Home / اہم ترین / تبلیغی مراکز پر پولیس کی نگرانی ہوئی سخت ،یوپی میں تیار کی جا رہی ہےفہرست۔نظام الدین کے تبلیغی مرکزمعاملے پر بولے کیجریوال بھیڑ اکٹھاکرنا غلط،نہیں بخشے جائیں گےقصوروار

تبلیغی مراکز پر پولیس کی نگرانی ہوئی سخت ،یوپی میں تیار کی جا رہی ہےفہرست۔نظام الدین کے تبلیغی مرکزمعاملے پر بولے کیجریوال بھیڑ اکٹھاکرنا غلط،نہیں بخشے جائیں گےقصوروار

نئی دہلی: (ہرپل نیوز،ایجنسی)31مارچ: کورونا وائرس کو لےکر نافذ لاک ڈاون کے باوجود نظام الدین علاقے میں واقع مرکز میں ملک وبیرون ملک کے لوگوں کے جمع ہونےکے معاملہ پر دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اروند کیجریوال نےکہا کہ ایسے وقت میں جبکہ لوگوں کو گھر میں رہنےکے احکامات دیئے جا رہے ہیں۔ بھیڑ نہ جمع کرنے کی اپیل کی جارہی ہے، پھر بھی نظام الدین علاقے میں ایک ہزار سے 1500 لوگوں کو جمع کرنا سنگین معاملہ ہے۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نےکہا کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں بتایا گیا کہ 13-12 مارچ کو بہت لوگ جمع ہوئے۔ اس میں 24 معاملے مثبت (پازیٹیو) آئے ہیں۔ اب تک 1548 لوگوں کو نکالا جا چکا ہے، جس میں سے 448 میں کورونا کے آثار پائےگئے ہیں۔
قصورواروں کو بخشا نہیں جائےگا:وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نےکہا کہ اس وقت ’نوراتر’ کا وقت چل رہا ہے، لیکن لوگ کہیں نہیں جمع ہورہے ہیں۔ گرودوارے بند ہوگئے ہیں۔ ایسے میں اتنی بڑی بھیڑ جمع کرنا غلط تھا۔ انہوں نےکہا کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ اس میں سے کتنے لوگ کہاں کہاں گئے ہوں گے، اس کی اطلاع نہیں ہے۔ اس معاملے میں دہلی حکومت نےکل ہی لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کو خط لکھا ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ اس معاملے میں اگر کسی بھی افسر کی کوتاہی پائی گئی، تو اسے بھی بخشا نہیں جائےگا۔
کیجریوال نے بتایا غیر ذمہ دارانہ رویہ:وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے واضح طور پرکہا کہ جب پوری دنیا اس سے پریشان ہے، ایسے وقت میں غیر ذمہ دارانہ رویہ نہیں چلےگا۔ وزیراعلیٰ نے اس دوران تلنگانہ میں یہاں سے گئے 6 لوگوں کی موت کے حادثےکا بھی ذکر کیا۔
یوپی میں کی جارہی ہے سخت کارروائی کی تیاری :دہلی کے نظام الدین تبلیغی مرکز میں قیام پذیر افراد کے خلاف پولیس کی کارروائی کے بعد یوگی حکومت نے ریاست کے تمام تبلیغی مراکز پر پولیس کی نگرانی سخت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ریاستی حکومت کی طرف سے حکم جاری ہوتے ہی الہ آباد میں واقع تبلیغی جماعت کے اہم مراکز پر پولیس کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ نظام الدین تبلیغی مرکز سے کورونا کے جن مشتبہ مریضوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں آٹھ مشتبہ افراد کا تعلق الہ آباد سے ہے ، جبکہ تین افراد کا تعلق پڑوسی ضلع پرتاپ گڑھ سے بتایا جا رہا ہے ۔
ریاستی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ فہرست کے مطابق ان گیارہ افراد کے اہل خانہ کی سرگرمیوں پر بھی نگرانی رکھنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ الہ آباد زون کے انسپکٹر جنرل کوندر پرتاپ سنگھ کے مطابق نظام الدین میں واقع تبلیغی مرکز سے حراست میں لئے جانے والے افراد کو فی الحال دہلی پولیس نے کورنٹائن میں ڈال رکھا ہے ۔ پولیس کے مطابق تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے جن افراد کو نظام الدین مرکز سے حراست میں لیا گیا ہے ، ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت قانونی کارروائی کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔بشکریہ :نیوزایٹین

The short URL of the present article is: http://harpal.in/bQdIm

One comment

  1. محمد سعیدالحق

    یہ لئیم ابن لئیم، سنھگی ابن سنگھی کیا بولے گا، کپل مشرا پر مقدمہ درج کراتے وقت نامرد بن گیا تھا، اب کمزور اور آپس میں بٹے ہوئے مسلمانوں کو دیکھ کر پوری ہمت واپس آگئی ہے.
    موجودہ وبا نے بہت سارے ممالک کے حکمرانوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور قدرت کے سامنے بے دستہ وپا نظر آئے، لیکن لگتا ہے کہ ہمارے ملک حکمرانوں نے ابھی تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور اب پہلے سے زیادہ آمادہ ظلم ہیں، اس سے مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بس اللہ کی طرف رجوع بڑھانے کی ضرورت ہے، شاید وہ اپنی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنا چاہ رہے ہیں، ہم سب اللہ رب العزت کی طرف رجوع کی بھرپور کوشش کرتے رہیں، ان شاء اللہ ان کی سازش خود ان کے گلے کی ہڈی بن جائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.