Home / اہم ترین / حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے شہریوں کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے:ہندوستانی سفیر

حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے شہریوں کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے:ہندوستانی سفیر

دبئی:(ہرپل نیوز؍ایجنسی)18؍جنوری:متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہندوستان کے سفیر سنجے سدھیر نے کہا ہے کہ ہندوستان ابوظہبی ہوائی اڈے کے قریب ایک مشتبہ حوثی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دو ہندوستانیوں کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔یمن کے حوثی باغیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں دو ہندوستانی، ایک پاکستانی شہری ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہوئے۔دھماکا متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں تین پٹرولیم ٹینکروں پر گرنے کی وجہ سے ہوا۔

متحدہ عرب امارات میں ہندوستان کے سفیر سنجے سدھیر نے دی نیشنل اخبار سے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ ہندوستانی حکومت دو متوفی ہندوستانی شہریوں کے اہل خانہ کوجوبھی ممکن ہو سکے مددفراہم کرے گی۔ہندوستانی سفارت خانے نے ابھی تک حملے میں مارے گئے ہندوستانیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔دریں اثناحملے کے ایک دن بعد مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس کی مذمت کی اور متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زید النہیان سے بات کی۔سعودی ولی عہد نے جاں بحق افراد کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ان دہشت گردانہ حملوں اور مجرمانہ کارروائیوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتاہے۔وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے ایندھن کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر ڈرون حملوں کو بخشا نہیں جائے گا۔متحدہ عرب امارات 2015 سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سعودی قیادت میں فوجی مہم کا حصہ رہا ہے۔ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو بھی اردن کے شاہ عبداللہ نے فون کیا اور متحدہ عرب امارات میں تنصیبات اور شہری علاقوں پر حوثی باغیوں کے حملوں کی مذمت کی۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی شیخ محمد بن زاید کو فون کر کے حملے کی مذمت کی۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/CIjyO

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.