Home / اہم ترین / اتر پردیش یا اپرادھ پردیش؟دس مہینوں میں ایک ہزارسے زائد انکاؤنٹرز۔ سینکڑوں مسلمان اور دلت این ایس اے کے تحت گرفتار۔ خوف کے سائے میں یوپی کی اقلیتیں

اتر پردیش یا اپرادھ پردیش؟دس مہینوں میں ایک ہزارسے زائد انکاؤنٹرز۔ سینکڑوں مسلمان اور دلت این ایس اے کے تحت گرفتار۔ خوف کے سائے میں یوپی کی اقلیتیں

اترپردیش میں ان دنوں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ، یو گی ادتیہ ناتھ کی حکومت نے ایک طرح سے ریاست کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور دلتوں پر عرصہ حیات تنگ کر کے رکھ دیا ہے یہ ہمارا الزام نہیں بلکہ اخبارات اور میڈیا رپورٹیں اس کی گواہی دے رہے ہیں، یو گی حکومت پر یہ الزامات بھی عائد کیے جارہے ہیں کہ وہ این ایس اے یعنی نیشنل سیکورٹی ایکٹ ، یو اے پی اے یعنی ان لا فل ایکٹ ویٹی پروینشن ایکٹ اور پولیس انکاؤنٹر ز کو اپنے مخالفین کے خلاف ہتھیارکے طور پر استعمال کررہی ہے ، پچھلے دس مہینوں میں ، بہرائچ، کانپور اعظم گڑھ اور بارہ بنکی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ریاست کو ٹیرر اسٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا چند ایک مثالیں کچھ اس طرح ہیں ۔

پہلا منظر :قومی جانچ ایجنسی این آئی اے اچانک دہلی اور یو پی کے سولہ مقامات پر چھاپے مارتی ہے ، اس کارروائی میں ایک درجن مسلم نوجوانو ں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور جانچ ایجنسی یہ انکشاف کرتی ہیکہ آئی ایس آئی ایس کا نیا ماڈیول حرکت الحرب الاسلام دارلحکومت دہلی کو دہلانے کی سازش کررہا تھا ، جن لوگوں کو اس سازش کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں زیادہ تر مفلس اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ، پکڑے گئے افراد میں ہاپوڑ جامع مسجد کے امام کے علاوہ مفتی، عالم اور مدرسوں کے فارغین شامل ہیں ۔علما نے ان گرفتاریوں پر سوال اٹھا یا ہے ، دہلی کے مفتی مکرم نے دعوی کیا کہ گرفتاریوں سے قبل خفیہ طریقے سے امروہہ اور دیگر علاقوں میں سروے کیا گیا تھا اور نشان زد طریقے سے کارروائی کی گی ہے جبکہ جمعیت علما ئے ہند محمود مدنی گروپ نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

دو سرا منظر :دہلی میں آٹو رکشہ چلانے والے یوسف کا تعلق یو پی کے ضلع بہرائچ سے ہے ، وہ دہلی میں آٹو چلاکر دن بھر میں دو سو سے تین سو روپئے کماتا ہے ، اور دو تین مہینے میں ایک بار گھر جاتا ہے اس مرتبہ اکتوبر کے مہینے میں جب یوسف گھر پہنچا تو گھر کا منظر بدلا ہوا تھا بیس اکتوبر کو دُرگا جلوس کے دوران ہوئے تشدد میں بلوائیوں نے اس کے جھونپڑے کو نذر آتش کردیا تھا یوسف کی اہلیہ اور ان کے چھ بچے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے تھے یوسف کی اہلیہ مٹی کے چولہے پر رکھے برتن میں آلو ابال رہی تھی یہی ان کے رات کے کھانے کا انتظام تھا ۔لیکن کہتے ہیں کہ جب مصیبت آتی ہے تو چاروں طرف سے آتی ہے یوسف اپنے خاندان کی کفالت کاواحد ذریعہ تھا اس کا گاؤں پہنچنا بہانہ ہوگیا، پہلے بلوائیوں نے سب کچھ خاک میں ملا دیا رہی سہی کسر اس طرح پوری ہوگئی کہ یوسف کو این ایس اے کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالدیا گیا۔ بات صرف یوسف کی گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ بہرائچ کے دو سو مسلم نوجوانوں کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمے درج ہوئے جن میں سے انیس کو گرفتار کیا گیا جبکہ سینکڑوں مسلم نوجوان خوف کے مارے گاؤں چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔یہ اور بات ہیکہ میڈیا میں جب پولیس کی کارروائی پر انگلیاں اٹھنے لگی تو یو اے پی اے ہٹا لیا گیا لیکن پولیس کو جو دہشت پھیلانی تھی وہ پھیل چکی تھی اور گاؤں ویران ہوچکا تھا ۔

