Home / ریاستی خبریں / اندھرا ؍تلنگانہ / آندھرا پردیش: مجھے اندھیرے کمرے میں زدوکوب کیا گیا، خاتون نے پولیس پر لگایا بربریت کا الزام

آندھرا پردیش: مجھے اندھیرے کمرے میں زدوکوب کیا گیا، خاتون نے پولیس پر لگایا بربریت کا الزام

چتور:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)24؍جنوری: آندھرا پردیش کے چتور کے پولس اسٹیشن میں زیر حراست خاتون کی مبینہ پٹائی اور تشدد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو میں لکشمی نگر کالونی کی ایم امامہشوری نے دعویٰ کیا کہ چتور 1 ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے قریب پولیس افسران نے انہیں پریشان کیا اور مالک کی جانب سے چوری کا الزام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ جو کہ بالکل جھوٹ تھا،خاتون کا کہنا ہے کہ وہ چتور میں ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے ہاںگھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔

امامہشوری نے بتایا کہ وینوگوپال ریڈی اور ان کی بیوی کے درمیان کچھ رقم غائب ہونے پر جھگڑا ہوا۔ اس وقت وہ اس کے گھر کام کر رہی تھی۔ اس وقت دونوں نے چوری کی رقم کے بارے میں بھی استفسار کیا تھا، جس پر خاتون نے صاف جواب دیا کہ اسے رقم کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، شکایت درج کروائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ اس نے 2 لاکھ روپئے کی چوری کی ہے۔ اس کے بعد خاتون کو 2 لاکھ روپئے کی چوری کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے امامہیشوری اور اس کے شوہر دونوں سے پوچھ گچھ کی۔

امامہیشوری نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان پر الزام قبول کرنے اور رقم واپس کرنے کے لیے زبردستی دباؤ ڈالا۔اس کیس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔ اس میں امامہیشوری نے الزام لگایا کہ پولیس نے مجھے پریشان کیا۔ میرے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیا۔ یہی نہیں مجھے ایک اندھیرے کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نصف شب تک گھر واپس نہیں آنے دیا گیا۔ چتور 1 ٹاؤن پولیس کے سب انسپکٹر سری نواس راؤ نے خاتون کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کے بیانات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔پولیس نے بتایا کہ وینوگوپال ریڈی نے امامہشوری کے خلاف گھر سے 2 لاکھ روپئے کی چوری کا مقدمہ درج کرایا۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے تفتیش شروع کردی۔ خاتون کو باضابطہ نوٹس بھیج کر تھانے بلا کر پوچھ گچھ کی گئی۔

خاتون نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اس نے ہی رقم لی ہے۔پولیس سے پوچھ گچھ کے دوران خاتون نے انکشاف کیا کہ یہ رقم اس کے شوہر دینا کے پاس ہے۔ خاتون نے کہا کہ اگر پولیس اجازت دے تو وہ اپنے شوہر کے پاس جائے گی اور رقم واپس لے آئے گی۔ پولیس نے خاتون کو پریشان یا تشدد کا نشانہ نہیں بنایا۔ اور نہ ہی ملزم خاتون کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، کیونکہ جب پولیس نے رقم واپس کرنے کو کہا تو خاتون نے پولیس پر ہی الزامات لگانا شروع کردیے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/LUGFr

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.