Home / اہم ترین / اموات میں اضافہ کا نتیجہ۔ تدفین کی گنجائش ختم ہونے کااندیشہ قبرستان منتظمین ‌نے لگایا بورڈ

اموات میں اضافہ کا نتیجہ۔ تدفین کی گنجائش ختم ہونے کااندیشہ قبرستان منتظمین ‌نے لگایا بورڈ

ممبئی( ہرپل نیوز،ایجنسی) 30اپریل۔کورونا وائر س کی دوسری لہر زیادہ تباہ کن ثابت ہورہی ہے جس کی وجہ سےاموات کی شرح میں اضافہ کے سبب قبرستانوں میں تدفین کامسئلہ پیش آرہا ہے ۔وڈالاکے قبرستان میں بھی چند ہی قبروں کی جگہ بچی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قبرستان کے ٹرسٹ نے باہر بورڈ آویزاں کرکے لوگوں کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے علاقے کے عوامی نمائندوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائی ہے۔ ایک مقامی کاپوریٹر کا دعویٰ ہے کہ ڈیولپمنٹ پلان میں دوسرے قبرستان کی جگہ ریزرو ہے لیکن ایک کالج کا اس پر قبضہ ہے اور یہ جگہ حاصل کرنے کی کئی برسوں سے کوشش کی جارہی ہے۔

سنی مسلم وڈالا قبرستان کے صدر محمود خان نے نمائندہ ٔ انقلاب کو اس بارے میں بتایا کہ قبرستان میں۹؍ پلاٹ ہیں اور ان میں کل ایک ہزار ۱۳۲؍ قبریں ہیں ۔ ان میں ۱۲۸ ؍قبریں بچوں کی ہیں۔حالات کو دیکھتے ہوئے کورونا میت کیلئے ۱۶۵؍قبروں کی جگہ مختص ہے ۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران زیادہ میت قبرستان میں دفنانے کیلئے لائی جارہی ہیں جس کی وجہ سے اب صرف ۳۰؍ سے ۳۵؍ قبروں کی جگہ بچی ہے اور کسی بھی دن قبرستان فل ہوجانے پر تبدیل کا سلسلہ روکا جاسکتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں محمود خان نے بتایا کہ بی ایم سی کے ضابطے کے مطابق ایک جگہ پر دوسری قبرکیلئے وقفہ کم سے کم ۱۸ ؍ ماہ کا ہونا چاہئے ۔ اس لئے پرانی قبروں کو اس سے پہلے نہیں ہٹایا جاسکتا ہے ۔ ان میں کئی میت کورونا کی بھی ہیں جس کیلئے مزید وقت درکار ہے۔

قبرستان ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری اشتیاق شیخ نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے اموات کی شرح میں ہونے والے اضافہ کی وجہ سے قبرستان میں تدفین کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے ورنہ ۱۸؍ مہینے اور ۲؍سال میں قبروں کو دوبارہ کھودنے پر کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ۲۰۱۸ء کے ڈیولپمنٹ پلان کے مطابق ودیا لنکر انجینئرنگ کالج کے بغل میں وڈالا قبرستان کے نام سے ساڑھے ۴؍ ایکڑ کی جگہ ریزرو ہے لیکن اس پر کچھ تو جھوپڑا واسیوں کا قبضہ ہے اور بقیہ زمین پر کالج کا قبضہ ہے ۔ اس کے بعد اسی علاقے میں واقع ایک مینگروس کی جگہ بھی قبرستان کیلئے دینے کی بات کی گئی تھی لیکن وہ جگہ موزوں نہ ہونے سے مقا می افرادنے اس کی مخالفت کی تھی ۔ قبرستان ٹرسٹ کے معاون سلیم الوارے نے کہا کہ اس علاقے میں مزید قبرستان کی جگہ ڈیولپمنٹ پلان میں ریز رو ہے ۔ ایک ودیالنکر انجینئر نگ کالج سے متصل ہے جس پر غیر قانونی طریقے سے کالج انتظامیہ کا قبضہ ہے اور اس سے طلبہ اسپورٹس گراؤنڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے ریزرو پلاٹ پر مقامی لینڈ مافیا تیزی سے قابض ہوتاجا رہا ہےاور اس پر مٹی بھرنی وغیرہ کا کام جاری ہے۔اگر میونسپل کارپوریشن چا ہے تو ہفتہ بھر میں دونوں جگہوں کو اپنی تحویل میںلےکر ان پر تدفین کا سلسلہ شروع کر سکتی ہے۔

اس ضمن میں بی ایم سی کے ڈی آرڈپارٹمنٹ جہاں سے قبرستان میں دفنائی جانے والی میت کیلئے رسید جاری کی جاتی ہے ، کے ملازم سومیت سے بات چیت کی گئی تو انھوں نےکہا کہ سنی مسلم وڈالا قبرستان میں اندازے کے مطابق ۳۰؍ قبروں کی جگہ ہے اور وہ کورونامہاماری میں کسی بھی وقت بھرسکتی ہے ۔ اس کے بعد پھر میت کورے روڈ یا بڑا قبرستان ناریل واڑی لے جانا پڑے گا۔

ایف نارتھ وارڈ کے میڈیکل ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے انچارج نلیش پالوے نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے قبرستان کی جگہ بھر جانے کا اندیشہ ہے ۔ اس کے بعدمیت کو دفنانے کیلئے کرلا ، رے روڈ یا بڑا قبرستان لے جانا ہوگا ۔

اس سلسلے میں مقامی رکن اسمبلی کالی داس کولمبکر نے کہا کہ قبرستان ٹرسٹ کے ذریعہ اس سلسلے میں مجھے لیٹر دیا گیا ہے اور بات چیت کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں قبرستان کی جگہ ریزرو ہے لیکن اس پر لوگ قابض ہیں ۔ بہت جلد ان تمام مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی

The short URL of the present article is: http://harpal.in/aDMdT

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.