Home / اہم ترین / تحریک پیام انسانیت کی معنویت وافا دیت: از۔ مولانا مفتی محمد ساجد ندوی

تحریک پیام انسانیت کی معنویت وافا دیت: از۔ مولانا مفتی محمد ساجد ندوی

اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی پاکیزہ زندگی و ہدایات کا علم رکھنے والے اور مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ اسلام ایک عدل و مساوات اور انسانیت کے درمیان عام محبت و ہمد ردی کی فضاء اور ماحول پیداکرنے والا مذہب ہے جس کی مثال دنیا کے اندر موجود دیگر ادیان و مذاہب کی تعلیمات اور تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔ دنیا کے اندر بسنے والے تمام انسان ایک خالق کائنات اور اس سنسار کے پالنہار کے بندے ہیں۔ دنیا کے اندر اخو ت و ہمدردی اور باہمی اتحادو اتفاق اور عام انسانیت کی خیر و بھلائی کے لئے یکساں صدالگانے والے عظیم پیغمبر اور آخری رسول حضرت محمد مصطفٰی صلی علیہ وسلم نے بڑے واضح اور صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا ” الخلق عیال اللہ یعنی پوری انسانی برادری اللہ کا کنبہ اور خاندان ہے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مبارک تعلیم کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نے انسانو ں کے درمیان پائے جانے والے قومی و نسلی اور لسانی و تہذینی امتیازات اور بھید بھاؤاونچ نیچ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا ہے اور فضلیت وبرتری کا معیار و پیمانہ قلب و روح کی پاکیزگی و طہارت اور تقویٰ و خشیت الٰہی کومتعین کیا ہے، ورنہ انسان بحیثیت انسان سب برابر ہیں ذات، برادری،رنگ ونسل،امیر وفقیر اور عربی و عجمی وغیرہ ہونے کے اعتبار سے کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں جو بھی انسانیت کے لئے بھلائی کاکام کرے گا،انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہوگا وہ اچھاانسان ہے۔
آج ملک کے اندرجو بدامنی وبے اطمینانی اور انسانی و اخلاقی قدروں کی پامالی اور آپس میں جو نفرت و عداوت کی فضاء قائم ہے اورہمارے بیچ جو لاقانونیت،رشوت خوری،حق تلفی اور ایک دوسرے کو جو ہڑپ کر جانے کا ماحول بنا ہوا ہے یہ صرف اس لئے ہے کہ ہم نے انسانیت کا احترام اپنے دلوں سے نکال دیا ہے جس کی وجہ سے محبت کی جگہ نفرت اور اخوت و ہمدردی کی جگہ خودغرضی و مفادپرستی نے لے لی ہے۔تحریک پیام انسانیت جس کا بنیادی مقصد ہند وستان کی پوری آبادی کو بلاتفریق مذہب و ملت انسانیت کے احترام کی دعوت دینا، خداکے بندوں کو خداسے ملانا،ان کے دلوں میں انسانی برادری کی عزت وتوقیر کی فضاء قائم کرنا،انسانیت کو نئی زندگی دینا اور انسانوں کو انسانیت کے تئیں اسلام کا وہ بھولا ہواسبق یاددلانا اوریہ باور کرانا تھا کہ ”اے انسانو! تمہارا تعلق خواہ کسی بھی مذہب،کسی بھی تہذیب،کسی بھی رنگ و نسل اور کسی بھی علاقہ سے ہو اپنے مقام کو پہچانو، اپنے دلوں کے اندر خیرخواہی کاجذبہ پیدا کرو اور خداکی اس سرزمین پر خداکے نیک اورفرماں بردار بندے بن کر رہواور ایک دوسرے کے تئیں دلوں میں محبت و اپنائیت کا جذبہ پیداکرو اور خداکی ناراضگی سے بچواگر وہ ناراض ہوگا تو اپنی نعمتیں چھین لے گا۔ ابتلاؤں اور آزمائشو ں میں مبتلاکرے گا اور دنیا کے اندر تمہیں نشان عبرت بنا دےگا۔
