Home / اہم ترین / تمل ناڈو کے وزیر اعلی نے میکداتو ڈیم کے معاملے پر کرناٹک کے ساتھ بات چیت کے آپشن کوخارج کیا

تمل ناڈو کے وزیر اعلی نے میکداتو ڈیم کے معاملے پر کرناٹک کے ساتھ بات چیت کے آپشن کوخارج کیا

چنئی: (ہرپل نیوز؍ایجنسی) 19؍جولائی:۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے پیر کو میکداتو ڈیم معاملے پر کرناٹک کے ساتھ بات چیت کے آپشن کو مسترد کردیا۔ اسٹالن نے قومی دارالحکومت میں صدر رام ناتھ کووند سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ مرکز کی طرف سے دی گئی یقین دہانیوں کی بنیاد پر ان کی حکومت کو یقین ہے کہ کرناٹک اس اقدام سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے اور ڈیم کے معاملے پر قانونی آپشن بھی اختیارکیا جائے گا۔اسٹالن نے کہا کہ تامل ناڈو حکومت نے 1921 میں قائم قانون ساز اسمبلی کی صد سالہ تقریب منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تامل ناڈو قانون ساز اسمبلی کو اس وقت ’مدراس قانون ساز کونسل‘ کے نام سے جاناجاتاتھا، اس کا انتخاب اس وقت کے مدراس صدر نے کیا تھا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ انہوں نے صدر سے صد سالہ تقریبات کی صدارت کرنے کی درخواست کی جسے انہوں نے قبول کرلی ہے۔

اسٹالن نے کہا کہ تقریب کے دوران سابق وزیر اعلی ایم کروناندھی کی تصویر کی بھی اسمبلی میں نقاب کشائی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ صدر کووند نے مدورائی میں ایک لائبریری کا سنگ بنیاد، چنئی میں ایک سرکاری اسپتال اور آزادی کی 75 ویں سالگرہ کی یاد میں ایک ستون کی بنیاد رکھنے پر بھی متفق ہوگئے ہیں۔کرناٹک سے میکداتو ڈیم کے معاملے پر مرکز پر دباؤ ڈالنے کے بارے میں پوچھے جانے پر اسٹالن نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں وزیر اعظم سے ہمسایہ ریاست کے کاویری ندی پر حوض تعمیر کرنے کے خلاف قدم اٹھانے کیلئے بات کی تھی۔

اسٹالن نے کہا کہ ان کی حکومت کو یقین ہے کہ کرناٹک کے وزیر اعلی یدیورپا کا اقدام وزیر اعظم اور آبی وزیر کی طرف سے یقین دہانی کرانے کے بعد آگے نہیں بڑھے گا۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، ہم قانونی طور پربھی اس کا سامنا کریں گے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تمل ناڈو حکومت کرناٹک سے میکداتو کے معاملے پر بات کرے گی؟ اسٹالن نے کہاکہ اب بات چیت کا کوئی آپشن نہیں رہا، یہ بات ہمارے (آبی وسائل) کے وزیر (درئی مورگن) نے واضح کردی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/PZRt1

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.