تیسرا منظر:کانپور کے عبدالحاکم کا شمار سیاسی میدان کے ابھرتے لیڈروں میں ہوتا ہے ، وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔برادران وطن بھی ان کے کاموں کا برملا اعتراف کرتے ہیں لیکن کانپور میونسپل کارپوریشن کے چناؤ سے دو مہینے پہلے کانپور کے جوہی پرم پورہ علاقے میں جہاں دلتوں اور مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں محرم کے جلوس کو لیکر فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل جاتی ہے ، مقامی لوگوں کا الزام ہیکہ درگا واہنی کے لوگوں نے تشدد برپا کیا تھا ،آتش زنی اور پتھراؤ کیا تھا اس آتشزنی میں دوجنوں گاڑیاں خاکستر ہوگئیں تھیں اور ایک درجن کے قریب پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے اس تشدد کے سلسلے میں دونوں طرف سے شکایتیں درج کروائی گئیں تھیں لیکن پولیس کی کارروائی ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود رہی ۔رہی بات حاکم کی تو حاکم کو این ایس اے کے تحت گرفتار کرلیا گیا ، پھر یہ ہوتا ہیکہ میونسپل چناؤ میں بی جے پی کے ٹکٹ پر کھڑا ایک دلت چناؤ جیت جاتا ہے ، حاکم اور اس جیسے درجنوں نوجوان جیل کی کال کوٹھری میں ہیں ۔

چوتھا منظر: بارہ بنکی کے دیوا شریف میں صوفی منش بزرگ حاجی وارث علی شاہ کا مزار ہے ، یہ درگاہ ان معنوں میں پورے ملک میں منفرد کہی جاسکتی ہے کیونکہ یہاں ہر سال ہولی کے موقع پر گلاب اور گلال سے ہولی کھیلی جاتی ہے ، دوسرے معنوں میں یہ ہندو مسلم اتحاد کا مرکز ہے جہاں ملک کے کونے کونے سے پہنچنے والے ہندو اور مسلم عقیدت مند مل کر دیوا شریف میں ہولی کھیلتے ہیں یہ روایت کافی برسوں سے جاری ہے۔لیکن جب یوگی ادیتہ ناتھ اقتدار میں آئے تو انھوں نے اپنی تقریر میں کہا دیوا میں بجلی ہے اور مہا دیوا میں نہیں جس کا واضح اشارہ دیوا شریف میں واقع مہا دیو مندر کی طرف تھا قابل ذکر بات یہ ہیکہ مہا دیو مندر سے متصل زیادہ تر دکانیں مسلمانوں کی ہیں جو وہاں پھول، ناریل اور دیگر کاروبار سے جڑے ہیں ، لیکن چونکہ ریاست کے سربراہ نے نفرت کا بیج بو دیا تو ظاہر سی بات ہے ثمرات توظاہر ہونگے ہی ہوا بھی ویسا ہی ہندو یوا واہنی کے غنڈے وہاں پہنچتے ہیں اور تشدد پھوٹ پڑتا ہے حالانکہ پرتشدد واقعات کے ثبوت گواہ اور شکایت کرنے والے موجود ہیں لیکن پولیس ایک مخصوص طبقے کے خلاف کارروائی کرتی ہے جبکہ ہندو یوا واہنی کے غنڈوں کے خلاف پولیس کو کوئی ثبوت نہیں ملتا اس سے حکومت اور امن و امان کی محافظ کہلانے والی حفاظتی مشنریوں کے اغراض و مقاصد کیاہیں یہ صاف ہوجاتا ہے

