Home / اہم ترین / آخر کار آیا بابری مسجد ملکیت مقدمہ کا حتمی فیصلہ۔ مسجد کی متنازع زمین پر بنے گا مندر، مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی کہیں اور پانچ ایکڑ زمین دینےسپریم کورٹ کا حکم

آخر کار آیا بابری مسجد ملکیت مقدمہ کا حتمی فیصلہ۔ مسجد کی متنازع زمین پر بنے گا مندر، مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی کہیں اور پانچ ایکڑ زمین دینےسپریم کورٹ کا حکم

نئی دہلی(ہرپل نیوزایجنسی)9 نومبر: ۔ سپریم کورٹ نے پانچ سو سال سے زائد پرانے ایودھیا رام جنم بھومی تنازعہ کا آج تصفیہ کرتے ہوئے متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو سونپنے اور سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لئے ایودھیا میں ہی مناسب مقام پر پانچ ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو دی جائے گی اور سنی وقف بورڈ کو اجودھیا میں ہی پانچ ایکٹر اراضی دستیاب کرائے جائے گی۔ گربھ گرہ اور مندر کے احاطے کا باہری حصہ رام جنم بھومی نیاس کو سونپا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین ہندوؤں کو دی جائے گی اور اس کے لیے ایک ٹرسٹ کا قیام کیا جائے۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ فی الحال اس متنازعہ زمین کو حکومت اپنے قبضے میں لے گی اور دی گئی ہدایت کے مطابق آگے کی کارروائی کرے گی۔ البتہ سپریم کورٹ نے اس بات کو مانا ہے کہ 1949 تک بابری مسجد میں نمازہوتی رہی ہے، اور بابری مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی-سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تین سے چار مہینے میں ایک ٹرسٹ بنائے جس کے حوالے متنازعہ زمین کریں؛ تاکہ مندر کی تعمیر ہوسکے۔
بنچ نے کہا کہ متنازعہ مقام پر رام للا کے جنم کے وافر شواہد ہیں اور اجودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہندوؤں کی آستھا کا معاملہ ہے اور اس پر کوئی تنازع نہیں ہے۔ آئینی بنچ میں جسٹس گگوئی کے علاوہ جسٹس شرد اروند، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس عبدالنذیر شامل ہیں۔ بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ مرکزی حکومت تین سے چار مہینوں کے دوران مندر کی تعمیر کے لئے ایک نیاس تشکیل دے اور اس کا انتظام اور ضروری تیاریاں کرے۔
فیصلے کے اہم نکات
جہاں بابری مسجد کے گنبد تھے وہ جگہ ہندوؤں کو دی گئی ہے۔
عدالت نے کہا کہ سنّی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ زمین نمایاں جگہ پر دی جائے۔
متنازع زمین پر ہندوؤں کا دعویٰ جائز ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے تین مہینوں میں ایودھیا کے بارے میں ایکشن پلان تیار کرنے کو کہا ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ ایک مدعی نرموہی اکھاڑے کو ٹرسٹ میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مرکزی حکومت کرے گی۔
نرموہی اکھاڑے کے دعوے کو مسترد کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عقیدے کی بنیاد پر مالکانہ حق نہیں دیے جا سکتے۔
بابری مسجد کے نیچے ایک ایسا ڈھانچہ ملا ہے جو اپنی ہیت میں اسلامی نہیں ہے۔
ایودھیا سے متعلق فیصلہ دیتے ہوئے چیف جسٹس جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ آثار قدیمہ کے شواہد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلہ سناتے ہوئے سب سے پہلے چیف جسٹس نے متنازع زمین پر شیعہ وقف بورڈ کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ خیال رہے کہ مسلمانوں کی جانب سے سنّی وقف بورڈ کے ساتھ شیعہ وقف بورڈ نے بھی اپنا دعوی پیش کیا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/emm5T

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.