Home / اہم ترین / بھیونڈی سانحہ: مہاراشٹرا کا اس سال کا سب سے بڑا سانحہ۔ مہلوکین کی تعداد26ہوگئی، زخمیوں کو ملبے سے نکالنے کا کام جاری

بھیونڈی سانحہ: مہاراشٹرا کا اس سال کا سب سے بڑا سانحہ۔ مہلوکین کی تعداد26ہوگئی، زخمیوں کو ملبے سے نکالنے کا کام جاری

ممبئی (ہرپل نیوز، ایجنسی) 23ستمبر:یہاں دھامنکر ناکہ میں پیر کو علی الصباح پیش آنےو الے بلڈنگ سانحہ کے ملبے میں زندگیاں تلاش کرنے کا سلسلہ منگل کو دن بھر جاری رہا اورجس وقت یہ خبر لکھی جارہی ہے تب بھی جاری ہے۔ اندیشہ ہے کہ اب بھی ۱۰،سے ۱۵ ،افراد ملبے میں پھنسے ہوسکتے تاہم اب ان کے زندہ نکلنے کی امیدیں معدوم ہونے لگی ہیں۔ بچاؤ کام میں مصروف تھانے ڈیزاسٹر ریلیف فورس نے ۲۶ مہلوکین کی فہرست جاری کی ہے جبکہ غیر مصدقہ ذرائع جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ۲۸ بتارہے ہیں۔
بچاؤ کام میں احتیاط کا مظاہرہ: اس امکان کے پیش نظر کہ ملبے میں مزید ۱۵؍ افراد پھنسے ہوسکتے ہیں، این ڈی آر ایف اورٹی ڈی آر ایف کے جوان نیز کارپوریشن اور فائر بریگیڈ کا عملہ ملبہ ہٹانے کے کام میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کررہاہے۔ کٹر مشین،جے سی بی اور پوکلین سے ملبے کو ہٹایا جارہاہے کہ مگر کوشش کی جارہی ہے کہ اگر کوئی اندر پھنسا ہوا ہوتو اسے تکلیف یا نقصان نہ پہنچے۔۲۴؍ گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے مگر لوگ کسی کرشمے کی شکل میں پھنسے ہوئے لوگوں کے زندہ بچ جانے کی آس لگائے ہوئے ہیں۔
متاثرہ خواتین کے قیام کا انتظام مدرسہ میں : عمارت کے انہدام کے بعد بے گھر ہو جانے والے غمزدہ افراد میں سے خواتین کی رہائش کا انتظام حاجی صدیق پٹیل مسجد سے متصل مدرسہ میں کیا گیا ہے۔ پٹیل کمپاؤنڈ میں رہنے والوں نے بتایا کہ ان کے کھانے اور دوسری ضروریات مسجد میں جماعت کیلئے کام کرنے والے ذمہ دار اُٹھا رہے ہیں۔مدرسے میں رہائش پزیر ان خواتین کا غم اور ان پر ٹوٹ پڑنے والی قیامت کا اثر ان کےچہروں سے عیاں ہے۔
کابینہ کی میٹنگ میں مثبت فیصلہ کی درخواست: رکن اسمبلی رئیش شیخ نے انقلاب کو بتایا کہ انہوں نے ایکناتھ شندے،نواب ملک، راجیش ٹوپے اور دیگر وزراء سے درخواست کی ہے کہ بدھ کو کابینہ کے میٹنگ میں وہ بھیونڈی سانحہ کے پس منظر میں مثبت فیصلہ کریں۔ انہوں نے بھیونڈی میں کلسٹر ڈیولپمنٹ کی منظوری نیز مخدوش اور انتہائی مخدوش عمارتوں میں جان ہتھیلی پر رکھ کررہنے پر مجبور مکینوں کو متبادل رہائش کے ا نتظام کا مطالبہ کیا ہے۔
مہاراشٹر کا سب سے بڑا سانحہ: منگل کو ریاستی وزیر برائے امداد و باز آباد کاری وجے ویڈٹی وار نے پٹیل نگر میں منہدم عمارت کا جائزہ لیا۔انہوں نے اس حادثہ کو مہاراشٹرکا اس سال کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ یہاں سب سے بڑا مسئلہ ایف ایس آئی کا کم ہونا اور غیرقانونی تعمیرات ہے۔
۳؍عمارتوں کو خالی کروا یاگیا: پٹیل کمپاؤنڈ میں تین منزلہ عمارت منہدم ہونے کے بعد کارپوریشن انتظامیہ انتہائی مخدوش عمارتوں کو خالی کروانے کیلئے متحرک ہوچکی ہے۔ ’جیلانی اپارٹمنٹ ‘نامی منہدم عمارت کے بغل میں واقع گھر نمبر ۶۱،۶۲؍اور ۶۳؍جس میں تقریبا ۲۲؍فلیٹ تھے، کوخالی کرواکر تینوں عمارتوں کی بجلی اور پانی منقطع کردی ہے۔تاہم ان عمارتوں میں رہائش پذیر مکینوں کیلئے کارپوریشن کی جانب سے کوئی متبادل انتظام نہ کئے جانے سے مکینوں میں کارپوریشن کے تئیں عدم اطمینان کا ماحول ہے۔ (انقلاب ممبئی)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/tfQpl

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.