پانچواں منظر:چندرشیکھر آزاد نامی ایک دلت نوجوان سہارن پور میں بھیم آرمی قائم کرتا ہے ۔ ایک سال پہلے قائم ہوئی یہ تنظیم کافی تیزی سے ابھرتی ہے اور چندر شیکھر آزاد کودلت طبقے میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے لیکن اسی سال مئی میں سہارن پور میں فرقہ وارانہ کشیدگی ہوتی ہے ، بتایا جاتا ہیکہ دلت اور پسماندہ طبقے کے افراد اعلی ذات کے لوگوں کے ظلم اور ذیادتیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے اسی دوران ٹھاکروں اور دلتوں کے بیچ جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں گھروں کو نذر آتش کیا گیا تھا ۔قابل ذکر بات یہ ہیکہ چندر شیکھر آزاد کے وکیل جی بی بھاؤ سار کا دعوی ہیکہ جس وقت احتجاج ہورہا تھا سہارن پور کے ڈی ایم نے چندر شیکھر آزاد کو فون کرکے بلایا تھا اور حالات کو پرامن کرنے کی اپیل کروائی تھی لیکن اسی دوران پولیس کے لاٹھی چارج کرنے کی وجہ سے حالات بے قابو ہوگئے اس تشدد میں کافی مالی نقصان ہوا کئی گھروں کو خاکستر کردیا گیا یہاں تک کہ پولیس اسٹیشن کو بھی نذر آتش کردیا گیا تھا بعد میں دلت طبقے اور صحافیوں نے مل کر کل پینتالیس شکایتیں درج کروائیں لیکن ان شکایتوں میں سے محض تین ایف آئی آر درج کی گئیں اس کے برعکس اعلی ذات کے کسی گروہ کے خلاف پولیس کو کوئی ثبوت نہیں مل پایا لیکن پولیس نے چندر شیکھر آزاد کے خلاف پانچ مقدمات ضرور درج کردیئے ، مزے کی بات یہ ہیکہ چندر شیکھر کو ٹرائیل کورٹ اور الہ آباد ہائی کورٹ سے پانچوں مقدمات میں براءت ہوجاتی ہے جیسے ہی پولیس کو بھنک لگتی ہے اسی روز سہارن پور کے ڈی ایم کے حکم پر چندر شیکھر آزاد کو این ایس اے کے تحت گرفتار کرلیا جاتا ہے ، اسطرح ایک صاف ستھرے کردار کے مالک چندر شیکھر آزاد آناً فاناً ملک کی سیکورٹی کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں اور انھیں جیل میں ڈال دیا جاتا ہے حال ہی میں13ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو سپریم کورٹ کی نوٹس پر یو پی حکومت چندر شیکھر آزاد پر سے این ایس اے ہٹاتی ہے اور انھیں رہائی نصیب ہوتی ہے لیکن ہر کوئی چندر شیکھر کی طرح خوش نصیب نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر کسی کی سپریم کورٹ تک رسائی کی حیثیت ہے۔

