Home / اہم ترین / ترکی کا معاشی بحران: کیا ایردوان اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں؟

ترکی کا معاشی بحران: کیا ایردوان اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں؟

لندن:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)14؍جنوری:ترکی میں گزشتہ سال کے اواخر سے صدر طیب ایردوان کی خارجہ پالیسی کے جارحانہ انداز میں میں تبدیلی آرہی ہے۔ بدلتے عالمی حالات اور اپنے معاشی چیلنجز کی وجہ سے ترکی نے آئندہ برس کے لیے اپنے اہداف بھی اسی حکمتِ عملی کے تحت ترتیب دیے ہیں۔

ترک حکومت کے حامی سمجھے جانے والے تھنک ٹینک ’سیٹا‘ (فاو?نڈیشن فور پولیٹیکل، اکنامک اینڈ ریسرچ) نے ترکی کے عالمی سیاسیت میں اہداف کے بارے میں ٹرکیز جیوپولیٹیکل لینڈ اسکیپ ان 2022‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

سیٹا نے 2022 میں ترکی کے ان اہداف سے متعلق سلامتی اور خارجہ امور کے ماہرین کا ایک سروے کیا تھا۔ رپورٹ میں اس سروے کے نتائج سے متعلق بتایا گیا ہے کہ 2021 میں ترکی کی زیادہ توجہ دفاع پر تھی۔ لیکن 2022 میں ’معاشی سکیورٹی‘ زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ترکی اپنی سلامتی کو عسکری یا فوجی تناظر کے بجائے معیشت، سماجی اور ماحولیاتی تحفظ کے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔

پالیسی میں اس تبدیلی کی وجہ اس رپورٹ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ خطے میں بالخصوص شام اور عراق میں ایسے خطرات کم ہو گئے ہیں جن کے مقابلے کے لیے فوجی مداخلت ضروری تھی۔سیٹا کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی معاشی ترجیحات ہی قومی سلامتی سے متعلق ترکی کی پالیسی کی سمت کا تعین کریں گی۔

ترکی میں حکومت کے حامی حلقے، تھنک ٹینکس اور تجزیہ کار سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق ایردوان کی بدلتی ترجیحات کے اسباب میں بدلتے عالمی حالات اور خطے کی صورت حال کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن بین الاقوامی مبصرین کے نزدیک اس پالیسی شفٹ کی بنیادی وجہ ترکی میں جاری معاشی مسائل ہیں۔

ترکی میں گزشتہ پیر کو شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 2002 کے بعد پہلی مرتبہ 36 اعشاریہ ایک فی صد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔اس کے علاوہ ترکی کو 2021 میں اپنی کرنسی ’لیرا‘ کی قدر میں بھی تیزی سے کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر 2021 میں 44 فی صد کم ہوئی۔ترکی میں پچھلے برس تاریخی طور پر ایک ڈالر کی قیمت 18.4 لیرا پر پہنچ گئی تھی۔

دسمبر 2021 میں ترک حکومت کی اصلاحات کے بعد ایک ڈالر کی قیمت اس وقت کم و بیش 13 لیرا تک آگئی ہے۔ترکی کے محکمہ شماریات کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح نومبر میں 22.3 فی صد سے بڑھ کر 36 فی صد تک پہنچ گئی۔اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 2002 کے بعد اب تک سب سے بلند ہے جب ایردوان کی جماعت نے انتخابات میں پہلی بار کامیابی حاصل کی تھی۔

صدر رجب طیب ایردوان کی غیر روایتی معاشی پالیسیوں کو ملک میں معاشی مسائل اور موجودہ مہنگائی کی اس لہر کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/tl5KD

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.