Breaking News
Home / اہم ترین / 19 ہفتوں بعد سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کا محاصرہ ختم۔ نماز جمعہ پڑھنے کی،دی گئی اجازت

19 ہفتوں بعد سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کا محاصرہ ختم۔ نماز جمعہ پڑھنے کی،دی گئی اجازت

سری نگر ( ہرپل نیوز، ایجنسی)25 .نومبر:انیس ہفتوں تک مقفل اور سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں رہنے والی کشمیری عوام کی سب سے بڑی عبادت گاہ ’تاریخی و مرکزی جامع مسجد سری نگر‘ میں جمعہ کو نماز کی ادائیگی پر عائد غیراعلانیہ پابندی ہٹالی گئی اور اس622 برس قدیم تاریخی مسجد میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے نماز جمعہ اجتماعی طور پر ادا کی۔ تاہم حریت کانفرنس (ع) چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء جموں وکشمیر کے امیر میرواعظ مولوی عمر فاروق کو تاریخی جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اگرچہ میرواعظ نے اپنی خانہ نظربندی توڑتے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ اپنی نگین رہائش گاہ سے تاریخی جامع مسجد کی طرف مارچ شروع کیا تھا، لیکن سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس نے اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے میرواعظ کو حراست میں لیکر پولیس تھانہ نگین منتقل کیا تھا۔ اس کے بعد میرواعظ نے نومبر میں بھی جامع مسجد جانے کی کوشش کی ، تاہم اُن کی کوشش کو ہربار ناکام بنادیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ سری نگر کے پائین شہر کے ’نوہٹہ‘ علاقہ میں واقع اس تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں ہر جمعہ کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ وادی کے مختلف علاقوں سے آکر نماز جمعہ ادا کرتے آئے ہیں۔خیال رہے کہ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں جاری کردہ اپنے ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر میں اعلان کیا تھا کہ تاریخی جامع مسجد کا محاصرہ توڑنے کے لئے 28 اکتوبر کو وادی بھر سے عوام تاریخی جامع مسجد کی طرف مارچ کریں گے جہاں ’نماز جمعہ‘ ادا کی جائے گی۔ اس اعلان سے قبل میرواعظ عمر فاروق نے 25 اکتوبر کو چشمہ شاہی سب جیل سے رہائی پانے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ جمعہ کو وہ مسلمانان کشمیر کے ساتھ جامع مسجد سری نگر میں جمعہ کی نماز ادا کریں گے اور کرفیو اور بندشوں کی صورت میں اس کی خلاف ورزی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے ساتھ ہی جہاں اطراف واکناف میں سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا، وہاں سیکورٹی فورسز نے اس تاریخی جامع مسجد کو سخت محاصرے میں لیکر اس کے باب الداخلے مقفل کردیے تھے۔ اگرچہ قریب 55 دنوں بعد کرفیو ہٹا لیا گیا، تاہم تاریخی جامع مسجد کا محاصرہ جاری رکھتے ہوئے اس میں نماز کی ادائیگی پر قدغن جاری رکھی گئی تھی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/4yQZW

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے