Home / اہم ترین / اپوزیشن کے سخت احتجاج کے بیچ زرعی بل راجیہ سبھا سے صوتی ووٹوں سے پاس،اپوزیشن نے راجیہ سبھا کےتمام ضوابط کو بالائے طاق رکھنے کا لگایا الزام ۔بل سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز بھی مسترد۔اپوزیشن نے کہا بل کی منظوری جمہوریت کاقتل

اپوزیشن کے سخت احتجاج کے بیچ زرعی بل راجیہ سبھا سے صوتی ووٹوں سے پاس،اپوزیشن نے راجیہ سبھا کےتمام ضوابط کو بالائے طاق رکھنے کا لگایا الزام ۔بل سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز بھی مسترد۔اپوزیشن نے کہا بل کی منظوری جمہوریت کاقتل

حکومت پر راجیہ سبھا کےتمام ضوابط کو بالائے طاق رکھ دینے اور دھاندلی کرنےکا الزام، عین وقت پر ایوان کی براہ راست نشریات روک دی گئیں، دونوں بلوں کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی اپوزیشن کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے چیئر مین نے ووٹنگ بھی نہیں کروائی، چاہ ایوان میں اپوزیشن کے احتجاج کے بیچ صوتی ووٹوں سے بل پاس کروایا لیاگیا ، کانگریس نے اسے مہابھارت کا آغاز قراردیا

نئی دہلی(ہرپل نیوز،ایجنسی)21ستمبر:پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کے غیر معمولی احتجاج اور پارلیمنٹ کے باہر کسانوں کے شدید مظاہروں کو نظر انداز کرتے ہوئے مودی سرکار نے اتوار کو راجیہ سبھا میں بھی ۲؍ زرعی بل پاس کرالئے ۔ چاہ ایوان میں اپوزیشن کے اراکین کے احتجاج کے بیچ صوتی ووٹوں سے بلوں کی منظوری کو اپوزیشن نے ’’جمہوریت کاقتل‘‘ اور ’’ہندوستانی جمہوریت کیلئے سیاہ ترین دن‘‘ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ ایوان بالا میں اس کے پاس نمبر نہیں تھے اس لئے اس نے سلیکٹ کمیٹی کی تجویز پر ووٹنگ کے مطالبے کو مسترد کردیا۔

پارلیمنٹ کی کارروائی کا ہر ضابطہ نظر انداز کیاگیا :ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک او برائن نے حکومت پر پارلیمنٹ کی کارروائی کے ہر ضابطے کو توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ’’یہ یہیں ختم نہیں ہوجائےگا۔‘‘ ٹی ایم سی لیڈر نے بل کی منظوری کو دھوکہ بازی قرار دیتےہوئے کہا ہے کہ ’’انہوں نے ہمیں دھوکہ دیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر ہر ضابطے کو توڑا۔ یہ تاریخی دن تھا مگر بدترین معنوں میں۔ انہوں نے راجیہ سبھا ٹی وی کی نشریات روک دیں تاکہ ملک دیکھ نہ سکے۔ انہوں نے راجیہ سبھا ٹی وی کو سینسر کیا ہے۔ افواہیں نہ پھیلائیں، ہمارے پاس ثبوت ہے۔‘‘ اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں پیش کئے گئے مذکورہ دونوں زرعی بلوں کو مزید غوروخوض کیلئے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی مانگ کی تھی۔ پورا اپوزیشن چونکہ اس معاملے میں متحد تھا اس لئے ڈپٹی چیئرمین سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنےکی تجویز پر ووٹنگ کرالیں مگر انہوں نے منظور نہیں کیا۔ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے اسے مہابھارت کا آغاز قرار دیاہے۔

اپوزیشن کا غیر معمولی احتجاج: تنازع میں شدت اس وقت آگئی جب ڈپٹی چیئر مین نے اپوزیشن کے ریزولیوشن کو مسترد کردیا اور بل کو صوتی ووٹوں سے منظور کرانے کی کارروائی شروع کردی۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ اس پر باقاعدہ ووٹنگ کرائی جائے مگرجب چیئرمین نے اس سے انکار کیا تو وہ احتجاج کرتے ہوئے چاہ ایوان کی طرف دوڑے۔ اس دوران الزام ہے کہ ڈیرک او برائن نے پارلیمنٹ کی رول بک کو پھاڑنے کی کوشش کی اور چیئرمین کا مائک کھنچا۔ ڈیرک او برائن جن کے پوائنٹ آف آرڈر کو مسترد کیاگیاتھا، نے اس کی تردید کی اور الزام لگایاکہ ایوان کی کارروائی کے کسی بھی اصول کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پارلیمانی جمہوری نظام کا انتہائی بے دردانہ قتل ہے۔‘‘

دس منٹ کا التوا اور پھر بل منظور: اپوزیشن کے اس شدید اور غیر معمولی احتجاج کے پیش نظر ایوان کی کارروائی ۱۰؍ منٹ کیلئے ملتوی کی گئی اور پھر کارروائی کے شروع ہوتے ہی دونوں زرعی بلوں کو صوتی ووٹوں سے منظور کرلیاگیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اپوزیشن نے جب یہ مطالبہ کیا کہ الگ الگ کرکے بتایا جائے کہ کس کے حق میں کتنے ووٹ پڑے تو اسے بھی مسترد کردیاگیا۔
پارلیمنٹ کے اندر ہی اپوزیشن پارٹیوں کا دھرنا: ڈپٹی چیئر مین ہری ونش نرائن کے رویے کے خلاف اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر ہی دھرنا دیا اورصدائے احتجاج بلند کی۔ اس کے بعد اپوزیشن کی ۱۲؍ جماعتوں نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس بھی پیش کردیاہے۔

راج ناتھ نے اپوزیشن کے رویے کو افسوسناک قراردیا: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اتوار کو راجیہ سبھا میں اس کے رویے کی مذمت کی اور اسے ’’افسوسناک ‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے پرکاش جاؤڈیکر، پرلہاد جوشی ، پیوش گوئل اور دیگر کے ساتھ پریس کانفرنس میں یقین دہانی کروائی کہ کسانوں کیلئے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا سلسلہ جاری رہےگا۔‘‘

بی جےپی کی اتحادی شرومنی اکالی دل کی صدر جمہوریہ سے بل پر دستخط نہ کرنے کی اپیل: راجیہ سبھا میں بل کے منظور ہوجانے کے بعد بی جےپی کی اتحادی پارٹی شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھ بیر سنگھ بادل نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پر دستخط نہ کریں بلکہ دوبارہ غور کیلئے پارلیمنٹ کو لوٹادیں۔ انہوں نے بل کی منظوری کو ملک کے کروڑوں کسانوں اور جمہوریت کیلئے افسوسناک قراردیا۔ صدر رام ناتھ کووندسے انہوں نے اپیل کی ہے کہ ’’برائے مہربانی کسانوں ، مزدوروں، منڈی میں کام کرنے والوں اور دلتوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ وہ مظالم کا شکار ہیں اور آپ کو امید کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ زرعی بلوں کے خلاف احتجاج کرتےہوئے شرومنی اکالی دل حکومت سے علاحدہ ہوچکی ہے تاہم ابھی وہ این ڈی میں شامل ہے۔بل کی منظوری کے بعد اس پر این ڈی اے سےعلاحدگی کادباؤ بڑھ گیا ہے۔( بشکریہ انقلاب ممبئی )

The short URL of the present article is: http://harpal.in/EUw0G

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.