Home / اہم ترین / تریپورہ پولیس کی چہار سُو مذمت، ایڈیٹرس گلڈ بھی برہم۔ یواے پی اے کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے رہنما خطوط کی ضرورت کا اعادہ کیا،حکومت کو وکیلوں،صحافیوں اور سماجی کارکنان کے بجائے خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مشورہ دیا

تریپورہ پولیس کی چہار سُو مذمت، ایڈیٹرس گلڈ بھی برہم۔ یواے پی اے کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے رہنما خطوط کی ضرورت کا اعادہ کیا،حکومت کو وکیلوں،صحافیوں اور سماجی کارکنان کے بجائے خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مشورہ دیا

نئی دہلی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی) 8؍نومبر: تریپورہ میں پہلے حقائق کا پتہ لگانے کیلئے جانے والے سپریم کورٹ کے وکیلوں پر یو اے پی اے کے تحت کارروائی اور پھر تشدد کی خبر دینے نیز سوشل میڈیا پر اس پر تبصرہ کرنے کی پاداش میں ۱۰۲؍ افراد کے خلاف یو اس سخت قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے پر ریاستی حکومت اور پولیس کی چہار سو مذمت ہورہی ہے۔ ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے اتوار کو تریپورہ حکومت کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کی خبروں کی رپورٹنگ روکنے کیلئے ایسے سخت قوانین کا سہارانہیں لے سکتی۔اس کے ساتھ ہی ملک کے ممتاز ایڈیٹرس کی اس تنظیم نے یو اے پی اے کےغلط استعمال کو روکنے کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے سخت رہنما خطوط جاری کئے جانے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ تریپورہ میںا پوزیشن پارٹیوں نے کی اس حرکت پر شدید اعتراض کیا ہے۔ سی پی ایم، کانگریس اور حقوق انسانی کے علمبرداروں نے ریاستی حکومت اور پولیس کی اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے وکیلوں کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو نیز تریپورہ فساد سے متعلق سوشل میڈیا میں کئے گئے پوسٹ کو ریاستی حکومت نے افواہ پھیلانے اور فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے کے زمرے میں شامل کر دیاہے۔ ایڈیٹرس گلڈ نے ریاستی پولیس کی کارروائی پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے میں ریاستی حکومت کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ یاد رہے کہ تریپورہ پولیس نے سوشل میڈیا پر سرگرم رہنے والے ۱۰۲؍ صحافیوں اور حقوق انسانی کے علمبرداروں کے خلاف صرف یو اے پی اے کا اطلاق ہی نہیں کیا ہے بلکہ یو ٹیوب، ٹویٹر اور فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو مکتوب جاری کرکے ان کے اکاؤنٹ بند کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

ایڈیٹرس گلڈ نے کہا ہے کہ ’’حکومت فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ کو دبانے کیلئے اس طرح کے سخت قوانین کا استعمال نہیں کر سکتی۔‘‘گلڈ نے مزید کہا ہے کہ اسے صحافیوں کے خلاف پولیس کی اس کارروائی سے’سخت دھچکا ‘لگا ہے۔ تریپورہ کی حکومت اکثریتی طبقات کے ذریعہ اقلیت کے خلاف تشدد پر قابو پانے میں اپنی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔

گلڈ نے کہا ہے کہ’’ صحافیوں میں سے ایک شیام میرا سنگھ نے کہا ہے کہ ان پر صرف’تری پورہ جل رہا ہے‘ ٹویٹ کرنے پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کر لیاگیا ہے۔ قابل ذکر ہےکہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شیام میراسنگھ نے ٹویٹ کیاکہ’غیر قانونی سرگرمی انسدادایکٹ(یو اے پی اے) میں چار الفاظ ہیں جبکہ میرے ٹویٹ میںمحض تین الفاظ ہیں۔‘‘گلڈ نے کہا ہے کہ ’’یہ انتہائی پریشان کن رجحان ہے کہ اس طرح کے سخت قانون کو جس میں تفتیش اور ضمانت کا عمل انتہائی سخت اورناقابل برداشت ہے، محض فرقہ وارانہ تشدد کی رپورٹنگ کو روکنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘ گلڈ نے تریپورہ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صحافیوں اور سماجی کارکنان کے بجائے ان افراد کے خلاف کارروائی کرے جو تشدد کے ذمہ دار ہیں۔ گلڈ نے پرزو ر الفاظ میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ کرکے خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ رپورٹنگ اور آزاد آوازوں کو دبانے کیلئے یواے پی اے کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے ایڈیٹرس گلڈ نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیاہےکہ اس قانوں کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے سخت رہنما خطوط جاری کئے جانے چاہئیں۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/WFErq

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.