Breaking News
Home / اہم ترین / 80 فیصد گئوركشک سماج دشمن عناصر، دو سال میں پہلی بار مودی جی نے کی ہمارے ’’من کی بات‘‘

80 فیصد گئوركشک سماج دشمن عناصر، دو سال میں پہلی بار مودی جی نے کی ہمارے ’’من کی بات‘‘

نئی دہلی7/اگست(ہرپل نیوزایجنسی)۔وزیر اعظم نریندر مودی نے آج پہلی بار ٹاون ہال انداز میں ملک کے شہریوں سے براہ راست بات چیت کی۔ اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں منعقد پروگرام میں پی ایم مودی نے عوام کے سوالوں کے جواب دئیے۔

اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں مودی نے کہا کہ ان دنوں بہت سے لوگوں نے گئوركشا کے نام پر دکانیں کھول رکھی ہیں۔ مجھے اتنا غصہ آتا ہے۔ کچھ لوگ جو پوری رات سماج مخالف سرگرمی کرتے ہیں لیکن دن میں وہ گئوركشک کا چولا پہن لیتے ہیں۔ میں ریاستی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ایسے گئوركشكوں کا ڈوسئیر تیار کریں ان میں سے 70-80 فیصد اینٹی سوشل عناصر نکلیں گے۔ سچ مچ میں وہ گئو رکشک ہیں تو وہ پلاسٹک پھینکنا بند کروا دیں۔ گایوں کا پلاسٹک کھانا رکوا دیں تو یہ سچی گئو سیوا ہوگی کیونکہ سب سے زیادہ گائیں پلاسٹک کھانے کی وجہ سے ہی مرتی ہیں۔ مودی نے کہا کہ رضاکارانہ خدمت دوسروں کو تکلیف دے کر نہیں ہوتی۔ وہ خود کی خوشی سے دوسروں کے بھلے کے لئے کام کرنا ہوتی ہے

س میگا ایونٹ کے دوران نیا پی ایم او ایپ بھی لانچ کیا گیا۔ اس ایپ کے ذریعے لوگ براہ راست وزیر اعظم کی ویب سائٹ سے جڑ سکیں گے۔ پروگرام کا انعقاد حکومت کا شہری شریک پلیٹ فارم مائی گورنمنٹ اپنے دو سال پورے ہونے کے موقع پر کر رہا ہے۔ پروگرام کا افتتاح انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے کیا۔

اس موقع پر مودی نے کہا کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کا عام مطلب یہ رہ گیا تھا کہ ووٹ دو اور پانچ سال کے لئے مسائل کے حل کا ٹھیکہ کسی کو دے دو۔ اگر وہ ناکام رہا تو کسی دوسرے کو یہ ٹھیکہ دے دو۔ الیکشن جیتنے کے بعد حکومتوں کی توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ وہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں، عوامی مقبولیت کس طرح بڑھائیں، کیا راستے تلاش کریں اور اس کی وجہ سے جس مقصد سے کارواں چلتا ہے وہ کچھ ہی قدموں پر جا کر ٹھٹھک جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے ملک میں گڈ گورننس، چیک اینڈ بیلنس کا نظام، اسکروٹنی، ذمہ داری کے ساتھ جوابدہی کے تئیں بے حسیداخل ہو گئی۔ ملک میں تبدیلی لانے کے لئے جتنی اہمیت پالیسیوں اورمنصوبہ بندیوں کی ہے اتنی ہی اہمیت لاسٹ مین ڈلیوری کی ہے

مودی نے کہا کہ آپ نے جو منصوبہ بندی کی ہے اس کا پھل اگر آخری آدمی تک نہیں پہنچا تو کچھ دن کے لیے تو تالیاں مل جائے گیں لیکن گڈ گورننس نہ ہونے پر عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ سرکاری پیسے سے اسپتال تو بن جائے گا لیکن گڈ گورننس کے بغیر مریض وہاں بھٹكتا رہے گا۔ اسے بستر نہیں ملے گا۔ مناسب دوائیں نہیں مل پائیں گی۔ یعنی بغیر گڈ گورننس کے ڈیولپمنٹ بھی بیکار ہے۔

مودی نے کہا کہ ہمارے یہاں پنچایت میں کچھ ہو جائے، ضلع پنچایت میں کچھ ہو جائے، میونسپل کارپوریشن میں یا میونسپلٹی میں، ضلع میں کچھ ہو جائے یا ریاست میں کچھ ہو جائے تو پی ایم سے جواب مانگا جاتا ہے۔ یہ سیاسی طور پر تو ٹھیک ہو سکتا ہے، ٹی آر پی کے لئے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن گورننس کی سطح پر اس میں بہت نقصان ہو جاتا ہے کیونکہ وزیر اعظم کے علاوہ باقی تمام لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی ذمہ داری ہے لیکن ان سے جواب نہیں مانگا جا رہا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ui77i

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے