Home / اہم ترین / برکینا فاسو میں انتہا پسندوں کا حملہ، ۱۶۰ ؍ افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی۔ تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان

برکینا فاسو میں انتہا پسندوں کا حملہ، ۱۶۰ ؍ افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی۔ تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان

واشنگٹن (ایجنسی) 11 جون۔ افریقی  ملک برکینا فاسو میں نائیجریا کی سرحد  پر ایک گائوں میں انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا جس میں ۱۶۰؍ لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔  یہ واقعہ ۲؍ روز قبل پیش آیا تھا  لیکن اس میں ہلاکتوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔  پولیس کی تفتیش میں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ  یہ حملہ کس نے اور کیوں کیا تھا۔ نہ ہی اب تک کسی انتہا پسند گروپ نے اس  حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔  البتہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس میں داعش کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔   اطلاع کے مطابق برکینا فاسو کے  شمالی حصے میں واقع قصبے سولحان میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جس میں اب تک ۱۶۰؍ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ حکومت نے  تین دن تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے بتایا ہے کہ مقامی اسپتالوں پر زخمیوں کے علاج معالجے کیلئے بہت دباؤ ہے جس کے پیش نظر ریڈکراس نے حکام کی درخواست پر شمالی قصبے ڈوری میں طبی ساز و سامان بھیج دیا ہے۔انٹرنیشنل کمیٹی فار دی ریڈ کراس کے برکینا فاسو کیلئے سربراہ لوریٹ سوگی نے بتایا کہ ہم نے فوری طور پر ڈوری میں نصف ٹن طبی ساز و سامان بھیج دیا ہے جو زیادہ تر پٹیوں، ٹیکوں اور دردکش دواؤں پر مشتمل ہے۔ ان چیزوں کی انہیں اشد ضرورت تھی۔

  واضح رہے کہ برکینا فاسو میں ہلاکت خیز حملوں کی ابتدا ۲۰۱۵ء  میں القاعدہ اور داعش سے منسلک مسلح گروہوں کے ساتھ مقامی آبادیوں کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں ہوئی تھی۔تاہم  مارچ ۲۰۲۰؍ اور اپریل ۲۰۲۱ءکے درمیانی عرصے میں ان حملوں میں ڈرامائی طور پر کمی  آئی، لیکن اس سال اپریل کے آغاز سے ہی دوبارہ حملوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ اور اب تک سات بڑے حملے ہو چکے ہیں۔برکینا فاسو کے ایک سیکوریٹی تجزیہ کار اور فوج کے سابق عہدے دار محمدو سوادوگو نےکہا کہ یہ حملہ مسلح دہشت گرد گروپوں کی طرف سے اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا صوبے یاگا اور خاص طور پر سولحان پر کنٹرول ہے۔ وہ گزشتہ ایک برس سے اس علاقے کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سولحان کے علاقے میں سونے کی کانیں ہیں اور دہشت گرد گروپ اکثر اوقات رقم بٹورنے کیلئے یہاں کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔برکینا فاسو کی فوج کے پاس وسائل بہت محدود ہیں ۔ اس لئے ان کی مدد کی خاطر فرانس اور امریکہ کی فوجیں یا تعینات ہیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/SN3Jx

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.