Home / اہم ترین / اقوام متحدہ نے حافظ سعید کے رشتہ دار عبدالرحمان مکی کو عالمی دہشت گرد قرار دیا

اقوام متحدہ نے حافظ سعید کے رشتہ دار عبدالرحمان مکی کو عالمی دہشت گرد قرار دیا

نئی دہلی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)17؍جنوری: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے پیر کو پاکستان میں مقیم دہشت گرد عبدالرحمن مکی کو عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے گزشتہ سال لشکر طیبہ کے اس رہنما کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی تھی لیکن چین نے رخنہ ڈال دیا تھا۔جون 2022 میں ہندوستان نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی کمیٹی میں شمولیت اختیار کی جسے یو این ایس سی 1267 کمیٹی بھی کہا جاتا ہے۔

اس کے تحت پاکستانی دہشت گرد عبدالرحمان مکی کو فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو عالمی فورمز پر چین کی جانب سے روکے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔سلامتی کونسل کی کمیٹی نے 16 جنوری 2023 کو داعش، القاعدہ اور متعلقہ افراد، گروہوں، اداروں اور تنظیموں سے متعلق قراردادوں 1267 (1999)، 1989 (2011) اور 2253 (2015) پر عمل کرتے ہوئے پابندی کو منظوری دی۔ اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2610 (2021) کے پیراگراف اول میں طے شدہ اور منظور کی گئی اثاثوں کو منجمد کرنے، سفری پابندیوں اور ہتھیاروں کی پابندی کے تحت اس کے (داعش) اور القاعدہ کی فہرست کے علاوہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ہندوستان اور امریکہ پہلے ہی اپنے ملک کے قوانین کے تحت عبدالرحمن مکی کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ عبدالرحمن مکی ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے، جس میں دہشت گرد حملوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا، نوجوانوں کو تشدد کے لیے بھرتی کرنا انہیں بنیاد پرست بنانا اور بالخصوص جموں و کشمیر میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنا شامل ہیں۔ عبدالرحمان مکی لشکر طیبہ کے سربراہ اور 26/11 کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کا بہنوئی ہے۔

خیال رہے کہ 16 جون 2022 کو چین نے آخری وقت میں پاکستانی دہشت گرد مکی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کی امریکہ اور ہندوستان کی مشترکہ تجویز کو ویٹو کر دیا تھا۔ 16 جون کو چین کے علاوہ تمام ارکان نے مکی کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی حمایت کی۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت مکی کو دہشت گردوں کی فہرست میں رکھنے کی تجویز تمام اراکین کے درمیان تقسیم کی گئی تھی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/GSWiF

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.