گرفتاریوں کا پس منظر اور این ایس اے:سن انیس سو اسسی کے دہے میں بنے اس قانون کے تحت کسی ملزم کو این ایس اے کے تحت گرفتار کرنے سے پہلے ایڈوائزری بورڈ کی رضا مندی لازمی ہے اور ایک مرتبہ ملزم پر این ایس اے لگ گیا تو سمجھ جائیے ، نہ کوئی اپیل نہ کوئی وکیل اور نہ کوئی دلیل کام آتی ہے ایک سال تک جیل کی کال کوٹھری ملزم کا مقدر بن جاتی ہے ، جو بھی ہونا ہے ایک سال بعد ،اس لحاظ سے اترپر دیش میں پچھلے دس مہینوں میں این ایس اے کے تحت ایک سو ساٹھ سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ٹھونس دیا گیا جن لوگوں کے خلاف این ایس اے لگایا گیا ہے ، ان میں زیادہ تر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ٹھیلے والے اور متوسط خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہیں، بات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ چالیس سے زائد دلتوں کو بھی اسی آزمائش کا سامنا ہے یعنی پچھلے دس مہینوں میں دو سو سے زائد افراد کو این ایس اے کے تحت جیلوں میں ٹھونسا گیا یہ بات ملک گیر سطح پر ہوتی توشاید کہ صبر کرلیا جاتا لیکن یہ سب کچھ ایک ہی ریاست اترپردیش میں ہورہا ہے، صحافتی حلقوں میں یہ تبصرے عام ہیں کہ یوگی حکومت مخصوص لوگوں کوچھوٹ دے رہی ہے جبکہ دلتوں اورمسلمانوں کولااینڈ آرڈر کے نام پر نشانہ بنایا جارہا ہے، دو سوافراد کے خلاف کارروائی کے ان کے اپنوں پرکیا اثرات مرتب ہوتےہیں اس کااندازہ لگایاجائےتو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان واقعات پر غور کیجئے اور اقبال خلش کا یہ شعر شاید انہی کیفیات کی عکاسی کر کے ہمیں دعوت فکر دے رہا ہے  ہمار ا ناک نقشہ مخبروں کو یاد ہے شاید 

ہر  اک دہشت کے پیچھے ایک ہی چہرہ نکلتا ہے 

این ایس اے کے تحت ان گرفتاریوں کا مقصد عوام کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ یہ طبقہ ملک کے لیے خطرہ بنا ہواہے جس کے سبب سماج میں انہیں شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اورتمام تردروازےان پر بندہوجاتےہیں، اپنے خاندان کی کفالت کا واحد ذریعہ دہلی میں آٹو چلانے والا بہرائچ کا یوسف کیا ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے،یا چندر شیکھر آزاد کیسے خطرہ بن جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے اس پرمعمولی دفعات کا کوئی مقدمہ بھی نہیں۔یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان گرفتاریوں کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کیونکہ معاشرے میں اس کے کئی طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اورجن پربیت رہی ہوتی ہے انھیں ہی اس کا احساس ہوتا ہے۔کانپور میں ایک طالبہ کے والد کواین ایس اے کے تحت گرفتارکرلیا جاتا ہے،طالبہ کواسکول میں فرقہ وارانہ طعنے سننے پڑتے ہیں اور نتیجےمیں اس کی تعلیم ترک ہوجاتی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ اور اپنے آپ میں حیران کن ہے،سچائی کے علمبرادر کچھ میڈیا حلقوں نے ان معاملات کواپنے طور پراٹھانے کی کوشش کی لیکن حکومت نے ایسی رپورٹوں کونیٹ پر بلاک کردیا ہے۔مقصد صاف ظاہر ہےکہ آپ تک پہنچنے والی ہرخبرکوروک دیاجائے اورایسا کرنے میں اقتدار میں بیٹھے لوگ بڑی حد تک کامیاب بھی ہورہے ہیں۔

