Home / اہم ترین / بنگال میں بعد ازانتخابات تشدد میں کس کا ہاتھ ہے، واضح ہونا چاہیئے: شیو سینا

بنگال میں بعد ازانتخابات تشدد میں کس کا ہاتھ ہے، واضح ہونا چاہیئے: شیو سینا

ممبئی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی) 7؍مئی ۔ شیو سینا نے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد تشدد سے سیاست کا خونیں روپ اجاگر ہوا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوریت کے بجائے طاقت اور زور و جبر کی حکمرانی قائم ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ریاست میں نظم و نسق کی صورت حال برقرار رکھنے کی ذمہ داری مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور مرکزی حکومت دونوں پر یکسان طور پر عائد ہوتی ہے۔

شیو سینا نے پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ میں ایک اداریہ میں کہا، ‘‘مغربی بنگال میں حقیقت میں کیا ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے غیبی طور پر کس کا ہاتھ ہے؟ یہ چیزیں واضح ہونی چاہیئں۔ جب سے ریاست میں بی جے پی کو شکست فاش ہوئی ہے تبھی سے تشدد کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ ترنمول کانگریس کے کارکنان نے بی جے پی کے کارکنان کے ساتھ مار پیٹ کی لیکن یہ سب غلط تشہیر ہے۔‘‘

سامنا میں مزید کہا گیا کہ مغربی بنگال میں تشدد کے دوران مارے گئے افراد کی تعداد 17 ہے اور اس میں بی جے پی کے 9 کارکنان شامل ہیں، بقیہ کا تعلق ٹی ایم سی سے ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تشدد میں دونوں فریقین ملوث ہیں۔ اداریہ میں مزید کہا گیا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے گورنر سے بات کر کے حالات سے آگاہی حاصل کی۔ بی جے پی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی ہائی کورٹ کا رخ کر کے ممتا بنرجی کو تشدد کا ذمہ دار قرار دیا اور ریاست میں گونر راج تک نافذ کرنے کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس سب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی سازش کر رہی ہے۔‘‘

اداریہ میں کہا گیا کہ ملک میں کورونا وائرس سے لوگوں کی جان جا رہی ہے لیکن یہاں فسادات پر سیاست ہو رہی ہے اور ملک کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ لوگ بھول گئے ہیں کہ مغربی بنگال میں قیام امن اور نظم و نسق کی صورت حال کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ممتا بنرجی کے ساتھ مرکزی حکومت کی بھی ہے۔ سامنا کے اداریہ میں مغربی بنگال میں بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی انتخابی تشہیر کے دوران دی گئی تقاریر کے حوالہ سے بھی تنقید کی گئی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/1gwB4

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.