Home / اہم ترین / حیاتِ شمس کے غروب سورج کی روشنی۔بقلم:سلمان عبدالصمد

حیاتِ شمس کے غروب سورج کی روشنی۔بقلم:سلمان عبدالصمد

دو شمس تھے اور دونوں غر وب ہوگئے۔ شمس رمزی اور عبدالقادر شمس!مگر سچ یہ ہے کہ غروب اِن دونوں شمس کی روشنی مجھے اُس وقت تک ملتی رہے گی جب تک کہ میری زندگی کی شام نہ ہوجائے ۔ زندگی کی اِس شام سے پہلے، روشن دن میں بھی جب کبھی مجھے تاریکی نظرآئے گی تو اِن ڈوبے ہوئے شمس سے کسبِ نور کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ تقریباً دوبرس قبل شمس رمزی کے انتقال کے بعد راقم نے لکھا تھا "ایک شمس جو تھا میرے لیے قمر "اور اب " حیاتِ شمس کے غروب سورج کی روشنی "!
عبدالقادر شمس سے کتنی دفعہ ملاقات ہوئی،مجھے یاد نہیں ۔ البتہ پہلی ملاقات یاد ہے اور اس ملاقات سے پہلے کئی مرتبہ فون پر ہونے والی بات بھی ۔ آخری ملاقات اور آخری بات تو اوربھی اچھی طرح یادہے ۔ اِن یادوں کی کڑیوں کو ملانے کے لیے تین فرد کا ذکر بھی لازمی ہے: سعید، خطیب اور عمار ۔ سعید دارالعلوم ندوۃ العلماء میں میرے سینئر، خطیب ہم درس اورعمار میرے جونیئر ہیں ۔ عمار جامعی نے توندوۃ العلماء پہنچنے سے پہلے ندوے کی اُسی شاخ (مدرسہ سیدنا بلال لکھنو) سے تعلیم حاصل کی جس میں مَیں بھی زیر تعلیم تھا ۔ شمس صاحب سے پہلی ملاقات اُس وقت ہوئی جب وہ2012 میں اپنے بیٹے عمار سے ملنے لکھنوَ آئے ۔ان سے بات کچھ یوں شروع ہوگئی تھی کہ ندوے کے زمانے میں ساجد حسین ندوی ( چنئی )، سعید اور میں شریک ِ دستر خوان تھے اورکچے ذہن ودماغ کے ساتھ ہم صحافت پر محوِ گفتگو تھے ۔ اِسی دوران سعید نے ذکر کیا کہ عبدالقادر شمس ان کے ماما ہیں اور ہفت روزہ"عالمی سہارا" کے نائب مدیر بھی ۔ اس ذکر سے پہلے مَیں راشٹریہ سہارا میں گاہے ماہے ان کے کئی کالم پڑھ چکا تھا ۔ البتہ " عالمی سہارا" سے بے خبری تھی ۔ اس وقت تک میرے کئی مراسلات اخبارات میں شائع ہوچکے تھے ۔ بابری مسجد قضیہ کے متعلق 2009 میں لبراہن کمیشن نے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ بھی پیش کردی تھی ۔ اس کے متعلق اواخرِ سال میں ایک خبر آئی کہ کوئی دستاویز غائب ہے اور دو ماہ کے اندر اس کا سراغ لگا لیا جائے گا ۔ 2010کے شروع میں اسی دستاویز اور کمیٹی کے دعویٰ پر میں نے ایک مضمون لکھا تھا "کتنے سال کے ہوں گے یہ دو مہینے" ۔ میں نے اس مضمون میں سوال اٹھایا تھا کہ جس کمیٹی کو تین ماہ میں رپورٹ پیش کرنا تھی اس نے 17برسوں میں اپنا کام مکمل کیا،اب دوماہ میں دستاویز ڈھونڈنے والا دعوی کتنے سال میں پورا ہوگا ۔ عبدالقادر شمس سے بات کرنے کے بعد میں نے اپنا پہلا اخباری کالم " کتنے سال کے ہوں گے یہ دو مہینے " ہفت روزہ "عالمی سہارا" کے لیے بھیج دیا مگر ایک ہفتے کے بعد میرا وہ مضمون سہارا "اُمنگ" کے پہلے صفحے پر شائع ہواجس کی اطلاع میرے ایک جونیئر غفران غازی نے دی تھی ۔ اس کے بعد وقفے سے وقفے سے "عالمی سہارا" میں میرے کئی مضامین شائع ہوئے اور 2012 میں اُن سے ہونے والی ملاقات کے بعد تعلقات میں گہرائی آتی چلی گئی اور تربیت ، رہنمائی اور مشورے کا سلسلہ ان کے انتقال تک جاری رہا ۔
