Home / اہم ترین / اسپین میں بیل دوڑ مقابلوں کے مستقبل پر بحث چھڑ گئی

اسپین میں بیل دوڑ مقابلوں کے مستقبل پر بحث چھڑ گئی

میڈرڈ:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)7؍ستمبر: اسپین میں رواں برس بیل دوڑ کے متنازع میلے میں کم از کم 10 افراد کی ہلاکت کے بعد ایک مرتبہ پھر اس بحث نے جنم لیا ہے کہ آیا ان مقابلوں کی اجازت ہونی چاہیے۔موسمِ گرما آنے کے بعد اسپین کے مختلف علاقوں میں بیل کی دوڑ کے مقابلے ہوتے ہیں جس میں بپھرے بیلوں کو گلیوں میں آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے اور مجمع ان کے ساتھ ساتھ دوڑ لگاتا ہے۔ اکثر اوقات اس دوڑ میں شریک ہونے والے متعدد افراد زخمی ہوجاتے ہیں اور اس دوڑ میں ہلاکتوں کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔اس دوڑ کا اہتمام سب سے زیادہ اسپین کے خود مختار خطے ویلینسیا میں کیا جاتا ہے۔

رواں برس ویلینسیا میں بیل دوڑ کے دوران سات افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔اس کے علاوہ میڈرڈ سمیت شمالی اسپین کے مختلف علاقوں میں بھی بیل دوڑ سے اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ویلینسیا میں 2015 کے بعد سے ہونے والی بیل دوڑ کے ایونٹس میں اب تک مجموعی طور پر 30 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ مرنے والوں میں 18 سے 73 برس کی عمر تک کے افراد شامل تھے۔ماہرین موسمِ گرما میں اسپین کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بیل دوڑ کی اس روایت کے آغاز کے بارے میں مختلف آرا رکھتے ہیں۔ البتہ اس بات پر اتفاق موجود ہے کہ میڈرڈ کے شمال میں 150 کلو میٹر دور واقع قصبے کویا میں تیرہویں صدی سے اس روایت کا اولین سراغ ملتا ہے۔

بیل دوڑ کی روایت کیسے شروع ہوئی؟ اس بارے میں ٹھوس معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق اندازہ ہوتا ہے کہ مضافاتی علاقوں سے شہروں اور قصبوں میں بیلوں کو فروخت کے لیے لانے کے لیے انہیں ہانک کر دوڑایا جاتا ہوگا اور شہروں تک لایا جاتا ہوگا۔ ممکنہ طور پر یہی اس روایت کی اولین شکل ہوگی۔بیل دوڑ کی یہ روایت کب اور کیسے شروع ہوئی؟ اس سے قطع نظر مقامی سطح پر یہ اتنی گہری جڑیں رکھتی ہے کہ اس کی حمایت یا مخالفت اسپین کے ان علاقوں کی سیاست پر اثراانداز ہوتی ہے جہاں یہ روایت پورے جوش و خروش سے برقرار ہے۔

خبر رساں دارے اے ایف پی کے مطابق 2015 میں جب ویلینسیا کے خطے میں بائیں بازوں کی سخت گیر نظریات کی حامل حکومت آئی تو اس نے بھی بیل دوڑ کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیا۔ پودیموز نامی یہ جماعت بیلوں کے استعمال سے ہونے والی کسی بھی تفریحی سرگرمی کی مخالف رہی ہے۔ہسپانوی زبان میں پودیموز کے معنی سمجھوتہ کے ہیں۔ اس پارٹی کے عہدے داران نے ویلینسیا میں ہونے والی بیل دوڑ میں سات ہلاکتوں کے بعد اب اس مسئلے پر دوربارہ بات کرنا شروع کی ہے۔پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ بیل دوڑ کی اجازت ہونے یا پابندی ہونے پر بحث ہوسکتی ہے لیکن اس معاملے کے کئی حساس پہلو بھی ہیں۔

دوسری جانب ویلینسیا میں بیل دوڑ کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیم فیڈریشن آف بل فائٹنگ کلب کے سربراہ جرمن زاراگوزا کا کہنا ہے کہ بیل دوڑ اور بیلوں کے ذریعے کی جانے والی تفریحی سرگرمیاں اس خطے کی ثقافتی پہچان ہیں اور اس روایت کو ملکی آئین کا تحفظ حاصل ہے۔ان کے بقول ملک کا آئین بیل دوڑ اور بیلوں سے جڑی دیگر کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں کی آزادی کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے کوئی سٹی کونسل یا علاقے کی حکومت کو بیل دوڑ پر پابندی لگانے یا اس کے لیے رائے شماری کرانے کا اختیار نہیں۔دائیں بازو کی پاپولر پارٹی بھی روایتی طور پر ہونے والی بیل دوڑ اور بل فائٹنگ وغیرہ کی حمایت کرتی ہے اور ان پر سوال اٹھانے کو ثقافتی روایات پر حملہ قرار دیتی ہے۔

ویلینسیا میں عوامی سطح پر بیل دوڑ کی روایت کے بارے میں یکساں رائے نہیں پائی جاتی۔جانوروں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیموں نے ایک مشترکہ منشور جاری کررکھا ہے جس میں بیل دوڑ اور بل فائٹنگ جیسی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور انہیں جانوروں پر تشدد کے مترادف قرار دیا ہے۔اس منشور میں کہا گیا ہے کہ ان تماشوں میں بے قصور جانوروں کو چھڑیاں اور ٹھڈے مار کر دوڑایا جاتا ہے اور یہ عمل جانوروں کی توہین اور تضحیک ہے۔اس منشور میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیل دوڑ میں شریک زیادہ تر افراد شراب یا منشیات کے زیرِ اثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کئی لوگ زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ان تنظیموں نے بیل دوڑ جیسی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے عوامی دستخط مہم بھی چلا رکھی ہے جس پر ابھی تک ساڑھے پانچ ہزار افراد دستخط کرچکے ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ubeJk

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.