Home / اہم ترین / القدس: پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔۔۔۔از: ڈاکٹر سلیم خان

القدس: پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔۔۔۔از: ڈاکٹر سلیم خان

مسجد اقصی میں فلسطینی نوجوانوں پر فائرنگ ، گرینیڈ حملے اور تشدد پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے تمام مسلمان ممالک اور عالمی برادری سے اسرائیل کے خلاف موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ جو ان ظالمانہ واقعات پر خاموش ہیں وہ اس کے شراکت دار ہیں۔ ظالم، دہشت گرد ریاست اسرائیل بے رحمی اور غیر اخلاقی طور پر بیت المقدس میں مسلمانوں پر حملہ آور ہے ۔اردوان کا یہ بیان یوم القدس یعنی جمعتہ الوداع کومسجد اقصی اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس کی فائرنگ سے 205 فلسطینی نوجوان کے زخمی ہونے پر دیا گیا تھا ۔ ساری دنیا میں اس سانحہ کی مذمت کی گئی مگر یہ سلسلہ رکا نہیں ۔ اس کے اگلے دن یعنی ہفتے کی شب میں بھی اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصی کے قریب عبادت کے لیے جمع ہونے والے فلسطینوں پر حملہ کرکے 80 افراد کو زخمی کردیا ۔اسرائیل کے اندر فی الحال تین مسائل یکجا ہوکر مسلمانوں کے خلاف ایک اشتعال انگیز صورتحال پیدا کرچکے ہیں۔ اس لیے حالات نہایت سنگین رخ اختیار کرتے چلے جارہے ہیں ۔

رمضان مبارک کے دوران مسلمانوں کا بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ میں آنے سے ہر اسرائیلی حکومت فکرمند ہوجاتی ہے اور انہیں طرح طرح سے ہراساں اور پریشان کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے سبب حالات کشیدہ تو ہوتے ہیں لیکن بے قابو نہیں ہوتے ۔ اس سال یہودی سیاحوں کے پولس کی حفاظت میں مسجد اقصیٰ کے اندر دوبار آنے سے حالات بگڑنا شروع ہوے ۔ مسلمانوں نے جب سیاحوں کو روکا تو پولس نے الٹا مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی کی۔ اس کے بعد اتفاق سے ’یو مِ یروشلم ‘ بھی 28؍ ویں روزے کے دن آگیا ۔ اس دن کو یہودی انتہا پسند 1976کی جنگ میں فتح کے طور پر مناتے ہیں۔ فی الحال چونکہ اسرائیل میں شدید سیاسی خلفشار کا شکار ہے اس لیے انتہاپسند یہودیوں نے ’یوم یروشلم‘ کے دن مسلم علاقوں میں جلوس نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیلی حکومت نے انہیں اس اشتعال انگیزی سے روکنے کی کوشش تو کی مگر ناکام رہی ۔ اس دوران یہ امکان بھی تھا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوکر تلمودی رسوم ورواج ادا کرتے اور اس کے نتیجے مسلمانوں کے ساتھ ٹکراو لازمی ہوجاتا ۔

اس کے علاوہ مسجد اقصیٰ کے قریب شیخ جراح نامی محلے میں فلسطینیوں کے گھروں کی بے دخلی کے معاملے نے بھی اس سال حالات کومزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ 1948میں وہ وہاں سے 36گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اب کو وہ واپس ملنے چاہئیں۔ گزشتہ دس سالوں سے یہ معاملہ عدالت میں معلق تھا مگر پچھلے دنوں ایک نچلی عدالت نے یہودیوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ اس سے مسلمانوں کے اندر زبردست بے چینی پھیل گئی اور انہوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیے ۔ اس معاملے مظاہرین کو ترکی اور روس جیسے ممالک کی حمایت بھی ملی ۔ ویسے اقوام متحدہ میں بھی اسرائیل کے ان زیادتیوں کی مخالفت ہوتی رہی ہے۔ اسرائیل کی سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اتفاق سے مذکورہ فیصلے کی سماعت بھی28؍ویں روزے کو تھی۔ خیر عدالت نے اسے تو ٹال دیا مگراس کے سبب مسلمان بہت زیادہ بے چین تھے۔

اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے رہنما خالد مشعل نے اس تناظر میں مقبوضہ علاقوں کے نمازیوں کو تلقین کی تھی کہ وہ مسجد اقصیٰ‌ میں اعتکاف اور قیام کرکےمقام مقدس کو صہیونی بے حرمتی سے محفوظ رکھیں ۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں موجود نمازیوں کو ناپاک صہیونیوں کے دھاووں پر نظر رکھنے کی ہدایت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں روکا جائے۔ خالد مشعل نے دشمنوں کی حماقتوں کو روکنے اور ناپاک یہودی آبادکاروں کے دھاووں کو ناکام بنا نے کی اپیل کی تھی ۔انہوں نے القدس اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کے معرکے میں فتح مندی کی امید جتائی تھی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ صہیونیوں اور اسرائیلی ریاست کو قبلہ اول میں داخل ہونے اور مقدس مقامات، زمین، انسانی خود مختاری پر اجارہ داری کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ عوام کا حوصلہ بڑھاتے ہوےٍحماس رہ نما نے القدس اور قبلہ اول کے دفاع کی جنگ کے لیے تمام وسائل بروئے کارلانے والے فلسطینی باشندوں سعی جمیل کو باعث شرف بتاکر کامیابیوں کی تحسین کی۔

مشعل اور دیگر رہنماوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوے بڑی تعداد میں فلسطینی شہری ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے قبلہ اول آ نے لگے تو ایک یہودی آباد کار نے ان پر گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں متعدد نمازی زخمی ہوگئے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر ایسا سفاکانہ واقعہ رونما ہوا ہوتا تو پولس فوراً حملہ آور کو قابو میں کرتی یا اگر وہ فرار ہونے کی کوشش کرتا تو اسے ہلاک کردیتی لیکن یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی پولیس کچھ فاصلے پر کھڑے تماشا دیکھتے رہے اور یہودی آباد کار کو فلسطینیوں پر گاڑی چڑھانے سے نہیں روکا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حملہ آور نمازیوں کو زخمی کرنے کے بعد جائے واردات سےفرارہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ایسے میں اگر پولس کو اس دہشت گرد کا شریک کار نہ کہا جائے تو کیا نام دیا جائے ۔ حکومت اگرایسے پولس افسران کے خلاف کو ئی اقدام نہ کرے تو اس پر دہشت گردی کا الزام ازخود چسپاں ہوجاتا ہے۔

اسرائیلی جبرو استبداد کے جواب میں ‘حماس’ کے رہنما ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی ، فلسطینی نمازیوں پر تشدد اور القدس میں جرائم کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے اہل ہیں اور قابض دشمن کے خلاف نئے محاذ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ خالی خولی گیدڑ بھپکی نہیں تھی حماس نے اسرائیل کو ۶ بجے تک وقت دیا اور پھر اپنی کارروائی کرتے ہوے غزہ کی پٹی سے فلسطینی اسرائیلی کالونیوں پر درجنوں راکٹ فائر کردئیے ۔ ان میں سے ایک القدس کی پہاڑیوں پر واقع ایک مکان پر گرا جس سے اس کو نقصان پہنچا ۔ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا کہ غزہ سے فلسطینیوں نے ایک ٹینک شکن میزائل بھی داغا ہے۔ اس کے ایک عام گاڑی پرگرنے سے ایک اسرائیلی زخمی ہوگیا ۔ حماس اور غزہ سے تعلق رکھنے والے مزاحمتی گروپ جہاداسلامی نے راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اسلامی تحریک مزاحمت ‘حماس’ کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ نے اپنےبیان میں کہا کہ ’’یہ ایک پیغام ہے اور دشمن کو اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی مجاہدین دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حماس کے اس جوابی حملے سے بوکھلا کر اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی پر بے تحاشہ بمباری شروع کردی جس میں 9 بچوں سمیت 20 فلسطینی شہید اور 65 زخمی ہوگئے ۔ غزہ کی پٹی میں بیت حانون کے مقام پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں یہ جانی نقصان ہوا ہے۔ قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں ایک موٹرسائیکل کو میزائل سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگیا۔ اس کے بعد غزہ کے تمام اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ہے۔ اسرائیل اگر اس طرح کی بہیمیت سے یہ توقع کرتا ہے کہ مجاہدین اسلام خوفزدہ ہوجائیں گے تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ‘حماس’ کے نائب صدرالشیخ صالح العاروری نے حالیہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس میں تشدد، توڑپھوڑ اور تخریب کاری کی صہیونی کارروائیاں اسے مہنگی پڑیں گی۔ القدس میں تشدد کی آگ خود قابض دشمن کو بھی جلا کر رکھ کردے گی۔

فاضل رہنما نے مسجد اقصیٰ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوے کہا کہ القدس ہمارے وجود کا پتھر ہے اور ہم سب القدس کی اہمیت کا ادراک رکھتے ہیں۔ دشمن کو معلوم نہیں کہ ہمارےلیے القدس کی کتنی اہمیت ہے۔ القدس وہ مقام ہے جس کے دفاع کی خاطر پوری دنیا سے مجاہدین جہاد کے لیے تیار ہیں۔ اس لیے انہوں نے بیت المقدس پر حملےکو قابض دشمن کے زوال کا نقطہ آغاز قرار دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے۔ القدس میں تخریب کاری اور مسجد اقصیٰ میں مداخلت سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ حماس کے متعلق انہوں نے وضاحت کی کہ وہ فلسطین کا حصہ اور فلسطینی سماجی کا جزو لاینفک ہے جسے فلسطینی قوم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ بظاہر ایک ٹمٹاتا سا ننھا چراغ امت مسلمہ کاسب سے روشن چراغ ہے۔ اسی سے یہ امید وابستہ ہے کہ سرزمین فلسطین پر ؎

شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے

 یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

The short URL of the present article is: http://harpal.in/23FSb

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.