Home / اہم ترین / جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بی بی سی کی دستاویزی فلم کی نمائش پر ہنگامہ

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بی بی سی کی دستاویزی فلم کی نمائش پر ہنگامہ

نئی دہلی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)26؍جنوری:بی بی سی کی دستاویزی فلم پر تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔خبر کے مطابق اب دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی یعنیجے این یو کیمپس میں دستاویزی فلم کو لے کر ہنگامہ برپا ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء نے منگل یعنی گزشتہ 24 جنوری کو بی بی سی کی دستاویزی فلم کی نمائش کا اعلان کیا۔ تاہم اس اسکریننگ سے قبل طلبہ یونین کے دفتر میں بجلی کاٹ دی گئی ہے۔خبر کے مطابق پتھراؤ کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ اے بی وی پی اور بائیں بازو کے طلبہ کے درمیان پتھراؤ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی سربراہ عائشی گھوش نے دعویٰ کیا ہے کہ جے این یو انتظامیہ نے بجلی کاٹ دی تھی۔

بی بی سی کی نڈیا: دی مودی کویسچن (سوال) دستاویزی سیریز گجرات فسادات پر مبنی ہے جب نریندر مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔دستاویزی فلم کی اسکریننگ رات 9 بجے شروع ہونا تھی اور انتظامیہ کی جانب سے ناپسندیدگی کے باوجود طلبا نے اسے آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جے این یو انتظامیہ نے اسکریننگ کی اجازت نہیں دی۔ یہ بھی کہا کہ دستاویزی فلم کی اسکریننگ کے بعد تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم طلبانے اصرار کیا کہ اسکریننگ سے یونیورسٹی کے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوگی اور نہ ہی اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوگی۔عائشی گھوش نے کہا کہ ہم اسکریننگ کریں گے۔ بی بی سی کی دستاویزی فلم پر پابندی نہیں ہے۔

یہ فلم سچائی کو ظاہر کرتی ہے اور وہ ڈرتے ہیں کہ سچ سامنے آجائے گا۔ آپ بجلی کو چھین سکتے ہیں، آپ ہماری آنکھیں، ہماری روح نہیں چھین سکتے، آپ اسکریننگ کو نہیں روک سکتے۔ ہم ہزار اسکرینوں پر دیکھیں گے۔ اگر پولیس اور بی جے پی میں ہمت ہے تو ہمیں روکیں۔طلبہ یونین کی سربراہ نے کہا کہ اے بی وی پی مذمتی خط لکھ سکتا تھا، لیکن یہ کیمپس یونین کے حکم پر نہیں چلتا۔ ہمیں بی جے پی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اے بی وی پی نے ٹویٹ کیا ہے کہ انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ انہیں شرم نہیں آتی، پہلوان دھرنے پر بیٹھے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس لیپ ٹاپ ہیں، وائی فائی وغیرہ کاٹ دیئے گئے ہیں۔ ہم آج ہی یہ ڈاکومنٹری دیکھیں گے، کیو آر کوڈ تقسیم کریں گے۔ اگر وہ ایک اسکرین بند کردیں گے تو ہم لاکھوں اسکرینیں کھول دیں گے۔ایک ساتھ مل کر شیئر کریں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/Oh5ep

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.