Home / اہم ترین / افغانستان میں آئندہ 3؍ دنوں میں نئی حکومت قائم ہوگی، طالبان نے خواتین کو بھی خاطر خواہ نمائندگی

افغانستان میں آئندہ 3؍ دنوں میں نئی حکومت قائم ہوگی، طالبان نے خواتین کو بھی خاطر خواہ نمائندگی

کابل: (ہرپل نیوز؍ایجنسی)3؍ستمبر: طالبان اور افغان لیڈروں کے درمیان نئی حکومت کے قیام کے تعلق سے ’’اتفاق رائے‘‘ قائم ہوگیا ہے اور آئندہ ۲؍ سے ۳؍ دنوں میں حکومت کے قیام کا اعلان کیا جاسکتاہے۔ یہ اطلاع قطر میں طالبان کے سیاسی شعبے کے نائب اور مذاکراتی ٹیم کے رکن شیر محمد عباس استانکزئی نے دی ہے۔ان کے مطابق نئی حکومت کا اعلان ۳؍ دنوں میں ہوجائے گا جس میں خواتین کی خاطر خواہ تعداد ہوگی۔ ذرائع کے مطابق طالبان کے سپریم کمانڈر ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ نئی حکومت کی گورننگ کونسل کے ممکنہ سربراہ ہوں گے جبکہ ملا عبدالغنی برادر جو ہیبت اللہ کے ۳؍ نائبین میں سے ایک ہیں، کو حکومت کے روز مرہ کاموں کی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔

طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن بلال کریمی کے مطابق’’سب کو ساتھ لے کر نئی حکومت بنانے کے تعلق سے طالبان، سابق حکومت کے لیڈران اور ملک کے بااثر لیڈروں کے درمیان صلاح و مشورہ مکمل ہوگیاہے۔ ان میں اتفاق رائے قائم ہوگئی ہے۔ہم جلد ہی کارگزار کابینہ اور حکومت کا اعلان کریں گے۔‘‘

دوسری طرف بی بی سی پشتو ریڈیو کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں طالبان کے اہم لیڈر اور سیاسی شعبے کے نائب شیر محمد عباس استانکزئی نے کہا ہے کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارت ایک ایسی حکومت بنائے گی جس کو افغانستان کے اندر اور باہر حمایت حاصل ہو۔ یہ سب کو ساتھ لے کر بنائی گئی حکومت ہوگی۔ ‘‘استانکزئی کے مطابق اُن کی نئی حکومت میں متقی، پرہیزگار اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں گے۔‘‘

اس سے قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ قندھار میں ان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی سربراہی میں ۳؍روزہ اجلاس ختم ہوگیا ہے جس میں نئی حکومت کی تشکیل پر بات چیت ہوئی ہے۔ نئی حکومت میں خواتین کی شمولیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شیر محمد عباس استانکزئی نے بتایا ہے کہ اُن کی حکومت میں خواتین شامل ہوں گی لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ خواتین اہم منصب یا وزارت کی سطح پر ہوں گی یا نہیں۔ ان کا کہناتھا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نئی حکومت میں خواتین کی کافی تعداد ہوگی لیکن یہ میں نہیں بتاسکتا کہ وہ بڑے منصبوں پر فائز ہوں گی۔‘‘ انہوں نے خواتین سے متعلق اندیشوں کو دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’طالبان کی حکومت میں خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، وہ دفاتر میں کام کریں گی۔‘‘

The short URL of the present article is: http://harpal.in/lPBIk

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.