Home / اہم ترین / اسمبلی انتخابات 2021: پانچ ریاستوں کے لئے ووٹوں کی گنتی شروع۔ بنگال میں ٹی ایم سی کو رجحانات میں بھاری سبقت۔

اسمبلی انتخابات 2021: پانچ ریاستوں کے لئے ووٹوں کی گنتی شروع۔ بنگال میں ٹی ایم سی کو رجحانات میں بھاری سبقت۔

نئی دہلی(ہرپل نیوز ، ایجنسی)2مئی۔: مغربی بنگال ، تمل ناڈو ، کیرالہ ، آسام اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی مختلف ریاستوں کی تین لوک سبھا اور 14 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سکیورٹی کے سخت انتظامات اور کووڈ 19 کے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے اتوار کی صبح آٹھ بجے شروع ہو گئی ہے ۔ طے شدہ انتظامات کے تحت پہلے پوسٹل ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اورشام تک منظر نامہ صاف ہو نے کے امکانات ہیں ۔

مغربی بنگال:مغربی بنگال میں اس وقت پوسٹل بیلٹوں کی گنتی جاری ہے ۔ خبر لکھے جانے تک 292سیٹوں پر رحجانات آ چکے ہیں ۔ جن میں ٹی ایم سی206، بی جے پی83 سیٹوں پر آگے ہے۔ اسی وقت ، یونائیٹڈ فرنٹ آف لیفٹ ، جس میں کانگریس بھی شامل ہے 2 نشستوں پر آگےہیں۔جبکہ 1سیٹ پردیگر آگے ہیں۔وہیں نندی گرام سے ممتا بنرجی پیچھے چل رہی ہے۔ مرکزی وزیر بابول سوپریوٹولی گنج سے آگے چل رہے ہیں۔

مغربی بنگال میں کل 294 اسمبلی سیٹوں میں سے 292 سیٹوں پر آٹھ مرحلوں میں ووٹنگ کرائی گئی تھی جبکہ شمشیرجنگ اورجنگی پور اسمبلی حلقوں سے دو امیدواروں کی موت کی وجہ سے انتخابات ملتوی کردیئے گئے۔ ریاست کے 108 ووٹ شماری مراکز پر تین سطحی سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں ، جہاں قائم سٹرانگ روم میں ای وی ایم اور وی وی پیٹ کو سخت سکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔

ووٹ شماری مراکز میں کم از کم 292 مبصرین اور مرکزی سکیورٹی فورسز کی 256 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں ۔ انتخابات میں 2116 امیدواروں نے اپنی قسمت آزمائی ہے ۔ یہاں اصل مقابلہ حکمراں ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان ہے ، حالانکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا یا ہے ۔

تمل ناڈو

تمل ناڈو میں 234 سیٹوں پرہوئے انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے لئےتین سطحی سکیورٹی کے لئے ریاستی پولیس اہلکاروں کے علاوہ مرکزی نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ تمام ووٹ شماری مراکز میں ویڈیو گرافی اور سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ گزشتہ 6 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں 3،998 امیدوار میدان میں تھے۔ تادم تحریر یہاں حکمراں اے این اے ڈی ایم کے95 یٹوں پر بڑھت بنائے ہوئے ہے جبکہ حکومت مخالف لہر کا دعوی کرنے والی ڈی ایم کے 10 سال تک حزب اختلاف میں رہنے کے بعد اقتدار میں آنے کے لئے بیتاب ہے اور رجحانات میں183سیٹوں پر آگے چل رہی ہے ۔

کیرالہ

کیرالہ میں 140 سیٹوں پر انتخابات کے ووٹوں کی گنتی ہو رہی ہے۔ جہاں اپنی قسمت آزمانے والوں میں وزیر اعلی پنارائی وجین (دھرم دام) ، بی جے پی کے ریاستی صدر کے سریندرن (منجیشورم) ، میٹرو مین ای شری دھرن ، وزیر صحت کے کے شیلجا (مٹنور) ، سابق وزیر اعلی اومان چانڈی (پتھپلی) ، وزیر ای چندرشیکھرن اور سابق ڈی جی پی۔ جیکب تھامس شامل ہیں ۔یہاں ایل ڈی ایف 95 اور یوڈی ایف 42جبکہ بی جے پی 3سیٹوں پر آگے چل رہی ہے ۔

شمال مشرق

شمال مشرق میں 126 سیٹوں والے آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرقیادت ’میترجوت‘ اور کانگریس کی زیرقیادت ’مہاجوت‘ دونوں ہی اتحادی جماعتوں نے ریاست میں اگلی حکومت بنانے کا دعوی کیا ہے۔

پڈوچیری

مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری اسمبلی کی 30 سیٹوں پر اصل مقابلہ ترقی پسند اتحاد اور قومی جمہوری اتحاد کے درمیان ہے۔اس کے علاوہ آندھرا پردیش کی تروپتی ، کرناٹک کی بیلگام اور تامل ناڈو کی کنیاکماری لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی انتخابات سمیت راجستھان کی سہارا ، راجسمند ، کرناٹک کی باسوکلیان اور مسکی ، دموہ (مدھیہ پردیش) ، پنڈھر پور (مہاراشٹرا) ، سالٹ (اتراکھنڈ) ، سیرچھپ (میزورم) ، نوکسین (ناگالینڈ) ، پپلی (اڈیشہ) اور ناگ ارجن ساگر (تلنگانہ) اسمبلی سیٹوں پر ہوئےضمنی انتخابات کےووٹوں کی گنتی بھی شروع ہوگئی ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ شام تک منظر نامہ صاف ہوگا کہ کس ریاست میں کس کی حکومت بنے گی ۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/kNaC8

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.