Home / اہم ترین / امولیہ کی نعرے بازی ملک سے غداری کے زمرے میں نہیں آتی۔ماہر قانون دان فیضان مصطفیٰ کاتبصرہ

امولیہ کی نعرے بازی ملک سے غداری کے زمرے میں نہیں آتی۔ماہر قانون دان فیضان مصطفیٰ کاتبصرہ

بنگلورو، (ہرپل نیوز، ایجنسی) 24/فروری: ملک کے معروف قانون دان اور آئینی امور کے ماہر فیضان مصطفیٰ نے کہا ہے کہ بنگلور و کے فریڈم پارک میں شہریت قانو ن کے خلاف احتجاج کے دوران ایک لڑ کی امولیہ کی طرف سے ’پاکستان زندہ باد‘ کا جو نعرہ لگایا گیا وہ ملک سے غداری کے زمرے میں نہیں آتا البتہ موقع محل کے اعتبار سے یہ نعرہ مناسب نہیں تھا۔ یو ٹیوب پر اپنی قانونی بیداری سیریز میں امولیہ لیونا کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کئے جانے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فیضان مصطفی نے کہا ہے کہ تعذیرات ہند کی دفعہ124Aجس کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اس کے تحت بھی ایسی گنجائش موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دفعہ میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ اگر کسی کے اشتعال انگیز یا ملک دشمن جملے یا بیان سے عوام میں بد امنی پھیلتی ہے اور اس کے نتیجے میں تشدد برپا ہوتا ہے تو ایسی حرکت غداری کے زمرے میں آتی ہے بصورت دیگر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریت قانو ن کے خلاف احتجاج کے دوران اس لڑ کی نے جس طرح کے نعرے لگا دئیے وہ بے موقع ضرور تھے۔ اس حرکت کی وجہ سے جلسے کے منتظمین پر بھی سکتہ طاری ہو گیا اور خود مہمان خصوصی اسدالدین اویسی نے اس لڑ کی کو روک دیا،جو فطری بات ہے کیونکہ یہ ایک ایسا جلسہ تھا جو شہریت قانو ن کے خلاف احتجاج کے لئے منظم کیا گیا تھا اور ظاہر ہے کہ یہاں حاضرین کی بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ اس طرح کے جلسوں میں پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کرنا درست نہیں تھا لیکن اس کو غداری نہیں مانا جاسکتا۔

انہوں نے ہندوستانی کلچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو تہذیب میں یہ مانا جاتا ہے کہ ساری دنیا واسو دیو کٹمبکم ہے یعنی ساری دنیا ایک خاندان ہے۔ جہاں تک پاکستان اور بنگلہ دیش کا تعلق ہے ان کا وجود 1947اور 1971میں ایک غلط فیصلے کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ آج بھی ہندوستان کے بہت سے لوگوں کو ایک الگ ملک مانتے ہوئے تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا ایک طاقتور ملک ہے لیکن کیا اس ملک کے لوگ اتنے کمزور اور غیر محفوظ ہو چکے ہیں کہ ایک لڑ کی کی طرف سے کی گئی نعرے بازی کو ملک کے لئے انتہائی سنگین خطرہ تصور کرتے ہیں اور وہ کسی بھی چیز کو برادشت کرنا نہیں چاہتے۔ہمارا ملک ایسے نعروں کے مقابل کافی مضبوط ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پہلو بھی دنیا کے سامنے آیا کہ جب اس لڑکی نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے تو عوام کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا لیکن کچھ ہی لمحات کے بعد جب اس لڑ کی نے ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے تو عوام میں جوش و خروش دیکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ جس وقت یہ لڑکی ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگارہی تھی تو پولیس والے اسے زبردستی کھینچ کر لے جارہے تھے۔ پولیس کی یہ حرکت غیر انسانی معلوم ہوتی ہے اور اس حرکت کے ذریعے پولیس نے اس لڑکی کے اظہار آزادی کے آئینی کو پامال کیا ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خالصتان زندہ باد کے نعروں کو سپر یم کورٹ نے غداری ماننے سے انکار کیا۔ انہوں نے آئین کی دفعہ 19 کا حوالہ دے کر کہا کہ اس میں انفرادی آزادی اظہار پر جن بندشوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اس میں تعذیرات ہند کی دفعہ 124 شامل نہیں ۔ البتہ ملک کی یکجہتی کے لئے خطرہ شامل کیا گیا ہے۔ ایسے میں امولیہ کا نعرہ جب ملک کی یکجہتی کے لئے خطرہ نہیں تو اس کے اظہار آزادی کے حق کو چھین لینے کا پولیس کو اختیار نہیں تھا۔فیصان مصطفیٰ نے آر ایس ایس کے قد آور رہنماؤں بالا صاحب دیوراس اور دین دیال اپادھیا ئے کی طرف سے اکھنڈ بھار ت کے تناظر میں دیئے گئے بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان دونوں رہنماؤ ں نے پاکستان کے ساتھ خوشگوار تجارتی تعلقات کی وکالت کی ہے تا کہ دونوں ممالک کی معاشی حالت کو بہتر بنایا جائے اور اس کے بعد جب سیاسی فکر ایک ہوگی تو ایک وفاق قائم کیا جاسکے۔ اس تناظر میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تئیں اس قدر نفرت درست نہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/XnGbw

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.