تصویر کا دوسرا پہلو:مشرقی اترپردیش میں این ایس اے کوہتھیار بنایا گیاہےتومغربی یو پی میں انکاؤنٹر کے نام پر ٹارگیٹ کلینگ کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے، پچھلے دس مہینوں میں مغربی یو پی میں گیارہ سو بیالیس انکاؤنٹرکیے گئےمیڈیا رپورٹس کے مطابق جن لوگوں کوانکاؤنٹرکا نشانہ بنایا گیا۔ فیلڈ میں سرگرم صحافیوں کا کہنا ہیکہ مغربی اتر پردیش کےاضلاع میں یومیہ اوسطاً چارانکاؤنٹر کیے جارہے ہیں،رام نومی کے دن ایک ہی دن میں نو انکاؤنٹرکیے گئے،اس سےاترپردیش میں پولیس اورجانچ ایجنسیاں کن سرگرمیوں میں ملوث ہیں اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،جن لوگوںکوانکاؤنٹرکےنام پرمارا جارہا ہےان میں اکثرگاؤکشی کےملزمین بتائےجاتے ہیں۔انکاؤنٹرکی یکسانیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کچھ معاملات سپریم کورٹ تک گئے ہیں اورسپریم کورٹ نے یوپی حکومت سے جواب بھی طلب کیا ہے،لیکن ایک ریاست میں ایک سال میں ایک ہزار سے زائد انکاؤنٹرہونا یہ ملک کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہےجس کی نظیرماضی میں نہیں ملتی اس سے ریاست کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اوردلتوں میں خوف و ہراس کی کیا کیفیت ہوگی اس کا اندازہ لگانا دشوارہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حوق انسانی کی خلاف ورزی کی پاداش میں قومی حقوق انسانی کمیشن نے اترپردیش کی یوگی حکومت کو گیارہ مرتبہ نوٹسیں روانہ کر کےحکومت سے وضاحت طلب کی لیکن حکومت کی سہ زوری دیکھئے کہ اس نے نوٹس کا جواب تک دینا مناسب نہیں سمجھا، یہ تمام باتیں اترپردیش کی یوگی حکومت کو ایک ٹیرر اسٹیٹ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں، یعنی اس ریاست میں اب مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی بسر کرنا دشوارہوچکا ہے، اندھا دھند گرفتاریوں اورانکاؤنٹرزکا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ لوگ خوف کے مارے گھر بار چھوڑ کر جان بچانے کی فکر میں نقل مکانی کررہے ہیں اس سے ریاست میں حکومت کی سرپرستی میں پھیلائی جارہی دہشت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ایسے حالات میں جب ملک کی ایک بڑی ریاست کی اقلیتوں کاجینا محال کردیاجائے توعوام میں خوف وہراس فطری بات ہے لیکن المیہ یہ ہےکہ اس خونی کھیل کے خلاف ہمارے سیاسی قائدین اور ملت کی ہمدردی کا دعوی کرنے والوں کو بھی جیسے سانپ سونگھ گیا ہےکوئی ان معاملات اور حکومت کی غنڈہ گردی کے خلاف لب کشائی کے لیے تیار نہیں ہاں یوپی کے گلی کوچوں،چوراہوں اورہوٹلوں میں تین طلاق جیسے مسائل پر گرما گرم بحث ومباحثے جاری ہیں، لیکن مسلمانوں کو قسطوں میں مارا جارہا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ کیا یہ وہی ملت ہے جس کے تعلق سے اللہ کے رسول نے کہا تھا تما ری حیثیت ایک جسم کی مانند ہے جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہوتی ہےتودوسرا حصہ درد محسوس کرتا ہے تاہم یو پی کے یہ واقعات انسانیت کا درد رکھنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہےکہ قومی سطح پران ظالمانہ واقعات کے خلاف بلا تاخیرآواز اٹھائی جائے ورنہ ہماری خاموشی ہمیں کہیں کا بھی نہیں رکھے گی۔ نوازدیوبندی کے ان اشعار پر غور کریں دیکھیں کہ کس طرح کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

جلتے گھر کو دیکھنےوالو،پھوس کا چھپر آپ کا ہے

آگ کے پیچھے تیز ہوا ہے ،آگے مقدر آپ کا ہے

اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا

میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں، اگلا نمبر آپ کا ہے 

اس سے پہلےکہ ظلم کی یہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچےاس کے خلاف حقوق انسانی کےعلمبرداروں کو آواز اٹھانی ہوگی ورنہ مظلوم اسی طرح قسطوں میں مارے جاتے رہیں گے ۔

نوٹ :مضمون نگار اظہر الدین اورنگ آباد کےمعروف صحافی ہیں،مضمون کے مندرجات ان کے اپنےخیالات ہیں اس سے اتفاق ضروری نہیں ہے ( ادارتی بورڈ)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/fYbPG

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.