Home / اہم ترین / بہارانتخابات:مہا گٹھ بندھن نے جاری کیا انتخابی منشور،۱۰؍ لاکھ ملازمتوں کا وعدہ۔ آئینی حقوق کے تحفظ کا بھی عہد

بہارانتخابات:مہا گٹھ بندھن نے جاری کیا انتخابی منشور،۱۰؍ لاکھ ملازمتوں کا وعدہ۔ آئینی حقوق کے تحفظ کا بھی عہد

پٹنہ (ہرپل نیوز، ایجنسی)18اکتوبر:آج بے حد خاص دن ہے۔ نوراتری کا تیوہار شروع ہورہا ہے۔ اس موقع پر ہم کلش نصب کرتے ہیں ۔جب کلش نصب کیا جاتا ہے تو لوگ  سنکلپ لیتے ہیں۔ہم لوگوں نے کلش نصب کیا ہے اور سنکلپ لیاہے۔ہمیں بے حد خوشی ہےکہ آج کےدن کو ہم لوگوں نے آپ کے سامنے سنکلپ کو جاری کرنے کے لیے منتخب کیا   ہے۔‘‘ان خیالات کا اظہار مہاگٹھ بندھن کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار تیجسوی یادو نے  یہاں ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ پریس کانفرنس صبح ۹؍ بجے مہاگٹھ بندھن کی طرف سے بلائی گئی تھی لیکن تاخیر سے شروع ہوئی۔ تیجسوی یادو نے اس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ہم بہاری ہیں، ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی آپ سب کو بتایا ہےکہ اگر ہماری سرکار بنتی ہے، بہار کے عوام ہمیں موقع دیتے ہیں تو کابینہ کی پہلی میٹنگ میں پہلا دستخط ریاست کے ۱۰؍ لاکھ نوجوانوں کو نوکری دینے کے لئے کریں گے۔ انتخابی منشور جسے ’سنکلپ بدلاؤ کا‘  نام دیا گیا ہے ،میں کہا گیا ہے کہ این ڈی اے حکومت میں جن ساڑھے چار لاکھ منظور شدہ اسامیوں پر تقرریاں نہیں کی گئی ہیں ، ان پر بحالی کا سلسلہ شروع کرنے کے ساتھ ہی ساڑھے پانچ لاکھ مستقل نوکریوں کے مواقع پیداکیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ مہاگٹھ بندھن میں آرجے ڈی سب سے بڑی پارٹی ہے اور اس کے انتخابی منشور کو آرجے ڈی کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ واضح  رہے کہ  لالو پرسادکا سماجی انصاف اور سماج میں وقار کے ساتھ رہنے پر زورہوتا تھا جبکہ تیجسوی یادو عام لوگوں کو اقتصادی اعتبار سے مضبوط بنانے کی بات کررہے ہیں۔ مہاگٹھ بندھن کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار نے کہا کہ عوام نے خدمت کا موقع دیا تو مسابقتی امتحانات کے لیےفارم مفت ملیں گے اور امیدواروں کے لیے اپنے آبائی ضلع سے امتحان مراکز تک کا سفر فری ہوگا۔ مہاگٹھ بندھن نے معاہدے پر بحال  کئے گئے ٹیچروں کو بھی بڑی راحت دینے کی بات کہی ہے۔انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ کانٹریکٹ سسٹم ختم کرکے ٹھیکے پر رکھے گئے ٹیچروں کی نوکری مستقل کی جائے گی اور مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ کا اصول نافذ کیا جائے گا۔ اسی طرح جیویکا دیدیوں کی ملازمت مستقل کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ امسال اگست کے اواخر اور ستمبر کے اوائل میں جیویکا دیدیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ مہاگٹھ بندھن نے دیہی علاقوں میں صحت خدمات کو بہتر بنانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمارٹ گرام یوجنا کے تحت ہر پنچایت میں ایک ڈاکٹر اور تربیت یافتہ نرس کے ساتھ کلینک کھولے جائیں گے۔

اپنے ۲۵؍ نکاتی منشور کےسلسلے میں مہاگٹھ بندھن نے عوام سے کہا ہے کہ ’یہ سچ ہونے والا ہے۔‘ آرجے ڈی ، کانگریس اور بایاں محاذ پر مشتمل مہاگٹھ بندھن نے اپنے منشور میں کہاکہ ’خطرے میں پڑے ہوئے سبھی آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے نئی حکومت پابند عہد رہے گی۔ ہم مانتے ہیں کہ عوامی تحریکوں اور تنقیدوں سے حکومت کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتی ہے۔ تحریکوں سے مذاکرات کرنے کے لیے حکومت پابند عہدرہے گی۔ بہار میں کسی بھی تحریک کار یا بے قصور شہری کو جعلی کیس لگا کر پریشان نہیں کیا جائے گا۔ ملک میں ایسے غیرمنصفانہ مقدمات اور گرفتاریوں کے خلاف بہار اسمبلی میں تجویز منظور کی جائے گی۔

انتخابی منشور کے اہم وعدے :مسابقتی امتحانات کے لیے درخواست فارم کی فیس  معاف ہوگی  ، ساتھ ہی  امتحان مراکز تک آنےجانےکا سفرمفت ہو گی ۔اساتذہ کو مساوی کام کے لیے مساوی تنخواہ ملے گی،جیویکادیدیوںکی نوکری مستقل ہوگی اور تنخواہ میں اضافہ کیا جائے گا۔تھانے اور دفاتر سے بدعنوانیوں کوختم کرنا پہلی ترجیح ، ۲۰۰۵ء سے پہلے والی پنشن اسکیم نافذ ہوگی ،بجلی سستی ہوگی۔بیوروکریسی سیاسی مداخلت سے آزاد ہوگی، کسی بھی احتجاج کرنے والے کے خلاف جعلی مقدمات درج نہیں ہوں گے۔ نقل مکانی روکنے کیلئے  امدادی مراکز کھولے جائیں گے۔ نئے زرعی قوانین کو منسوخ کیا جائے گا۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/OEVi3

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.