Home / اہم ترین / برطانیہ میں 27 سال قبل قتل کرنے والا ملزم پاکستان سے گرفتار

برطانیہ میں 27 سال قبل قتل کرنے والا ملزم پاکستان سے گرفتار

اسلام آباد:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)22؍جون: بھارتی نژاد برطانیہ کے شہری جسونت سنگھ سدھو کے لیے وہ دن بھی دیگر عام ایام کی طرح ہی تھا۔ وہ مقامی مارکیٹ میں کپڑوں کے اپنے اسٹال پر کپڑے ٹھیک کررہا تھا۔اس دوران آنے والے گاہکوں کے ساتھ بات چیت بھی جاری تھی کہ اچانک قریب ہی موجود ایک اور کپڑوں کا اسٹال لگانے والے محمد بشارت ان کے پاس آئے اور ٹی شرٹ کی قیمت کم رکھنے پر اعتراض کیا۔ محمد بشارت کو اس مارکیٹ میں سب بوبی کے نام سے جانتے تھے۔کم قیمت کے حوالے سے بوبی نے سدھو سے کہا کہ اس قیمت کی وجہ سے مارکیٹ خراب ہورہی ہے۔ اور یوں ٹی شرٹ کی قیمت کے تنازعے پر بات شروع ہوئی، جو چند ہی لمحوں میں تلخی میں بدل گئی۔اس دوران بوبی نے اچانک اپنی کمر کے پیچھے لگا ہوا پستول نکالا اور 31 سالہ جسونت سنگھ کو گولی مار دی، جس سے اس وہ ہلاک ہو گیا۔

یہ کہانی ہے آج سے لگ بھگ تین دہائیوں قبل 1995 میں برطانیہ میں قتل ہونے والے جسونت سنگھ سدھو کی، جس کا مبینہ قاتل 27 سال کے بعد پاکستان کے شہر راولپنڈی سے گرفتار ہوا ہے۔ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے انسانی اسمگلنگ کے انسداد ’اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل‘ اسلام آباد زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شیخ زبیر احمد کہتے ہیں کہ ایف آئی اے نے اس ملزم کو متعدد بار گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اب ملزم کے مخالفین نے قانون کا کام آسان کیا اور اس کی گرفتاری ممکن ہوسکی۔ملزم محمد بشارت عرف بوبی نے پاکستان آ کر نیا نام ضمیر علی ولد محمد اسلم اختیار کر لیا تھا اور وہ کئی برس سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور میں مقیم تھے۔بوبی نے جب مبینہ جرم کیا تھا اس وقت ان کی عمر 22 برس تھی۔

برطانیہ کے علاقے بلیک ووڈ میں قیام کے دوران ان کا نام لڑائی جھگڑوں اور گینگ بنا کر گھومنے کے لییلیا جاتا تھا۔ اس قتل کے بعد وہ بلیک ووڈ سے ٹیکسی کے ذریعے نیوپورٹ فرار ہوگئے تھے۔برطانیہ کی پولیس نے قتل کے فوری بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔ عینی شاہدین کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر پولیس نے نیوپورٹ کا علاقہ چھان مارا لیکن اس وقت ٹریکنگ کی جدید سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بوبی گرفتار نہ ہو سکے۔مسلسل کوشش کے باوجود پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا اور بوبی کے پاکستان میں آبائی علاقے میرپور میں تلاش شروع کی لیکن بوبی کہیں نہ مل سکا۔دوسری جانب محمد بشارت عرف بوبی نے کچھ عرصہ نیو پورٹ میں ایک دوست کے گھر گزارا۔ بعد ازاں اسی دوست کا پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے وہ فرانس پہنچ گئے۔

فرانس میں تقریباً ایک سال تک رہنے کے بعد بوبی جعلی پاسپورٹ پر پاکستان آئے اور یہاں اپنے بھائی محمد اسلم کا نام ولدیت میں لکھوا کر ضمیر علی کے نام سے نیا شناختی کارڈ بنوا لیا اور اسی شناختی کارڈ پر پاکستان میں کاروبار کرنے لگا۔بوبی نے، جن کا نیا نام اب ضمیر علی تھا، راولپنڈی میں ایک ریکروٹنگ ایجنسی بنائی اور لوگوں کو بیرون ملک بھیجنا شروع کر دیا۔ اس دوران وہ اپنا پرانا کاروبار یعنی کپڑے کی فروخت کا بھی کام کرتے رہے۔بوبی نے پاکستان میں شادی کی اور اب وہ دو بچوں کے والد بھی ہیں۔برطانیہ میں اداروں کی جانب سے بوبی کی تلاش کا سلسلہ جاری رہا اور پولیس پر ان کی گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھتا رہا۔ اس دوران برطانیہ میں موجود مختلف لوگوں سے پولیس نے رابطہ کیا۔ اس دوران ایک ’نامعلوم شخص‘ کی طرف سے پولیس کو معلومات فراہم کی گئیں، جن میں محمد بشارت عرف بوبی کی میر پور اور راولپنڈی میں موجودگی کے حوالے سے بتایا گیا۔

برطانیہ کی پولیس نے پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کی مدد سے اس بارے میں تحقیقات کیں اور مختلف شواہد جمع کیے، جن کی مدد سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ محمد بشارت عرف بوبی پاکستان میں موجود ہیں۔بعد ازاں برطانوی ہائی کمیشن نے راولپنڈی کی عدالت میں ان کی گرفتاری اور برطانیہ منتقلی کے لیے کیس دائر کیا۔ عدالت نے محمد بشارت کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔عدالت کے احکامات پر ایف آئی اے نے محمد بشارت عرف بوبی کو گرفتار کرنے کی کارروائی شروع کی۔ایف آئی اے کیاینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شیخ زبیر احمد کہتے ہیں کہ ایف آئی اے نے ملزم کی گرفتاری کے لیے کئی بار چھاپے مارے، لیکن وہ ہر بار فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/e0tKw

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.