی کامیابی جیسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کریگی

اس کامیابی کی تہہ میں کیا ہے یہ عُقدہ آج نہیں تو کل ضرورکھلے گا

لیکن اب ہارے ہوئے کھلاڑی چیٹنگ کا الزام لگارہے ہیں

یہ تو ایسے ہی ہے ناچ نہ آئے آنگن ٹیڑھا

اب چیخ پکار اور ہاہاکار سے کچھ ہونے والا نہیں

الیکشن اتسو ختم ہوچکا ہے

سارے مخالف مہرے پٹ چکے ہیں

اپوزیشن نام کا بھی کوئی تصور باقی نہیں رہا

جو پٹ چکے انھیں خود احتسابی کرنی ہوگی

جنھیں کامیابی ملی ہے اب ان کی باری ہے

یہ محض اقتدار نہیں بلکہ ایک پیغام ہے

ملک کی اکثریت کیا چاہتی ہے

مودی جی اب آپ کی باری ہے

آزمائش تو آپ کی بھی ہونے والی ہے

یو پی کے عوام نے آپ کے حق میں کھلا مینڈیٹ دیا ہے

چناؤ کے دوران جو شکایتیں بڑے طمطراق سے کی گیئں

اب ان شکایتوں کے ازالے کی باری ہے

خوب شمشان بھومیاں بنائے ساتھ ہی قبرستان کا بھی خیال رکھئے

لیکن اس بات کا بھی خیال رہے کہ وقت سے پہلے وہاں کسی کو جانے کی نوبت نہ آئے

اب یہ بھی امید کی جاسکتی ہے کہ عید اور دیوالی پر سب کو یکساں بجلی ملے گی

اس ریاست کی ساری چابیاں آپ کے ہاتھ میں ہے

لگے ہاتھوں رام مندر بھی بنادیجیئے

شرط ہے مندر کے نام پر کسی کا ناحق لہو نہ بہنے پائے ۔۔۔

اب تو گلی سے لیکر دہلی تک مودی راج ہے ۔۔

کہیں ایسا نہ ہو کے بی جے پی کے اگلے میں منشور میں یہ پڑھنے کو ملے

مندر نرمان کے وعدے پر ہم قائم ہیں۔

یو پی کے نتائج اگر کسی پر بجلی بن کر گرے ہیں تو وہ ہیں میاں بھائی

ایسی بساط الٹ جائے گی کبھی سوچا بھی نہیں تھا

اس وقت سابق وزیراعظم اٹل بہاری واچپائی کی لکھنؤ تقریر کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں

اٹل جی نے کہا تھا

مسلمانوں بی جے پی کو ووٹ نہیں دینا ہے کوئی بات نہیں ۔۔ لیکن خدارا بی جے پی کوہرانے کے لیے بھی ووٹ مت ڈالو

علامہ اقبال نے اسی جمہوری نظام پر کچھ یوں چوٹ کی تھی

کہ۔۔۔۔۔ جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اس فلسفے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک کا مقابلہ چھ سے کبھی نہیں ہوسکتا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ZZL7q

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے