Home / اہم ترین / انتخابات نہ کرانے کے لئے اچھا عذرہے کورونا،سپریم کورٹ نے تمل ناڈو الیکشن کمیشن کی سرزنش کی

انتخابات نہ کرانے کے لئے اچھا عذرہے کورونا،سپریم کورٹ نے تمل ناڈو الیکشن کمیشن کی سرزنش کی

نئی دہلی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی) 22؍جون:۔ سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کے ریاستی الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ 15 ستمبر تک بلدیاتی انتخابات مکمل کرائیں۔ جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس انیرودھ بوس پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے یہ حکم دیا ہے۔ ریاست کے نو تشکیل شدہ 9 اضلاع میں پولنگ ہونی ہے۔ تمل ناڈو کے الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ کورونا کے معاملات بڑھ رہے ہیں ، ایسی صورتحال میں انتخابات کروانا مشکل ہوگا۔

تامل ناڈو کے الیکشن کمیشن کی سرزنش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ سبھی معاملوں میں کورونا ایک اچھا بہانہ ہے۔ عدالت کو معلومات دی گئی تھی کہ ریاست میں تقریبا دو سالوں سے شہری انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ عدالت نے ہر صورت میں 15 ستمبر تک 9 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کو کہا ہے۔

ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے پیش سینئر ایڈوکیٹ پی ایس نرسمہا نے کہا کہ ملک میں کورونا کے سب سے زیادہ کیسز تمل ناڈو میں درج ہورہے ہیں اور نو نئے اضلاع میں حد بندی کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔ ای وی ایم بھی دوسری ریاستوں سے لائی جانی ہے۔اب تک تمل ناڈو میں 24.29 لاکھ کورونا وائرس کے کیسز درج ہوچکے ہیں۔ نیز 31386 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

کورونا کے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹر میں بھی کورونا کیسزکم ہورہے ہیں، لیکن تمل ناڈو میں یہ گراف اوپر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ میں شامل جسٹس ہیمنت گپتا نے کہا کہ کورونا ہر معاملے میں ایک اچھا عذرہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آخری بار ہم آپ کو 15 ستمبر تک کا وقت دیتے ہیں۔ اگر اس وقت تک انتخابات نہیں کروائے جاتے ہیں تو ریاستی الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کردی جائے گی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/ryyw4

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.