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے فراغت کے بعد مَیں اگست 2012 میں دہلی آیا ۔ دہلی آنے سے کچھ دن پہلے اور کچھ دن بعد تک عبدالقادر شمس سے رابطہ نہیں ہوا تھا ۔ ایک دن راہ چلتے بٹلہ ہاوَ س میں اتفاقیہ ملاقات ہوگئی اور معلوم ہوا کہ میرے " کرایہ خانہ" کے قریب ہی ان کا "غریب خانہ " ہے ۔ غریب خانہ اس لیے کہ ہم جیسے غریبوں کے لیے وہاں آنا جانا آسان تھا اور مشورہ کرنا بھی ۔
ڈاکٹر عبدالقادر شمس کے دنیا سے جانے کے بعد بہت سے نوجوانوں نے بھی اُن سے اپنی قربت کا اظہار کیا ۔ ا س قربت کے بیان میں سو فیصد صداقت نظر آتی ہے ۔ کیوں کہ میری طرح بے شمار نوجوانوں کو وہ نیک مشورے دیا کرتے تھے ۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مشورے کو مشورے کی حدتک نہیں رکھتے بلکہ مشورے کو خواب میں بدلنے کی بھی تلقین کرتے تھے ۔ پھر اس خواب کو شرمندہَ تعبیر کرنے کی تدابیر بھی کیا کرتے تھے ۔ ان کی تدبیروں سے جڑی ایک سے ایک کہانی ہے ۔ ان کے مشوروں کو ان کی تدبیروں نے ہی ایک نرالی شان عطا کی ہے ۔ ورنہ تو دنیا کی سستی چیزوں میں سے " اظہارِ ہمدردی" اور" مشورہ پھینکی" ہیں ۔ فقیروں کی ہتھیلیوں پر ایک روپیہ رکھ بھی ہم "ہمدردیاں " بٹورسکتے ہیں ۔ خالی خولی ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کے جملے اُ ن فقیروں سے کیسے منفر د ومختلف ہوسکتے ہیں ۔رہی بات"تدبیر وتعاون سے عاری مشورے " کی تونہ ڈھو نڈو تو بھی مشورہ دینے والے کروڑ ملتے ہیں ۔
ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی جس طرح لوگوں کو تدبیر سے بھر پور مشورے دیا کرتے تھے،اسی طرح اپنی تحریروں کو تجزیاتی عناصرسے سجاتے تھے اور اَن کہے طور پر سیاسی پارٹیوں اور ملک کے عوام کو ایک سے ایک مشورہ دیتے تھے ۔ تقریباً 25برسوں سے قلم وقرطاس سے ان کا چولی دامن کا ساتھ تھا ۔ ان کے قلم میں تھکن نہیں تھی ۔ تقریباً دوڈھائی برس قبل وہ ایک سڑک حادثے میں حد درجہ متاثر ہوگئے تھے ۔ مہینوں بستر پر پڑے رہے مگر اس زمانے میں بھی لکھتے رہے ۔ کبھی کبھی میں کہتا تھا کہ لکھنا گویا عذاب ہے اور آپ نے مجھے ایک عذاب میں مبتلا کردیا ہے ۔ اگر آپ میری ابتدائی تحریروں میں حوصلہ افزائی کا رنگ نہ بھرتے تو میں اب تک قطعاً نہیں لکھتا ۔ گویا کچی پکی تحریروں میں آپ کا رنگ بھرنا میری زندگی کو عذاب بنانا ہے ۔ کاش! خدا میرے ہاتھوں میں قلم ہی نہیں دیتا ۔ میری زندگی کو قلم کی وجہ سے جہنم بنانے کے آپ ذمے دار ہیں ۔ اللہ آپ کو اس کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گا لیکن آج صرف مَیں ہی نہیں بلکہ آپ بھی کہیں اللہ انھیں غریقِ رحمت کرے ۔ (آمین)ہ میں امید ہے کہ اللہ انھیں قلمی ریاضت اور صحافتی عبادت کی مزدوری عطا کرتے ہوئے اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے گا ۔
