Home / اہم ترین / ابتدائی افراتفری کے بعدکابل میں امن، جنگ کے خاتمے کا اعلان

ابتدائی افراتفری کے بعدکابل میں امن، جنگ کے خاتمے کا اعلان

کابل: (ہرپل نیوز؍ایجنسی) 17؍ اگست: طالبان کے قبضے کے ایک دن بعد پیر کو کابل میں حالات معمول پر آنے لگے ہیں ۔ شہر میں امن ہے مگر سراسیمگی کو بھی واضح طور پرمحسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس بیچ طالبان نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے تمام افغان لیڈران کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہےا ور کہا ہے وہ کہ بات چیت اور اقتدار کی پرامن منتقلی کیلئے تیار ہیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے احترام کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

’الجزیرہ ‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں طالبان کے سیاسی امور کے ترجمان محمد نعیم نے پیر کوکہا ہےکہ ’’آج افغان عوام اور مجاہدین کیلئے عظیم دن ہے۔ انہیں اپنی۲۰؍ برس کی قربانیوں اور جدوجہد کا پھل مل گیا ہے۔ ‘‘ انہوں نےاعلان کیا کہ ’’ملک میں جاری جنگ ختم ہوچکی ہے، ہم اپنے مقصد تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ مقصد ملک اور عوام کی آزادی تھا۔‘‘ افغانستان کی نئی حکومت کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ اس کی نوعیت بہت جلد واضح ہوجائےگی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام افغان لیڈروں کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ طالبان ان سب سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

افغانستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تعلق سے اور خاص طور سے خواتین کے حقوق کے تعلق سے اندیشوں کے اظہار کے بیچ طالبان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کریںگے۔ اس کے ساتھ ہی طالبان نے واضح کیا ہے کہ جو غیر ملکی شہری ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں انہیں اس کا موقع دیاجائےگا۔ محمد نعیم نے الجزیرہ سے گفتگو کے دوران عالمی برادری کے ساتھ تعاون کا بھی اشارہ دیا اور کہا کہ ’’طالبان الگ تھلگ نہیں رہنا چاہتے، وہ دنیا کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں، امید ہے غیر ملکی قوتیں افغانستان میں اپنے ناکام تجربےنہیں دہرائیں گی۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی ہماری زمین پر کسی کو نشانہ بنائے اور ہم دوسروں کو کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتے۔ ‘‘

ایسے وقت میں جبکہ تمام ممالک افغانستان میں اپنے سفارتخانے بند کررہے ہیں، چین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستی اور تعاون کو بڑھانا چاہتا ہے۔ طالبان نے بھی اس کا مثبت جواب دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے طالبان پر زور دیا کہ انھیں اقتدار کی پرامن منتقلی کے ساتھ ہی کھلے ذہن کی شراکت داری پر مبنی اسلامی حکومت کے قیام کے اپنے اعلان کو پورا کرنا ہوگا تاکہ افغان اور بین الاقوامی شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

چین کے علاوہ پاکستان اور روس نے بھی طالبان کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کا اشارہ دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سفارت خانوں کو بند نہیں کریں گے۔ پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریوں کو افغانستان سےنکلنے میں مدد جاری رکھے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Nhc3g

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.