Home / اہم ترین / ایسٹر بلاسٹ کے بعد سری لنکائی حکومت نے اٹھایا قدم ۔ 200 علما سمیت 600 غیر ملکی ملک بدر

ایسٹر بلاسٹ کے بعد سری لنکائی حکومت نے اٹھایا قدم ۔ 200 علما سمیت 600 غیر ملکی ملک بدر

سری لنکا(ایجنسی ) 06مئی سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر دہشت گردانہ بم دھماکوں کے بعد سے اب تک 200 مسلم علما سمیت 600 غیر ملکی باشندوں کو ملک سے باہر نکال دیا گيا ہے۔ سری لنکا کے وزیر داخلہ واجیرا ابھیواردینا نے بتایا کہ حکومت نے سلسلہ وار بم دھماکوں کے لئے مقامی جہادی تنظیم پر الزام لگنے کے بعد سے اب تک 200 مسلم داعی علماء سمیت 600 بیرونی باشندوں کو ملک سے اخراج کیا ہے۔

ڈیلی مرر میں شائع رپورٹ کے مطابق مسٹر ابھیوارڈینا نے بتایا کہ ملک بدر کیے گئے تمام مسلم علماء قانونی طور سے ملک میں داخل ہوئے تھے ، لیکن بم دھماکوں کےبعد فوج کی کارروائی کے دوران پتہ چلا کہ وہ اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی قیام پذیر تھے، جس کے لئے ان پر جرمانے لگائے گئے اور انہيں ملک بدر کردیا گیا۔وزیر موصوف نے کہا کہ "ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم نے ویزا سسٹم پر نظر ثانی کی ہے اور مذہبی علماء اور مبلغوں کے لئے ویزا کے قوانین سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن لوگوں کا ملک سے اخراج کیا گیا ہے، ان میں تقریبا 200 مسلم علماء تھے"۔ تاہم، انہوں نے ملک بدر کیے گئے افراد کی قومیت کے بارے میں نہيں بتایا۔ لیکن پولس نے بتایا کہ بم دھماکوں کے بعد ملک سے نکالے گئے افراد میں زیادہ تر باشندے ہندوستان ، بنگلہ دیش ، مالدیپ اور پاکستان کے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں متعدد ایسے مذہبی ادارے ہیں ، جو دہائیوں سے غیر ملکی مبلغوں کو مدعو کرتے رہے ہيں ، ہمیں ان سے کوئی پریشانی نہيں ہوئی ، لیکن اب خودکش بم دھماکوں کے بعد ہم ان پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے ۔ مقامی باشندوں میں تعصب پھیلانے کے خطرے پیش نظر بیرونی علما کے لئے ویزا پالیسی میں تبدیلیاں کی گئی ہيں ۔ تاکہ گزشتہ 21 اپریل کے خودکش حملے دوبارہ نہ ہوپائیں۔

واضح رہے کہ سر ی لنکا میں 21 اپریل کو ایسٹر تہوار کے موقع پر تین چرچ اور تین لگژری ہوٹلوں پر خودکش حملے کے بعد سے ایمرجنسی نافذ ہے اور ملک کی فوج اور پولس کو وسیع اختیارات دیئے گئے ہيں ، جن کے تحت مشتہ افراد کو طویل عرصے تک گرفتار کرکے تحویل میں رکھا جاسکتا ہے۔ فوج اور پولس کی کارروائی میں گھر گھر تلاشی لی جارہی ہے اور ملک بھر میں سرچ آّپریشن چل رہا ہے ۔ انتہا پسندوں کے دھماکہ خیز مواد اور پروپیگنڈہ مواد کی تلاش کی جارہی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/NAqk4

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.