Home / اہم ترین / بابری مسجد رام جنم بھومی اراضی کے مقدمہ کا فیصلہ آج۔ یوپی سمیت ملک بھر میں ہائی الرٹ، سپریم کورٹ صبح 10:30بجے سنائے گی فیصلہ، گگوئی کی یوپی کے چیف سیکریٹری او رڈی جی پی سے ملاقات

بابری مسجد رام جنم بھومی اراضی کے مقدمہ کا فیصلہ آج۔ یوپی سمیت ملک بھر میں ہائی الرٹ، سپریم کورٹ صبح 10:30بجے سنائے گی فیصلہ، گگوئی کی یوپی کے چیف سیکریٹری او رڈی جی پی سے ملاقات

پی ایم مودی سمیت تمام سیاسی و  مذہبی لیڈروں  نےکی ہے امن و امان برقرار رکھنے کی  اپیل

نئی دہلی(ہرپل نیوز، ایجنسی) ،9؍نومبر:سپریم کورٹ اجودھیا کی بابری مسجد، رام جنم بھومی –  زمین تنازع میں آج 10.30 بجے تاریخی فیصلہ سنائے گا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جج ایس اے بوبڈے، جج ڈی وائی چندر چوڑ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ  اپنا فیصلہ سنائے گی۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جمعہ کی شام ایک نوٹس جاری کرکے اس بارے میں معلومات دی گئی ہے۔ عام طورپر سنیچر کو سپریم کورٹ میں چھٹی ہوتی ہے اور ایسی امید ظاہر کی جارہی تھی کہ معاملہ میں 13 سے 15 نومبر کے بیچ فیصلہ آئے گا ، لیکن غیرمتوقع طورپر فیصلے کے لئے کل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔اس سے پہلے آج چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اترپردیش کے چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے ملاقات کرکے اجودھیا اور ریاست کے دیگر حصوں میں امن و قانون نظام کا جائزہ لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری اور چیف جسٹس نے اجودھیا رام جنم بھومی۔بابری مسجد زمین متنازعہ معاملہ پر اجودھیا اور ریاست کے دیگر حساس مقامات میں صورتحا ل کا جائزہ لیا۔ریاست کے اعلی حکام نے جج گوگوئی کو بتایا کہ وہ پوری طرح تیار ہیں اور امن وقانون قائم رکھنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔
ادھر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے پیش نظر وزیر اعظم مودی نے ٹویٹ کرکے ملک کے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے ٹویٹ کرکے کہا کہ اجودھیا پر کل سپریم کورٹ کا فیصلہ آرہا ہے ۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے سپریم کورٹ میں مسلسل اس موضوع پر سماعت ہورہی تھی ۔ پورا ملک پرجوش نظر آرہا تھا ۔ اس دوران سماج کے سبھی طبقوں کی طرف سے ہم آہنگی کا ماحول برقرار رکھنے کیلئے کی گئی کوششیں تعریف کے قابل ہیں
 واضح رہے کہ سپریم کورٹ  میں اس حساس اور مدت طویل سے زیر التوا مقدمہ کی شنوائی ۴۰ دن تک ہوئی تھی، جس میں فریقین نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے تھے اور سپریم کورٹ نے  کم و بیش ایک ماہ قبل فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔جس کے پیش نظر مرکزی وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ تمام ریاستوں اور مرکزی علاقوں کو ایک عام ہدایت جاری کی گئی ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام حساس مقامات پر مناسب حفاظتی اہلکار کو تعینات رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک میں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔عہدیدار نے بتایا کہ وزارت نے امن و امان برقرار رکھنے میں یوپی کی حکومت کی مدد کے لئے وہاں نیم فوجی دستوں کی 40 کمپنیاں (ہر ایک میں 100 کے قریب اہلکار) حفاظت پر مامور کر دی ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز اپنے تمام وزرا سے بھی کہا کہ وہ ایودھیا فیصلے سے متعلق غیر ضروری بیانات دینے سے باز رہیں۔ فیصلے کے مدنظر ایودھیا میں سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے، رام جنم بھومی کی طرف جانے والے راستے کو بند کردیاگیا ہے اب وہاں سے صرف پیدل گزرا جاسکتا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہر ضلع میں ایک کنٹرول روم بنانے او رلکھنو اور ایودھیا میں دو ہیلی کاپٹر تیار رکھنے کا حکم دیا ہے، پورے  یوپی میں پولس کو فساد سے نپٹنے کےلیے ریہرسل بھی کرائی گئی ہے، ریاست میں عارضی جیل بھی بنائی گئی ہے، وہاں ضرورت پڑنے پر گرفتار لوگوں کو رکھاجائے گا۔ دریں اثناء ملک کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اترپردیش کے چیف سکریٹری راجندر کمار تیواری اور ڈائریکٹر جنرل پولیس او پی سنگھ کو بلاکر ریاست کے امن و قانون کے بارے دریافت کیا۔  سپریم کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس کے چیمبر میں مسٹر گگوئی کے ساتھ ان  افسران کی میٹنگ میں  فیصلہ سنانے والی بینچ کے چاروں  جج اور ریاستی حکومت کے دیگر اعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔بتایا جاتا ہے کہ مسٹر گگوئی نے ریاست کے امن و امان کے بارے میں تفصیل سے  معلومات حاصل کی ۔ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر قبضے سے متعلق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں آئینی بینچ نے سماعت 17 اکتوبر کو مکمل کرلی  تھی اورآج  اس مشہور  معاملے کا فیصلہ آئےگا۔  اس فیصلے سے پہلے ، اکھل بھارتیہ سنت سمیتی ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشوا ہندو پریشد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ فیصلے کو  شکست و فتح  یا ہندو مسلم فرقہ وارانہ کی صورت حال  میں بدلنے  نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی کو کوئی چڑھانے یا اشتعال انگیز  والے بیانات دیں گے۔ مسلم سماج  کی جانب سے ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ، سنی وقف بورڈ وغیرہ نے بھی عدالت کے فیصلے کا مکمل احترام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اترپردیش حکومت نے فیصلہ کے پیش نظر اجودھیا سمیت پوری ریاست میں الرٹ جاری کردیا ہے اور سیکورٹی کے انتظامات سخت کردئے ہیں ۔ اجودھیا میں متنازع اراضی کی طرف جانے والے سبھی راستوں کو بند کردیا گیا ہے ۔ ٹیڑھی بازار سے دو پہیہ اور فوروہیلر گاڑیوں کی آمدورفت پر روک لگادی گئی ہے ۔ گہری جانچ کے بعد ہی عقیدتمندوں اور عام لوگوں کو جانے دیا جارہا ہے ۔
The short URL of the present article is: http://harpal.in/pXt0f

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.