Home / اہم ترین / جوشی مٹھ بحران: 84 حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا۔ نہ سرجن نہ کوئی خاتون ڈاکٹر، الٹراساؤنڈ کی سہولت کا بھی فقدان

جوشی مٹھ بحران: 84 حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا۔ نہ سرجن نہ کوئی خاتون ڈاکٹر، الٹراساؤنڈ کی سہولت کا بھی فقدان

جوشی مٹھ:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)22؍جنوری:مکانات، عمارتوں اور سڑکوں میں دراڑیں شہر کو زمین میں غرق ہوتا دیکھ رہے جوشی مٹھ کے باشندگان پر یکے بعد دیگرے مصیبت ٹوٹ رہی ہیں۔ شہر پر آئی آفت کی وجہ سے وہ خواتین سب سے زیادہ پریشان ہیں جو اگلے ایک ماہ میں بچے کو جنم دینے والی ہیں۔مشکل کی اس گھڑی میں محکمہ صحت خواتین کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وسائل کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ خواتین ڈپریشن کا شکار نہ ہوں۔

خواتین ڈاکٹرز ان کا حوصلہ بڑھا رہی ہیں اور حاملہ خواتین کی ڈلیوری گوپیشور میں کرائی جائے گی۔جوشی مٹھ میں اس وقت 84 خواتین حاملہ ہیں اور ان میں سے 18 خواتین ایسی ہیں جن کے بچے کی پیدائش 15 فروری تک ہونے والی ہے۔ محفوظ زچگی کے لیے یہاں 3 ایمبولینس اور 108 سروس ایمبولینس 24 گھنٹے تعینات کی گئی ہیں۔حاملہ خواتین کو براہ راست سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کرن پریاگ اور ڈسٹرکٹ اسپتال گوپشور منتقل کرنے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

صورتحال اس وجہ سے مشکل تر ہو گئی ہے، کیونکہ جوشی مٹھ کے مرکز صحت میں نہ تو کوئی سرجن ہے اور نہ ہی کوئی خاتون ڈاکٹر۔ یہاں تک کہ الٹراساؤنڈ کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔کمیونٹی ہیلتھ سنٹر کی انچارج ڈاکٹر جیوتسنا ناتھوال نے کہا کہ جوشی مٹھ شہر میں زیادہ تر حاملہ خواتین کا تعلق ان خاندانوں سے ہے جن کے گھر زمینی دھنساو? کی زد میں آ گئے ہیں۔ آفت زدہ علاقے میں حاملہ خواتین کی مسلسل کونسلنگ کی جا رہی ہے۔ اگر کسی حاملہ خاتون کو کوئی پریشانی ہو تو اسے براہ راست کرن پریاگ یا گوپیشور لے جانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

دوسری طرف، جوشی مٹھ میں تباہی کا سلسلہ لگاتار جاری ہے اور شہر میں ایک بار پھر ان عمارتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہر کی مزید 14 عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ جس کے بعد دراڑوں والی عمارتوں کی تعداد 863 ہو گئی ہے۔ ساتھ ہی 181 عمارتوں کو مکمل طور پر غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔سیکرٹری ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈاکٹر سنہا نے کہا کہ حکومت کی طرف سے متاثرہ کرایہ داروں کو 50 ہزار روپے کی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 8 کرایہ داروں کو متاثرہ فی خاندان 50 ہزار روپے کے حساب سے 4 لاکھ روپے کی رقم فراہم کی جا چکی ہے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/hORuP

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.