تحریک پیام انسانیت کا آغاز بیسویں صدی کی عظیم شخصیت،معروف مفکر و داعی اور مصنف و خطیب مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندو ی رحمہ اللہ نے دسمبر ۴۷۹۱؁ء میں الٰہ آباد سے کیاتھا تحریک کی اہمیت و افادیت اور اس کے اہداف و مقاصد کاتعین کرتے ہوئے الہٰ باد میں بلائی گئی کانفرنس کے ایک جم غفیر کو خطاب کر تے ہوئے حضرت مفکراسلام نے عرض کیا تھا” افسوس ہے کہ اس لمبے چوڑے ملک میں اخلاقی کمزوریوں کو دور کرنے اور روحانی و انسانی زندگی کو رواج دینے کے لئے کوئی تحریک اور کوئی جماعت نظر نہیں آتی، ہم نے بہت انتظار کیا اور آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو بن پڑے اس کوشروع کر دیں“ الہٰ آباد سے اس تحریک کا آغاز کیوں کیا گیا اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا”الہٰ آباد سے ہم نے کام شروع کیا ہے کیوں کہ اس کانام الہٰ آباد یعنی خدا کی نگری ہے۔ یہیں سے خدا پرستی کی تحریک اور انسانیت کے احترام کی دعوت شروع ہونا چاہئے، جو خدا کے نام سے آباد ہے“۔پیام انسانیت کی اس صداکو ملک کے طول وعرض اور گوشہ گوشہ تک پہونچانے کے لئے اور اس کارواں کا شریک بننے اور ا س کو ایک اخلاقی و دینی اور قومی فریضہ قراردیتے ہوئے حضرت مولانا نے اپنے ایک بصیرت افروز خطاب میں کہا ” مسلمان اپنے مذہب کی روسے بھی اس کا ذمہ دار ہے کہ وہ جہا ں کہیں ہو اپنے ماحول کی فکر کرے شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دھنساکر خطروں سے آنکھیں بند نہ کرے، ”اور سب خیریت ہے“ کا سبق نہ دہرائے۔ مسلمانوں کو ہر جگہ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم ہے،اس کو سمجھنا چاہئے کہ وہ زندگی کی جس کشتی پر سوار ہے وہ جب ڈوبے گی اس کولے کر ڈوبے گی۔۔۔۔۔یہ ہمارے ملک کی کشتی ہے اگر حدانخواستہ ڈوبی تو نہ ہمارے ادارے بچیں گے نہ کتب خانے نہ مقدس اور خدارسیدہ افراد نہ عالم و فاضل نہ بزرگ“۔اس لئے یہی طریقہ ہے برادران وطن کو اسلام کے مطالعہ کی طرف راغب کرنے اور مسلمانوں کو سمجھنے اور ان کو ان کا صحیح مقام دینے پر آمادہ کرنے کا اور ان کے ذھن و دماغ سے مسلمانوں اور ان کے مدارس اور مذہبی اداروں کے تعلق سے پیداہونے والے شکوک و شبہات کو ختم کرنے کا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتنے بھرے پرے ملک میں اکثریت کو نظرانداز کرکے آگے نہیں بڑھا جاسکتاہے،دعوتی میدان ہموار کرنے کے لئے ان کے ذھن و دماغ کی صفائی بے حد ضروری ہے ورنہ ساری دعوتی کوششیں نقش برآب ثابت ہوں گی۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمتہ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک دھڑکتا ہوا اور درد مند دل عطا کیا تھا جو ہمہ وقت امت کی فکر میں بے کل و مضطرب رہا کرتا تھا وہ قوم و ملت کے تئیں صلاح و فلاح کا کوئی بھی خاکہ بناتے،کسی بھی تنظیم و تحریک کی پلاننگ کرتے ان کی کوشش ہوتی کہ فورا اس کو عملی جامہ پہنایا جائے اس کے لئے جو بھی کرنا ہوتا اس میں دریغ نہ کرتے تحریک پیام انسانیت کے لئے بھی انہوں نے براہ راست سیاسی و علمی شخصیتو ں،مذہبی رہنماوں،اساتذہ و طلبہ،و کلاء،وجج صاحبان اور اعلیٰ و تعلیمی ذھن و دماغ رکھنے والے افراد کو مخاطب کیا اور ان کے دلوں کو اپیل کی،تاریخی شہر بھو پال کی سرزمین پر منعقد کئے جانے والے ایک جلسہ کے اندر ایک پر جوش ودردمندانہ خطاب میں انہوں نے بڑے والہانہ انداز میں صاف صاف کہا تھا”خدانسل انسانی سے مایوس نہیں ہے،اس کی مہربانیا ں اس کی نعمتیں اس کائنات پر اس سنسار پر برس رہی ہیں کائنات کی ہر چیز نسل انسانی سے پر امید ہے لیکن ہمارا معاملہ ایک دوسرے کے ساتھ یہ بتاتا ہے کہ ہم انسان سے مایوس ہیں انسان انسان کا گلا کاٹتا ہے،ا س سے نفرت کرتا ہے،جونک کی طرح اس کا خون پیتا ہے،اسے گاہگ سمجھ کر فائدہ اٹھاتا ہے،حالانکہ انسان خدا کا محبوب ہے،اشرف المخلوقات ہے اور اس دنیا کی بارات کا دولہا ہے، کائنات اور کائنات کی ہر چیز اس کی خدمت کے لئے بنائی گئی ہے“۔ایک موقع پر جیسے روح نکال کر رکھدی ہو ایسے حکیمانہ اسلوب میں انسان کی قدر و منزلت اس کی فضیلت و برتری اور اس کے اندر پائی جانے والی خدادادصلاحیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ” انسان کے پاس سب سے بڑی دولت اور سب سے انمول سرمایہ ہے کی وہ دوسرے کے درد سے متاثر ہوتا ہے،اللہ نے اس کے اندر محبت کا مادہ رکھا ہے،اگر انسان سے رحم اور محبت کا مادہ ختم ہو جائے تو وہ دیوالیہ ہو جائے گا،کسی دل سے رحم اور محبت کا جذبہ نکل جائے اور اس کے اندر سے تڑپنے،سلگنے،اور چوٹ کھانے کی صلاحیت ختم ہو جائے تو وہ اس قابل نہیں کہ اس کودل کہا جائے بلکہ وہ پتھر کی سل ہے،جو خدا کی بارگاہ میں کوڑی کے قابل نہیں خواہ وہ مسلمان کا دل ہو ہا ہندواور سکھ وہ عیسائی کا دل ہو دل تو اس لئے ہے کہ وہ تڑپے،لرزے ،روئے،اور انسانیت کے دکھ درد کو محسوس کرے“۔چنانچہ یہی وہ انسانیت تھی جس کا درس دینے کے لئے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے،آپ نے انسانیت کا اصلی نمونہ پیش کر کے یہ بتا دیا کہ و حدت انسانیت کا نظریہ صرف نظریہ نہیں بلکہ حقیقت بھی بن سکتا ہے بشرطیکہ صدق دل سے اس پر عمل کیا جائے اور دنیا کے دوسرے لوگ بھی اس کو آزماکر دیکھ سکتے ہیں۔
اسلام نے وحدت تخلیق کے نظریہ سے دنیا کے تمام انسانوں کو ایک جسمانی رشتے اور اخوت کی لڑی میں پرو دیا ہے اور یہ ایک بڑا انقلابی تصور ہے،جس نے صدیوں کی حد بندیوں کو توڑا اور رنگ و نسل کے امتیازات کو مٹایا،حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے قوموں کی نسلی بڑائی کا بت ہمیشہ کے لئے توڑ دیا ہے،اگر انسانو ں کو ہمیشہ یہ احساس رہے کہ وہ اس دنیا میں با لکل آزاد نہیں ہیں،اور انہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے،تو اس مواخذہ کے تصور سے انسان بے باک نہیں ہوں گے اورخوف خدا کو ہاتھ سے نہ جانے دیں گے اگر ان باتو ں پر تمام انسان یقین رکھیں تو انسان،انسانوں کی اس عالمی برادری کا ایک اچھا اور صالح رکن بن سکتا ہے،اس کے اندر خدا شناسی کا جذبہ ابھر سکتا ہے،وہ اس دنیا کا ایک اچھا شہری بن کر زندگی گزار سکتا ہے۔
لہذا پیام انسانیت کا یہ تصور ہمارے اکابر اور بزرگان دین کے زریں کا رناموں میں سے ایک کارنامہ ہے اور انسانیت کو خیرو فلاح کی طرف لانے کا ایک بہترین قدم ہے۔
                 ( مضمون نگارمولانا مفتی محمد ساجد ندوی ،مرکز الاامام رحمت اللہ الکیرانوی محمد پور کیرانہ شاملی کے نائب ناظم ہیں)

The short URL of the present article is: http://harpal.in/SBZP4

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.