Home / اہم ترین / وزیر اعظم مودی کا ممتا پر حملہ، کہا۔ کشمیر سے زیادہ بنگال کے الیکشن میں ہوا تشدد

وزیر اعظم مودی کا ممتا پر حملہ، کہا۔ کشمیر سے زیادہ بنگال کے الیکشن میں ہوا تشدد

نئی دہلی ( ایجنسی)16مئی مغربی بنگال میں لوک سبھا انتخابات کے دوران ہو رہے تشدد کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کی ممتا بنرجی کی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مغربی بنگال کے مقابلہ میں جموں وکشمیر میں الیکشن زیادہ پر امن ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے نیوز 18 ہندی کو دئیے ایکسکلوزیو انٹرویو میں کہا’’ تشدد، دہشت گردی کی بات ہو تو کشمیر کا نام آتا ہے، لیکن اس کشمیر میں پنچایت کے انتخابات ہوئے 30 ہزار کے قریب لوگ میدان میں تھے‘‘۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال تشدد کو لے کر کہا کہ ملک میں جو لوگ جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں اور نیوٹرل ہیں، ان کا خاموش رہنا انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس پورے دور میں مودی کے تئیں نفرت کی وجہ سے باقی تمام چیزیں معاف کر دینے کا جو طریقہ بن گیا ہے اس نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ جو لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور جو نیوٹرل ہیں، ان کے لئے ان کی خاموشی سب سے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ آپ دو چیزیں دیکھئے۔ تشدد، دہشت گردی ہو توکشمیر کا نام آتا ہے، لیکن اس کشمیر میں پنچایتوں کے انتخابات ہوئے، تقریبا 30 ہزار لوگ تھے۔ کسی پولنگ بوتھ پر تشدد کا کوئی بھی واقعہ نہیں ہوا۔ اسی مدت میں بنگال میں پنچایت کے انتخابات ہوئے جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ جو جیت کر آ گئے ان کے گھر جلا دئیے گئے۔ ان کو جھارکھنڈ یا دیگر ریاستوں میں جا کر تین۔ تین مہینے منھ چھپا کر رہنا پڑا۔ ان کا گناہ یہی تھا جو جیت کر آئے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت یہ جمہوریت کی بات کرنے والے لوگ بالکل خاموش رہے۔ بی جے پی بھی آواز اٹھاتی رہی، وہاں کی کانگریس اور لیفٹ پارٹی بھی آواز اٹھاتی رہی، پارلیمنٹ میں بھی کانگریس، بی جے پی، لیفٹ سب نے آواز اٹھائی لیکن جو لوگ اپنے آپ کو نیوٹرل کہتے ہیں وہ چپ رہے اس سے ان لوگوں کو طاقت ملتی گئی۔

پی ایم نے آگے کہا انتخابات سے پہلے بی جے پی کا وزیر اعلی جائے تو ان کا ہیلی کاپٹر تک لینڈ نہیں کرنے دیا گیا۔ آخری لمحہ میں اجلاس کینسل کر دی جائے۔ ابھی پرسوں بھی وزیر اعظم کا اجلاس کینسل کر دی تھی رات 9 بجے اجازت ملی، اس کے دو دن پہلے امت بھائی شاہ کی اجلاس کینسل کر دی تو یہ مکمل طور پر غیر جمہوری ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو بی جے پی، کانگریس یا لیفٹ سے خوف نہیں ہے، ممتا جی کی خصوصی طور پر اور ٹی ایم سی کو بنگال کے عوام کی طاقت کا ڈر ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر بنگال کے عوام اس سچ کے ساتھ مکر کر نکل پڑے تو ان کا مستقبل تار تار ہو جائے گا۔ اس لئے بنگال حکومت، ٹی ایم سی پارٹی، ٹی ایم سی کے غنڈے ان تینوں کی جو جگل بندی ہے اس کی عوام کے خلاف لڑائی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/CHO6e

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.