Breaking News
Home / اہم ترین / 100کروڑ روپئے کی مالیت کی وقف جائید اد پر غیر قانونی قبضہ ، مسلم لیگ اور جماعت العلماء کا احتجاجی دھرنا 

100کروڑ روپئے کی مالیت کی وقف جائید اد پر غیر قانونی قبضہ ، مسلم لیگ اور جماعت العلماء کا احتجاجی دھرنا 

چنئی(ہرپل نیوز، نامہ نگار)یکم اپریل۔ چنئی سے تقریبا 45کلومیٹر دور تروللور ۔تروتنی قومی شاہراہ میں واقع احمد شاہ بڑے مکان جماعت کی ملکیت سروے نمبر 229/3،کی 2ایکٹر 44سینٹ وقف جائیداد پر غیر قانونی قبضہ اور تعمیرات کے خلاف انڈین یونین مسلم لیگ اور جماعت العلماء نے تروللور بازار میں احتجاجی دھرنا دیا۔ اس احتجاجی دھرنے کی صدارت انڈین یونین مسلم لیگ کے ضلعی صدر کائل احمد صالح نے کی۔ احمد شاہ بڑے مکان کی وقف جائیداد کی بازیابی کے لیے بنائی گئی کمیٹی اور بڑے مکان مسجد کے صدر جے ۔ذاکر حسین،کے ایم نظام الدین احتجاجی دھرنے میں شریک رہے۔ خصوصی مدعوین کے طور پر انڈین یونین مسلم لیگ کے ریاستی جنرل سکریٹری کے ۔ ایم ۔ محمد ابوبکر، رکن اسمبلی ، کڈیانلور اسمبلی حلقہ نے اس احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوکر مذمتی تقریر کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مرکزی وقف ترمیمی ایکٹ 2013میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قانونی طور پر کوئی بھی وقف جائیداد پر قبضہ نہیں کرسکتا ہے اور اگر کوئی قبضہ بھی کرتا ہے تو اس کو وقف جائیداد واپس کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تروللور احمد شاہ بڑے مکان مسجد کی ملکیت کی وقف جائیداد کی غیر قانونی قبضہ کے خلاف یہ صرف انتباہی احتجاجی دھرنا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ میں مناسب اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح ضلعی کلکٹر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں مناسب اقدامات اٹھائیں۔ کے ۔ ایم ۔ محمد ابوبکر نے کہا کہ اگر اس معاملے میں ریاستی حکومت اور ضلعی انتظامیہ مناسب اقدامات نہیں اٹھائے گی تو اس احتجاجی مظاہرے میں توسیع کرتے ہوئے ریاست گیر احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاجی مظاہرہ صرف اس وقف جائیداد تک کے لیے محدود نہیں ہے ۔ ریاست تمل ناڈو میں اس طرح کئی ہزار وقف جائیداد پر قبضہ جات ہوئے ہیں ان وقف جائیداد کی بازیابی کے لیے بھی ہم مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے۔ اس ضمن میں احمد شاہ بڑے مکان مسجد کے صدر کے ۔ ذاکر حسین نے کہا کہ تمل ناڈو وقف بورڈ کے زیر اختیار تروللور ٹاؤن ، پیرومباککم سروے نمبر 229/3کی 2ایکڑ 44سینٹ جائیداد جو تقریبا 100کروڑ کی مالیت کی وقف جائیدادہے۔ اس جائیداد کو " "CHENNAI SILKS نامی کمپنی کو گزشتہ 17.11.2016 کو دھوکہ دہی کے ذریعے جعلی دستاویز تیار کرکے (Document No 11378/2016…Tiruvallur SRO)کے ذریعے غیر قانونی فروخت کی گئی ہے۔ اس ضمن میں ہم نے تروللور کلکٹر، ریوینو آفیسر،کو 6/12/2016 سے شکایت کرنے کے بعد RDOتحقیقات ہوئی تھی۔ RDOتحقیقات کے تین ماہ بعد بھی ہمیں اس تعلق سے کوئی جانکاری نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ مذکورہ وقف زمین میں 500کروڑ کی لاگت سے 11منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی کوشش جاری ہے اور مذکورہ وقف جائیداد میں تعمیراتی کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہم نے کلکٹر سے شکایت کی لیکن کلکٹر کی طرف سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جانے کی صورت میں ہم نے اس احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس احتجاجی مظاہرے کے بعد اس معاملے میں ضلعی انتظامیہ اور ریاستی سرکار حرکت میں آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ بھی اس معاملہ میں مناسب کارروائی کررہی ہے ۔ تروللور ضلع میں مسلمانوں کی قلیل آبادی ہے ۔ ایسے صورتحال میں ایک بڑی کمپنی کے خلاف کارروائی کرنے کی وجہ سے ہمارے جان و مال کو بھی خطرہ درپیش ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے میں ریاست کے دیگر سیاسی پارٹیاں بھی ریاستی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے آگے آئیں تاکہ مذکورہ وقف جائیداد کی بازیابی ہوسکے۔ احتجاجی مظاہرے میں کثیر تعداد میں مقامی اور پارٹی کارکنان شریک رہے۔ مظاہرے کے اختتام میں جماعت العلماء کے ضلعی سکریٹری حافظ حسنی نے تمام کا شکریہ ادا کیا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/o6H4Z

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے