Home / اہم ترین / الیکشن کمیشن کو مدراس ہائی کورٹ کے تبصرے کو کسی ڈاکٹر کی کڑوئی دوائی کے طور پر لینا چاہیے: سپریم کورٹ

الیکشن کمیشن کو مدراس ہائی کورٹ کے تبصرے کو کسی ڈاکٹر کی کڑوئی دوائی کے طور پر لینا چاہیے: سپریم کورٹ

نئی دہلی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی) 3مئی ۔: عدالت عظمیٰ نے مدراس ہائیکورٹ کی الیکشن کمیشن پر قتل کا مقدمہ درج کرنے کی زبانی تبصرہ کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ اسے درست تناظر میں لینا چاہیے ۔جسٹس ایم آر شاہ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ ہائی کورٹ کے تبصرے کو اسی طرح لیجئے جیسے ڈاکٹر کی کڑوی دوائی کو لیا جاتا ہے ۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل راکیش دویدی نے کہا کہ ہماری بات سنے بغیر ، یہ معلوم کیے بغیر کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کس کا کام ہے ، مدراس ہائی کورٹ نے کمیشن کے خلاف ایک تبصرہ کیا۔ پھر جسٹس شاہ نے پوچھا کہ کمیشن کا کیا کام ہے؟ تب دوویدی نے کہا کہ ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم ہر پروگرام کو کنٹرول کرسکیں۔اس پر جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ جج کو سوال کرتے وقت محتاط رہنا چاہیے۔ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا جج کے ریمارکس کو رپورٹ نہ کرے۔ اکثر ، صرف تحریری احکامات ہی نہیں ، جج کے تبصرے بھی لوگوں کے ذہنوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں ۔ تب دوویدی نے کہا کہ ہم صرف اس تبصرے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

جسٹس شاہ نے کہا کہ ہر جج کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ بعض اوقات تبصرے بھی عوامی مفاد میں کیا جاتا ہے۔ اسے صحیح تناظر میں لیا جانا چاہئے۔ لیکن الیکشن کمیشن پر لوگوں کے قتل کا الزام لگانا غیر منصفانہ ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا ، ہم آپ کی بات کو سمجھتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے ہائی کورٹ کی بھی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ جج یہ سوچ کر آتے ہیں کہ یہ بولنا ہے۔ بات کے سلسلے میں بہت سی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ہم ایک آئینی ادارہ کی حیثیت سے الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں۔ دویدی نے کہا کہ جو تبصرے کئے گئے اس کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ یہ ایک طرح سے ہمارے خلاف فیصلہ تھا، تبصرہ نہیں تھا۔

دویدی نے کہا کہ جج کو بھی اپنے حکم میں لکھنا چاہئے کہ تبصرے کا کیا مطلب تھا۔ جسٹس شاہ نے کہا کہ ایسا مطالبہ ٹھیک نہیں ہے۔ ججوں کے لئے اپنی گفتگو کے دوران کچھ کہنا ایک انسانی عمل ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ ہم ہائی کورٹ کی عزت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔ میڈیا عدالت کی ہر بات کو رپورٹ کرے ، اس سے احتساب بڑھتا ہے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ عدالت کا سوال اور تبصرہ اس کیس سے وابستہ ہو۔ لیکن بعض اوقات معاملات اس سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ قتل کے الزام سے پریشان ہیں۔ اگر میں اپنی بات کروں تو ، میں اس طرح کے تبصرے نہیں کرتا ۔ لیکن لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں ہائی کورٹ کا بڑا کردار ہے۔ جسٹس شاہ نے کہا کہ آپ ہائی کورٹ کے تبصرہ کواسی طرح لیں جس طرح ڈاکٹر کی کڑوی دوائی لی جاتی ہے۔ تب دوویدی نے کہا کہ ہم الیکشن کرواتے ہیں۔ حکومت اسے اپنے ہاتھ میں نہیں لیتی۔ اگر وزیراعلیٰ یا وزیر اعظم دور دراز کے علاقے میں دو لاکھ لوگوں کی ریلی نکال رہے ہیں تو پھر کمیشن بھیڑ پر گولی نہیں چلوا سکتا ، لاٹھی نہیں چلوا سکتا ۔ اسے دیکھنا ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کا کام ہے۔ تب جسٹس شاہ نے کہا کہ آپ نے بعد میں ایک سرکلر جاری کیاتھا کہ ریلی میں 500 سے زیادہ افراد شامل نہیں ہوں گے۔ پہلے آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ تب دوویدی نے کہا کہ یہ بعد میں بنگال کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ تامل ناڈو میں ایسا نہیں تھا۔ وہاں بھی 4 اپریل کو الیکشن مکمل ہوا تھا۔

جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ ہم نے آپ کی باتوں کو نوٹ کیا ہے ۔ ہم ہائی کورٹ کی عزت برقرار رکھتے ہوئے متوازن آرڈر دیں گے۔ دویدی نے کہا کہ ہمیں بھی سپریم کورٹ کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ تب جسٹس شاہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ نے پوری صلاحیت کے ساتھ اپنا کام کیا۔ ہم اکثر سخت تبصرے کرتے ہیں تاکہ کام لوگوں کے مفاد میں کیا جاسکے۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں میں سے ایک کی جانب سے ایڈوکیٹ پردیپ یادو نے مدراس ہائی کورٹ کے ریمارکس کی حمایت کی۔ اس کے بعد وکیل امت شرما نے انھیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے تبصرے کے بعد کچھ لوگوں نے ایف آئی آر درج کرنا شروع کردی ہے۔ اس عجیب و غریب صورت حال کو بھی سمجھنا ہوگا۔ تب عدالت نے کہا کہ ہم نے سارے وکیلوں کو سنا ، حکم جاری کریں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ilSg1

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.