وہ خوب قلم چلاتے تھے اور بہت خوب لکھتے تھے ۔ ان کی تحریروں میں جاذبیت تھی ۔ اخبارات میں کبھی کبھی بڑی سرعت سے مضامین لکھنا پڑتا ہے ۔ انھوں نے اس سرعت سے اپنی صحافتی فن کاری کو ایک الگ رنگ دیا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ادھر ملک کی کسی مقتدر شخصیت کا انتقال ہوتا تھا، ادھر شمس صاحب سہارا کے صفحات پر تاثرات وتاریخ سے ملے جلے الفاظ بکھیر دیتے تھے ۔ گویاکبھی کبھی انتقال کی خبر کے ساتھ ساتھ ایک تاثراتی مضمون بھی سہارا میں موجود ہوتا تھا ۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے ان کی اس فن کارانہ صلاحیت کے معترف ہیں ۔
انھوں نے ازہر ہند دارالعلوم دیوبندسے کسبِ فیض کیا تھا اور قاضی مجاہد الاسلام سے تربیت پائی تھی ۔ متعدد کتابیں لکھیں ( جن کے متعلق ان پر بہت سے مضمون لکھنے والوں نے لکھا ۔ میں نے بھی ان کی ایک کتاب پر بھر پور تبصرہ کیا ہے) ۔ اپنے علاقے ( ارریا) میں وہ دعوت القرآن ٹرسٹ کے تحت ادارہ چلاتے تھے ۔ فلاحی اور ملی کاموں میں وہ سرگرم رہتے تھے ۔ وہ کبھی کبھی کہتے تھے کہ لوگوں کی ضرورت بن جانے کوشش ہونی چاہیے جیسے قاضی مجاہد الاسلام، مولانا منت اللہ رحمانی کی ضرورت بن گئے تھے ۔ وہ یہ بھی کہتے تھے زندگی مختصر ہے ۔ اس لیے فقط اسے سوچنے اور غور وفکر میں ضائع نہیں کردینا چاہیے ۔ بقرعیدکے موقع پر جب ان سے میری ملاقات ہوئی تھی تو وہ زندگی کا حساب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ پچاس برس کا ہونے والا ہوں ۔ اپنے علاقے میں کچھ اہم کام کرنا ہے ۔ ان کے کئی خواب تھے مگر ان کے خوابوں پر زندگی کی بے ثباتی غالب آئی ۔
26جولائی 2020کو میں ایک کرم فرما کے گھر پر تھا جو جے این یو سے پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ ہیں اور ایک بڑے سرکاری ادارے سے بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ تمھارے گرو بھی آرہے ہیں ۔ میں نے پوچھا کون گرو ۔کہا " شمس جو میرے بھی گرو ہیں اور تمھارے بھی" ۔ ان کے آنے کے بعد اس نشست میں مختلف حوالوں سے گفتگو ہوتی رہی ۔ اخیر میں انھوں نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بھی رہو شمس کے رابطے میں رہنا ۔ وہ زمین پر کام کرنے کے لیے زمین سے جڑی ہوئی بہت سی باتیں تمھیں بتائیں گے ۔ نوکری مل جائے تو بھی اسے فقط ضرورت سمجھنا اوراپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کو مشن بنانا اور اس مشن کو پروان چڑھانے کے لیے شمس کے تجربات ضرور کام آئیں گے ۔
