Home / اہم ترین / اسلام آباد: بچی کا ریپ اور قتل، عدالتی تحقیقات کے حکم پر احتجاج ختم

اسلام آباد: بچی کا ریپ اور قتل، عدالتی تحقیقات کے حکم پر احتجاج ختم

اسلام آباد ( ایجنسی)22مئی : اسلام آباد میں جنسی تشدد کے بعد قتل کی جانے والی دس سالہ بچی کے ورثا نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کے احکامات جاری ہونے کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا ہے۔ادھر اسلام آباد پولیس کے مطابق اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔
اسلام آباد کے علاقے علی پور فراش سے تعلق رکھنے والی یہ بچی پانچ روز سے لاپتہ تھی اور اس کی لاش منگل کو قریبی جنگل سے ملی تھی۔
مقتولہ بچی مقامی سکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ مقامی پولیس کے بقول ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون پر ’صلح کے لیے دباؤ‘
بیٹی کا باپ پر ریپ کا الزام:ایبٹ آباد میں تین سالہ بچی ریپ کے بعد قتل
ملتان : 12 سالہ لڑکی کے ریپ کا بدلہ، 17 سالہ لڑکی کا ریپ
گذشتہ دو ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں کمسن بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بارہ کہو کے علاقے میں ایک دو سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔لاش ملنے کے بعد ورثا نے پولیس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن اسمبلی محسن داوڑ بھی شریک ہوئے تھے۔
مقتولہ کے ورثا نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے احتجاج ختم کرنے کے لیے چار مطالبات کیے تھے جن میں واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل، مقدمہ سپریم کورٹ میں چلانا، مقتولہ کے والد کی مالی امداد اور قومی اسمبلی کے سپیکر یا کسی وفاقی وزیر کی مظاہرین کو مطالبات پر من وعن عمل درآمد کی یقین دہانی شامل تھے۔
ان مطالبات کے سامنے آنے کے بعد منگل کی شام سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ واقعے کی ہر سطح پر تحقیقات ہوں گی اور جلد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔منگل کو ہی اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر سے دس سالہ بچی کی عدالتی تحقیقات کا حکمنامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ادھر اسلام آباد پولیس کا بھی کہنا ہے کہ بچی کے اغوا اور پھر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق تینوں ملزمان مقتولہ کے ہمسائے ہیں اور گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے دو افغان باشندے ہیں جبکہ ایک پاکستانی ہے۔
پولیس نے ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔مقتولہ کے ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعے کی صرف رپورٹ درج کی جبکہ مقدمہ درج نہیں کیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے بچی کے والدگل نبی نے الزام عائد کیا کہ پہلے چار دن تک پولیس اُن کی گمشدہ بچی کی رپورٹ درج نہیں کر رہی تھی اور اُن کے بار بار تھانے جانے پر اُن سے عجیب و غریب سوالات کیے جاتے رہے۔
ان کا کہنا تھا 'میں روز تھانے جاتا تھا۔ کبھی کہتے کہ آپ کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی، کبھی کچھ کہا جاتا کبھی کچھ۔ میری مشکلات کا کسی کو احساس ہی نہیں تھا۔ آخر کار میں نے یہ کہا کہ میری بچی مرگئی ہوگی میں بھی خودکشی کر لوں گا'۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے بچی کے اغوا اور پھر اسے مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے پر ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاون غلام عباس کو معطل کرکے لائن حاضر کردیا ہے جبکہ ان کی جگہ دریا خان کو تھانے کا نیا انچارج تعینات کیا گیا ہے۔
چیف کمشنر اسلام آباد نے اس واقعے سے متعلق دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو دو ہفتوں میں تفتیش مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں گی۔
اگر ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والی خبروں کو دیکھا جائے تو گزشتہ چند ماہ میں ایک مرتبہ پھر کمسن بچیوں کے ریپ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن اور وکیل امتیاز احمد سومرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تعزیراتِ پاکستان میں ریپ کے قانون کے بارے میں آج بھی خامی ہے کہ اس قانون میں عمر کا تعین نہیں کیا گیا۔پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے
ان کے مطابق ریپ چاہے بچی کے ساتھ ہو یا عورت کے ساتھ اس کے لیے قانون کی ایک ہی دفعہ 376 ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا سزائے موت یا 25 سال قید جبکہ کم سے کم سزا دس سال ہے۔ ہمارے قانون میں خاص طور پر بچوں کے ساتھ ریپ کے لیے کوئی خاص قانون نہیں ہے۔
ان کے مطابق سیکشن 377 کا قانون عورت یا مردوں کے ساتھ بدفعلی کے مقدمات کے لیے تھا اور اس میں سنہ 2016 میں صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آنے کے بعد 377 اے اور 377 بی کا اضافہ کیا گیا جو کہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور اس کی سزا کے بارے میں ہیں۔
قانون میں ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
امتیاز احمد سومرا کا کہنا تھا کہ قوانین میں ترمیم کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جب بھی بچوں کے ساتھ کوئی جنسی زیادتی، پورنوگرافی یا جسمانی چھیڑ چھاڑ کرنے کا واقعہ ہوتا تھا تو ہمارے قانون میں کوئی خاص سیکشن موجود نہیں تھی جبکہ اگر کسی بچی کے ساتھ ایسا واقعہ ہوتا تھا تو سیکشن 376-511 یعنی اقدام زنا کے زمرے میں کیس بنتا تھا اور اگر بچہ ہوتا تو اس کو سیکشن 377-511 جو لواطت کے قانون کے زمرے آتا تھا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یہ قانون کمزور تھے اور ان کا فائدہ ملزموں کو ہوتا تھا۔
ایڈوکیٹ امتیاز احمد کا کہنا تھا کہ بچوں اور بچیوں سے متعلق قوانین میں ترمیم کے ذریعے بہتری تو لائی گئی ہے لیکن اب ان پر عملدرآمد کرنا اداروں کا کام ہے۔
انھوں نے پولیس کے تفتیشی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ناقص ہے اور کسی بھی واقعے کو درست دفعات لگا کر نہیں درج کیا جاتا اور اگر کسی کیس میں درست دفعات درج بھی کر دی جائیں تو ہمارے سست عدالتی نظام کی بنا پر کم از کم دو سال تک فیصلہ نہیں ہو پاتا۔‘
ان کا کہنا تھا اس وجہ سے نئے قوانین کے تحت درج مقدمات کے ابھی تک فیصلے نہیں ہوئے تھے اور زیادہ تر مقدمات زیر سماعت ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/XdvOd

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.