Home / اہم ترین / جو زبان ملی تو کٹی ہوئی، جو قلم ملا تو بکا ہوا ۔از۔ ذوالقرنین احمد

جو زبان ملی تو کٹی ہوئی، جو قلم ملا تو بکا ہوا ۔از۔ ذوالقرنین احمد

 ملک بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نام سے جانا جاتا ہے، جمہوریت کا مطلب تمام انسانوں کو شخصی آزادی، براری کا حق، اپنے مذہب اور تہذیب و ثقافت پر چلنے کی آزادی ہو کسی قسم کی پابندی ان پر نا ہو، جہاں تمام سرکاری اور انصاف مہیا کرنے والی عدالت کسی دباؤ میں نا ہو، جہان لکھنے ،بولنے کی آزادی ہو، کسی کےساتھ ذات پات مذہب کے نام پر امتیازی سلوک نا برتا جاتا ہو، ہر کوئی اپنے آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو۔ جسے تمام انسانی حقوق میسر ہو، کہی  بھی غیر منصفانہ ظالمانہ رویہ کسی شخص یا کمیونٹی کے ساتھ روا نہیں رکھا جاتا ہو، آج ملک کو آزاد ہوئے ۷۲ سال ہورہے ہیں۔ اس ملک کی بنیاد جمہوری نظام حکومت پر رکھی گئی۔ لیکن آزادی کے بعد سے ابتک سب سے بدترین حالات ملک کی اگر ہوئی ہے تو اس فرقہ پرست حکومت کے ۲۰۱۴ میں اقتدار میں آنے کے بعد ہوئی ہے اور مسلسل دوسری مرتبہ مرکزی حکومت پر قابض ہونے سے جاری ہے۔

عوام نے یہ سمجھا کہ بی جے پی نے پچھلے پانچ سالوں میں کوئی بڑا فساد نہیں کیا اور نا ہی کوئی غیر معمولی حالات دیکھنے میں آئے نوٹ بندی ٹرپل طلاق قانون،  کے علاوہ کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا لیکن ان گزشتہ پانچ سالہ اقتدار میں اس فرقہ پرست حکومت نے منصوبہ بندی کی اور ۲۰۱۹ میں اقتدار میں آتے ہیں جلد بازی میں ایسے قانون کو پاس کیا جو ا‌نصاف و انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ہم جنس پرستی قانون ، شادی شدہ ہونے کے باوجود غیر محرم سے جنسی تعلقات کو جائز قرار دیا گیا ، کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ کو کلعدم قرار دے کر خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کیا گیا، آر ٹی آئی معلومات حق کی آزادی کے اندر ترمیم کی گئی، یو اے پی اے قانون میں ترمیم کرکے اسے اور سخت بنایا گیا جس میں انصاف پسند عوام کی آواز کا گلا گھونٹنا داخل ہے۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو بلا انتخاب صدر جمہوریہ کے زریعے راجیہ سبھا کا ممبر منتخب کیا گیا۔ اپریل ۲۰۱۹ میں سپریم کورٹ کی ایک سابق ملازمہ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر جنسی ہراسانی کا الزام بھی لگایا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ۱۰ ، ۱۱ اکتوبر ۲۰۱۸ کو اسے جنسی طور پر حراساں کیا گیا تھا۔ جسے گوگوئی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کو روکنے کی کوشش ہے۔ ایس اے بوبڑے نے فوری طور پر اس معاملے کو ختم کر دیا تھا۔ اسی طرح ۹ نومبر ۲۰۱۹ کو جسٹس رنجن گوگوئی  کے پانچ رکنی بینچ نے بابری مسجد رام جنم بھومی کے متنازع آراضی پر فیصلہ صادر کیا جس میں انہوں نے تمام حقائق اور ثبوتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے  اکثریتی فرقے کے افراد کو دیکھتے ہوئے عقائد کی بنیاد پر بابری مسجد کی زمین رام جنم بھومی کے نام کرنے کا فیصلہ صادر کیا جو تاریخ میں انصاف کے قتل کے دن کے طور پر لکھا جائے گا۔  ۱۷ نومبر ۲۰۱۹ میں انکا رٹائرمنٹ ہوا یہ انکا آخری فیصلہ تھا۔ اس سے قبل رافیل ذیل کے معاملے میں بھی بی جے پی حکومت کو کلین چٹ دینے میں بھی رنجن گوگوئی پیش پیش رہے۔ اسی طرح انہوں نے بی جے پی حکومت کے غیر منصفانہ ظالمانہ قانون سازی کو لے کر اور ملک کی جمہوریت ، عدالتی نظام پر دباؤ ڈالنے پر پریس کانفرنس کے زریعے بی جے پی کو ملک کیلے خطرہ قرار دیا تھا۔ ان تمام باتوں سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایک منصف جج ہونے کے باوجود کہی نہ کہی یہ ایک پری پلان منصوبہ تھا پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ کوئی انگلی اٹھانے کی کوشش بھی نا کریں ۔

سپریم کورٹ کے ججز کا چناؤ ہو یا انصاف پسند اور حق پرست صحافی ہو ان معاملات میں مداخلت کی گئی اور انصاف کا قتل کیا گیا۔ عوام سے آزادی کے حق سلب کیے گئے۔ بولنے اور لکھنے کی آزادی کو چھینا جارہا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو کل راجیہ سبھا کا بلا انتخاب ممبر منتخب کرنا بھی ان تمام غیر منصفانہ فیصلوں کی زندہ مثال ہے کہ جس نے حکومت کے تلوے چاٹنے اور بند کمروں میں جمہوریت کی اور آئین کی عصمت کو تار تار کیا گیا آج ان لوگوں کو اپنے کیے کا پھل دیا گیا ہے۔ جو راجیہ سبھا کی سیٹ کی شکل میں ہے۔ اور اسی طرح جس نے ان تمام کی مدد کی ہے اس کیلے بھی جگہ ریزرو کی گئی تھی ایس اے بوبڑے کو گوگوئی کے رٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کے عہدے پر فائز کردیا گیا۔ اور اب وہ ایک وفادار سگ کی طرح اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ شاہین باغ احتجاج کی مثال ہمارے سامنے ہیں کہ اصل شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دائر پٹیشن پر سنوائی کرنے بجائے شاہین باغ کے احتجاجات کو کس طرح سے اٹھایا جائے اس پر سنوائی کی جارہی ہے اور بار بار یہ کہ کر تاریخ دے کر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا جا رہا ہے اگر فیصلہ مرکزی حکومت سے ہی لے کر سنوائی کرنا ہے تو جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے اور عوام کس پر اعتماد کریں وہ اپنے حق  کیلے کس سے انصاف کی امید لگائے۔ جس طرح بابری مسجد کے فیصلہ پر مسلمانوں نے سپریم کورٹ پر بھروسہ کیا اور اسکا نتیجہ انصاف کے قتل کے طور پر سامنے آیا ۔ آج بھر شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی، سی اے اے کو لے کر عوام سپریم کورٹ سے امید لگائے بیٹھی ہے کہ انصاف مل جائے گا تو ان تمام پر نظر ڈالیے کہ انصاف کے مندروں میں بیٹھے ہوئے منصفوں کی باگ ڈور فرقہ پرست حکومت کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے انہیں اقتدار میں بٹھایا ہے۔ اب ملک کی عوام کو سڑکوں پر اتر کر انصاف کی خاطر احتجاج کرنا چاہیے ورنہ کھلی فضا میں سانس لینا بھی محال ہوگا ۔ نوٹ : مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروی نہیں

The short URL of the present article is: http://harpal.in/FzARj

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.