Home / اہم ترین / اترا کھنڈ :وقف بورڈ کااسمارٹ مدرسہ قائم کرنے کا منصوبہ

اترا کھنڈ :وقف بورڈ کااسمارٹ مدرسہ قائم کرنے کا منصوبہ

دہرادون:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)24؍نومبر: ریاست اتراکھنڈ کے دیگر تعلیمی اداروں کے برابر مدارس کو لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی پیش رفت میں اتراکھنڈ وقف بورڈ نے اپنے 103 مدارس میں سے سات کو ماڈل مدارس کے طور پر تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے،جہاں تمام مذاہب کے طلباء تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

ان اداروں میں طلباء کے پاس ایک مناسب ڈریس کوڈ ہوگا، جو اتراکھنڈ ایجوکیشن بورڈ میں رجسٹرڈ ہوگا۔ سات مدارس میں سے دو ہردوار، دہرادون، ادھم سنگھ نگر اور ایک نینیتال ضلع بنائے جا رہے ہیں۔

ان اداروں میں لائی جانے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے ٹائمس آف انڈیاکو بتایا کہ ہم نے سات مدارس کی نشاندہی کی ہے جنہیں اسمارٹ مدارس میں تیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صبح کو فجر کی نماز کے بعد ایک گھنٹہ تک طلباء کو قرآن مجید کی تعلیم دی جائے گی۔اس کے بعد مدرسہ دوپہر 2 بجے تک ایک عام اسکول کی طرح کام کرے گا۔

شاداب شمس نے کہا کہ یہ مدارس اتراکھنڈ بورڈ سے منسلک ہوں گے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلباءکے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ پیشہ ورانہ کیریئر اختیار کریں یا مولوی یا مفتی بنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ طالب علم کا اپنا انتخاب ہوگا کہ وہ کس شعبہ میں جانا پسند کریں گے،البتہ ہم انہیں ایک روشن کیریئر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاداب شمس نے مزید کہا کہ ان اداروں میں ایک این سی ای آر ٹی کے کورسز کو نافذ کیا جائے گا۔

ان مدارس میں تمام مذاہب کے طلبہ تعلیم حاصل کر سکیں گے کیونکہ اس سے قبل دیگر مذاہب کے بچے عربی نہیں پڑھتے تھے۔ یہ تبدیلیاں بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھیں لیکن اب تک کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی تھی۔ وزیراعلیٰ نے ان مدارس کو ترقی دینے کے لیے ہمیں ہر طرح کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

اس وقت ریاست اتراکھنڈ میں419 مدارس ہیں جو وقف بورڈ کے پاس رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے 103 مدارس خود بورڈ کے ہیں۔ ان 419 رجسٹرڈ مدارس کے علاوہ، وقف بورڈ حکام کا خیال ہے کہ اتراکھنڈ میں تقریباً 400 سے زیادہ غیر تسلیم شدہ مدارس ہیں۔

ستمبر میں اتراکھنڈ حکومت نے پڑوسی ریاست اتر پردیش کی طرز پر تمام مدارس کا سروے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جب کہ یوپی صرف غیر تسلیم شدہ مدارس میں سروے کر رہا ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے کہا کہ وہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں مدارس کا جائزہ لے گی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ULnme

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.