بقر عید سے عین ایک دن قبل فیض الاسلام فیضی( ڈیزائنر ، پبلشر) کے دفتر میں وہ کچھ ڈیزائن کروارہے تھے ۔ میں بھی اتفاق سے پہنچ گیا ۔ یہاں تو بہت سے ساتھیوں سے اتفاقیہ ملاقات ہوتی رہتی ہے ۔ اس لیے شاید میرے دوست ابو الدردا ندوی نے فیض بھائی کی آفس کا نام "مرکزالاصدقا" رکھ دیا ہے ۔ شمس صاحب بات بات کرتے مجھے اپنے گھر لے گئے ۔ ان کی فیملی کے اراکین گاؤں ( ارریا) گئے ہوئے تھے ۔ اپنے فلیٹ میں وہ تھے ، ان کے داما د اور بھانجے اور میرے ہم درس خطیب حامی ۔ بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی ۔ اسی درمیان کہیں سے کال آئی اور وہ کچھ لکھنے میں مصروف ہوگئے اور اپنے بھانجے کے ساتھ  بکرا خریدنے مجھے بازار بھیج دیا ۔
بقرعید کے بعد ان سے کئی مرتبہ رابطہ ہوا ۔ ان دنوں میری طبیعت خراب ہوگئی تھی اور ان کی بھی ۔ اس لیے ان سے ملنے نہیں گیا ۔ البتہ خطیب حامی سے تقریباً ہردن بات ہوجاتی تھی ۔ شمس صاحب کو میری موجودہ مالی حالت کا علم تھا ۔ اس لیے انھوں نے بقرعید کے بعد تقریبا60ہزار روپے کا کوئی کام مجھے دیا تھا ۔ اسی سلسلے میں ایک دن فون کرکے کہنے لگے کہ ایک نوجوان کو پیسوں کی ضرورت ہے ۔ آپ اپنے اس کام میں ان کو بھی شریک کرلیں ۔ ایک چوتھائی کام وہ بھی کرلیں گے ۔ اس طرح وہ کچھ سیکھیں گے اور کچھ رقم بھی ان کے ہاتھ آجائے گی ۔ یہ میری ان سے آخری بات چیت تھی ۔ اسی درمیان ان کی طبیعت بگڑتی چلی گئی اور میری بگڑنے کے بعد سنبھل گئی ۔ انتقال کے کوئی چار پانچ دن قبل ان کے بیٹے عمار جامعی کی کال آئی کہ والد صاحب کی حالت بہتر نہیں ۔ پلازمے کی ضرورت ہے ۔ اس کے حصول کی کوشش جاری ہے ۔ اگر آپ کے کسی جاننے والے سے پلازمہ مل جائے تو بتائیں ۔ میں نے کہا کہ پلازمہ تو مشکل ہے ۔ اگر نارمل خون کی ضرورت ہوتو ہم جیسے بہت سے لوگ تیار ہوسکتے ہیں ۔ عمار جامعی سے بات چیت کے بعد خطیب حامی اور عبدالباری صدیقی سے ان کی طبیعت کے متعلق بات چیت ہوتی رہی مگر 25اگست تقریبا 1 بجے کے آس پاس ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی کا میسیج آیا کہ عبدالقادر شمس نہیں رہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ان کے انتقال کے بعد یقینا تدبیروں سے بھرپور مشوروں کی کمی کا احساس ہوگا ۔ یہاں تک مذکورہ کام کے متعلق بھی کچھ پتا نہیں کہ یہ کام ان کے پاس کہاں سے آیا اور اب اس کی نوعیت کیا ہوگی ۔ اب بس ان سے جڑی یادیں ہیں جو ہ میں ہمیشہ رہیں گی اورشمس کی زندگی کے غروب سورج سے بھی ہم روشنی حاصل کرتے رہیں گے۔

The short URL of the present article is: http://harpal.in/BCU6R

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے خانے پر* نشان لگا دیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.