Home / اہم ترین / اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ١٢سال بعد اقتدار سے بے دخل۔ نفتالی بینیٹ ہوں گے نئے وزیراعظم ، اپوزیشن اتحاد کی جانب سے حکومت سازی کا اعلان۔اعتماد کا ووٹ جیتنا ضروری

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ١٢سال بعد اقتدار سے بے دخل۔ نفتالی بینیٹ ہوں گے نئے وزیراعظم ، اپوزیشن اتحاد کی جانب سے حکومت سازی کا اعلان۔اعتماد کا ووٹ جیتنا ضروری

یروشلم (ایجنسی)4جون۔مسلسل ۱۲؍ سال اسرائیل کا وزیر اعظم رہنے کے بعد اب نیتن یاہو کا اقتدار سے بے دخل ہونا یقینی ہو چکا ہے۔ کیونکہ یائیر لبید کی قیادت والے اپوزیشن کے اتحاد نے حکومت سازی کا اعلان کر دیا ہے۔ جبکہ یائیر لبید نے بدھ اور جمعرات کی شب اسرائیلی صدر کے دفتر کو اس بات سے مطلع کر دیا ہے کہ ان کے پاس اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے درکار حمایت موجود ہے۔

  اہم بات یہ ہے کہ اس حکومت میں مجموعی طور پر کل ۸؍ پارٹیاں شامل ہوں گی جن میں سب سے بڑی پارٹی یائیر لبید کی یش عتید ہے۔ واضح رہے کہ اس پارٹی کا شمار اسرائیل میں اعتدال پسند پارٹیوں میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف اس میں عرب اسلامی پارٹی یعنی ’رام‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی حمایت کے بغیر دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کی حکومت کا قیام ممکن نہیں ہے۔

  یاد رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے حکومت سازی کے تعلق سے معذوری ظاہر کئے جانے کے بعد آئین کی رو سے اسرائیلی صدر نےیائیر لبید کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی جن کی پارٹی کو ۱۷؍ سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ تعداد نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی ۳۱؍ سیٹوں کے بعد دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ لیکن یایئر لبید نے وزیر اعظم بننے کا پہلا موقع یامینا پارٹی کے لیڈر نفتالی بینیٹ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس محض ۷؍ سیٹیں ہیں۔ دونوں پارٹیوں کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق کچھ عرصے بعد وزارت عظمیٰ کا عہدہ یائیر لبید کو سونپ دیا جائے گا۔

  حالانکہ حکومت کی حلف برداری سے قبل ابھی بھی اس معاہدے کو پارلیمانی ووٹ کی ضرورت ہے۔ یائیر لبید نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے اسرائیلی صدر ( رخصت پذیر) ریون ریولن کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ ۸؍پارٹیوں کی شراکت سے حکومت بنانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہ حکومت تمام اسرائیلیوں کی خدمت کرے گی۔ ان لوگوں کی خدمت بھی جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا اور ان لوگوں کی بھی جنہوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا۔‘‘ یائیر لبید کے مطابق’’حکومت اپنے مخالفین کا احترام کرے گی اور (یہ سیاسی اتحاد) اسرائیلی معاشرے کے تمام حصوں کو متحد اورمربوط رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔‘‘

   اس اتحاد کا سب سے اہم پہلو ہے اس میں عرب اسلامی پارٹی جس کا عبرانی نام ’رام‘ ہے ، کا شامل ہونا۔ بہت سے ماہرین تھے جو اس اتحاد کوناممکن قرار دے رہے تھے۔ لیکن ’رام ‘ پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے باقاعدہ اتحاد میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کئے اور اس کی تصویر میڈیا میں بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔

 منصور عباس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ’ ’یہ فیصلہ سخت تھا اور کئی تنازعات کا شکار تھا، لیکن معاہدے تک پہنچنا زیادہ ضروری تھا۔‘‘انھوں نے کہا کہ ’عرب معاشرے کے مفاد کیلئے اس معاہدے میں بہت ساری چیزیں موجود ہیں۔‘‘ صدر کو لکھے گئے اپنے نوٹ میں یائیر لبیدنے کہا ہے کہ وہ نفتالی بینیٹ کے ساتھ مل کر حکومت کی سربراہی کریں گے، اور ۲۷؍ اگست ۲۰۲۳ءکو وزیر اعظم کی حیثیت سے اُن کی جگہ لیں گے۔

  ریون ریولن نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے جلد سے جلد اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اتحاد میں شامل پارٹیوں میں نیتن یاہو کو ہٹانے کے علاوہ کوئی موقف مشترک نہیں ہے۔ بلکہ مخالفین کا یہاں تک کہنا ہے کہ یہ حکومت زیادہ دنوں تک چل نہیں پائے گی۔ بلکہ بعضوں نے تو اس کے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے پر ہی شبہ ظاہر کیا ہے۔ اگر واقعی یہ اتحاد اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہا تو اسرائیل میں دو سال میں پانچویں بار الیکشن کروانا ہوگا۔ گزشتہ ۲؍ سال میں یہا ں چار حکومتیں بن کر گر چکی ہیں۔(

انقلاب ممبئی کے شکریہ کے ساتھ)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/0PGsF

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.