Home / اہم ترین / بی جے پی کی فرضی حب الوطنی اقتدارکی بھوک پرمرکوز،سرحدی مسائل پروزیراعظم کی خاموشی باعث تشویش:کانگریس کا’ چنتن شیویر‘

بی جے پی کی فرضی حب الوطنی اقتدارکی بھوک پرمرکوز،سرحدی مسائل پروزیراعظم کی خاموشی باعث تشویش:کانگریس کا’ چنتن شیویر‘

نئی دہلی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)16؍مئی: کانگریس نے الزام لگایاہے کہ آج حکمراں جماعت نے ہندوستانی آئین، اس میں موجود اصولوں اور حقوق اور بابا صاحب امبیڈکر کی سوچ پر سازشی حملہ کیاہے۔ آئینی حقوق پر حملے کا پہلا دھچکا ملک کے دلتوں، قبائلیوں، پسماندہوں، اقلیتوں، خواتین اور غریبوں کو پہنچا ہے۔عوام کے تحفظ کے لیے ہر حال میں لڑیں گے۔

کانگریس کے مطابق وہ تنظیم کے ساتھ ساتھ تمام سماجی، ثقافتی، غیر سرکاری تنظیموں، ٹریڈ یونینوں، تھنک ٹینکس اور سول سوسائٹی کے گروپوں کے ساتھ وسیع رابطہ اور مکالمہ قائم کرے گی تاکہ تباہ کن عناصرکا مقابلہ کیا جا سکے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ملکاارجن کھڑگے کی سربراہی میں رابطہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر تیار کی گئی نئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قوم پرستی اور جمہوریت کی روح کے تحفظ کے لیے کانگریس تمام لوگوں کے ساتھ بات چیت اور رابطہ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ہم خیال جماعتوں کے ساتھ سیاسی حالات کے مطابق اتحاد قائم کرنے کے راستے کھلے رکھیں گے۔پارٹی نے سرحد پر چین کی جارحیت کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ اس پورے معاملے پر مرکزی حکومت کی جوابدہی اور وزیر اعظم کی پراسرار خاموشی ملک کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔

مذاکرات کے کئی دور کے باوجود چین کا ہندوستانی سرزمین پر ناجائز قبضہ ترک نہ کرنا بذات خود ہندوستان کی سالمیت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ قومی سلامتی کے ساتھ بی جے پی کا یہ ڈرامہ ناقابل قبول ہے۔ ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط قائم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس نے اتوار کو کہا کہ وہ سیاسی حالات کے مطابق اتحاد کا آپشن کھلا رکھے ہوئی ہے۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی طرف سے منظور شدہ ’اودے پور نوسنکلپ‘ میں اتحاد پراپناموقف واضح کرتے ہوئے جعلی قوم پرستی، پولرائزیشن اور سیکورٹی کے مسائل پر بی جے پی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ نئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی قوم پرستی کانگریس کا بنیادی کردار ہے اور اس کے برعکس بی جے پی کی فرضی قوم پرستی اقتدار کی بھوک پر مرکوزہے۔

اس فرق کو عوام تک پہنچانا ہر کانگریسی کا فرض ہے۔انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ سیاسی مفادات کے لیے آسام-میزورم-میگھالیہ سرحدی تنازعہ، ناگالینڈ-منی پور قومی شاہراہ کی طویل مدتی بندش، 2019 سے پراسرار ناگا امن معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونا اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے سماجی و سماجی کارروائیاں شامل ہیں۔ پورے شمال مشرق میں سیاسی عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنا بی جے پی کی ناکامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

کانگریس نے دعویٰ کیاہے کہ جموں و کشمیر سے مکمل ریاست کا درجہ چھیننا، صوبے کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کرنا، صوبائی اسمبلی کو بحال نہ کرکے انتخابات کا انعقاد نہ کرنا، لوگوں کے ووٹ کا حق چھیننا، غلط حد بندی کو نافذ کرنا اور عدم تحفظ، عسکریت پسندوں کے ہاتھوں سیکورٹی فورسزاورکشمیری پنڈتوں سمیت ہزاروں بے گناہ شہریوں کا قتل بذات خود مرکزی حکومت کی سنگین ناکامی کی علامت ہے۔

انھوں نے کہاہے کہ ہم ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم پھیلانے کے بی جے پی-راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایجنڈے کی مذمت کرتے ہیں۔ کانگریس اقلیتوں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کو مذہب، زبان، ذات، رنگ اور علاقائیت کی بنیاد پر نشانہ بنا کر ووٹ حاصل کرنے کی سیاست کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/LdMkZ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.